30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقررہ مدت تک تمہیں مہلت دے۔ انہوں نے کہا: تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو،تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان سے روک دو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں تو تم کوئی واضح دلیل لے کر آؤ۔
{قَالَتْ رُسُلُهُمْ:ان کے رسولوں نے فرمایا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سابقہ قوموں کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جواب دیتے ہوئے فرمایا ’’کیا تم اس اللّٰہ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں شک کر رہے ہو جو زمین و آسمان کا خالق ہے؟ یہ شک کیسے کیا جاسکتا ہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی عقلی اور نقلی دلیلیں تو انتہائی ظاہر ہیں ۔ وہ تمہیں اپنی اطاعت اور ایمان کی طرف بلاتا ہے تاکہجب تم ایمان لے آؤ توحقوق العباد کے علاوہ تمہارے سابقہ گناہوں کو بخش دے اور تمہاری مقررہ مدت پوری ہونے تک تمہیں عذاب کے بغیر زندگی کی مہلت دے۔ قوموں نے جواب دیا ’’تم تو ظاہر میں ہمیں اپنی مثل معلوم ہوتے ہو، پھر کیسے مانا جائے کہ ہم تو نبی نہ ہوئے اور تمہیں یہ فضیلت مل گئی۔ تم اپنی باتوں سے یہ چاہتے ہو کہ ہم ان بتوں کی عبادت کرنے سے رک جائیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں ۔ تم کوئی واضح دلیل لے کر آؤ جس سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو۔ ان کا یہ کلام عناد اورسرکشی کی وجہ سے تھا اور باوجود یہ کہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نشانیاں لاچکے تھے ، معجزات دکھا چکے تھے پھر بھی انہوں نے نئی دلیل مانگی اور پیش کئے ہوئے معجزات کو کالعدم قرار دیا۔(جلالین مع صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳ / ۱۰۱۶-۱۰۱۷، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳ / ۷۶-۷۷، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۵۶۵، ملتقطاً)
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللّٰہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللّٰہ کے حکم سے اور مسلمانوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کے رسولوں نے ان سے فرمایا: ہم تمہارے جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللّٰہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم اللّٰہ کے حکم کے بغیر کوئی دلیل تمہارے پاس لے آئیں اور مسلمانوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
{قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ:ان کے رسولوں نے ان سے فرمایا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کافروں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے یہ کہا کہ تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو، تو رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جواب دیا ’’ اچھا یہی مانو کہ ہم واقعی تمہارے جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور نبوت و رسالت کے ساتھ اسے برگزیدہ کرتا ہے اور اِس منصبِ عظیم کے ساتھ مشرف فرماتا ہے اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہم اپنی صداقت پر دلالت کرنے والی کوئی دلیل اور معجزہ تمہارے پاس لے آئیں اور مسلمانوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے، وہی دشمنوں کے شر دور کرتا اور اس سے محفوظ رکھتا ہے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳ / ۷۷)
وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَاؕ-وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَاؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠(۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمیں کیا ہوا کہ اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھادیں اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے تو ہمیں ہماری راہیں دکھائی ہیں اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔
{وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ:اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں ۔} یعنی ہم سے ایسا ہو نہیں سکتا کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ قضائے الہٰی میں ہے وہی ہوگا ،ہمیں اس پر پورا بھروسہ اور کامل اعتماد ہے۔ اس نے تو ہمیں ہماری سعادت کی راہیں دکھائیں اور رُشد و نجات کے طریقے ہم پر واضح فرمادیئے اور ہم جانتے ہیں کہ تمام اُمور اس کے قدرت و اختیار میں ہیں ۔خدا کی قسم! تم اپنی باتوں اور عملوں سے جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳ / ۷۷)
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ توکل کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ‘‘( طلاق:۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
اور ارشادِ ربّانی ہے
’’اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ‘‘ (ال عمران:۱۵۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک اللّٰہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
تو وہ مقام کتنا عظیم ہے جس پر فائز شخص کو اللّٰہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو اورا س کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کفایت کی ضَمان بھی حاصل ہو،تو جس شخص کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کفایت فرمائے،اس سے محبت کرے اور اس کی رعایت فرمائے اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی کیونکہ جو محبوب ہوتا ہے اسے نہ تو عذاب ہوتاہے،نہ دوری ہوتی ہے اور نہ ہی وہ پردے میں ہوتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع