30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔
نیز اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ‘‘ (انفال:۴۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ پر توکل کرے تو بیشک اللّٰہ غالب، حکمت والا ہے۔
یعنی ایسا غالب اور عزت والا ہے کہ جو کوئی ا س کی پناہ میں آ جائے وہ ذلیل ورسوا نہیں ہوتا۔ جو اس کی بارگاہِ بے کس پناہ میں پناہ لیتا ہے اور اس کی حمایت میں آ جاتا ہے وہ پَستی کاشکار نہیں ہوتا، وہ ایسا حکیم ہے کہ جو کوئی اس کی تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے اس کی تدبیر میں کوئی کوتاہی نہیں ہوتی۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التوحید والتوکّل، بیان فضیلۃ التوکّل، ۴ / ۳۰۰-۳۰۱)
حضرت ابوتراب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ توکل بدن کو عبودیت میں ڈالنے،دل کو ربوبیّت کے ساتھ متعلق رکھنے ،عطا پر شکر اور مصیبت پر صبر کرنے کا نام ہے۔ (مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۵۶۵)
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاؕ-فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۳) وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ(۱۴)وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ(۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر ہوجاؤ تو انہیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ان ظالموں کو ہلاک کریں گے۔ اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ اس لیے ہے جو میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم ضرور تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ تو ان رسولوں کی طرف ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ اور ضرور ہم ان کے بعد تمہیں زمین میں اِقتدار دیں گے ۔یہ اس کیلئے ہے جو میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے خوفزدہ رہے۔
{وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ:اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا۔} یعنی کافروں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے کہا کہ ہم تمہیں اپنے شہروں اور اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آ جاؤ۔ کافروں کی ان باتوں کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ان کے کاموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے لہٰذاتم ان کی وجہ سے فکر مند نہ ہو۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳ / ۷۷-۷۸)
{وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ:اور ضرور ہم ان کے بعد تمہیں زمین میں اقتدار دیں گے ۔} امام محمد بن جریر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کافروں کے خلاف مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ، جب رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امتیں کفر میں حد سے بڑھ گئیں اور انہوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکواَذِیّتیں پہنچانے کی دھمکیاں دیں تو اللّٰہ تعالیٰ نے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی امتوں میں سے جنہوں نے کفر کیا اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہلاک کر دے گا اور تمہاری مدد فرمائے گا۔ درحقیقت ان آیاتمیں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی قوم کے مشرکین کے لئے وعید ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے خلاف جرأت کرنے سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی سابقہ امتوں کے کافروں جیساہو گا ، اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے ان آیات میں ثابت قدمی کی ترغیب اور ان کی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیّتوں پر صبر کی تلقین ہے کہ جس طرح سابقہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی امتوں کے کفار کی زیادتیوں اور ظلم وستم پر صبر کیا اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بھی اپنی امت کے کفار کی اذیتوں پر صبر فرمائیں ،انجام کار یہ ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کافروں کو ہلاک کر دے گا اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو فتح و نصرت عطا فرمائے گا،سابقہ امتوں میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہی طریقِ کار رہا ہے۔ (تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷ / ۴۲۶)
{ذٰلِكَ لِمَنْ:یہ اس کیلئے ہے جو۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جویہ وحی فرمائی ہے کہ وہ ظالموں کو ہلاک کرنے کے بعد مومنوں کو ان کی سرزمین میں آباد کر دے گا، یہ بشارت اس کے لئے ثابت ہے جو قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے ڈرتا ہو اور اللّٰہ تعالیٰ نے آخرت میں اپنے عذاب کے بارے میں جو بتایا ہے اس سے خوفزدہ ہو، اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہواور اسے ناراض کرنے والے کاموں سے بچتا ہو۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷ / ۷۷، طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷ / ۴۲۶، ملتقطاً)
وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ(۱۵) مِّنْ وَّرَآىٕهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ(۱۶) یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ(۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اور انہوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مُراد ہوا۔ جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا کام ہوگیا۔ جہنم اس کے پیچھے ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ بڑی مشکل سے اس کے تھوڑے تھوڑے گھونٹ لے گا اور ایسا لگے گا نہیں کہ اسے گلے سے اتار لے اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا۔
{وَ اسْتَفْتَحُوْا:اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ جب انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی قوموں کے ایمان قبول کر لینے کی امید نہ رہی تو انہوں نے اللّٰہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع