30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ناپ مکمل کرتا ہوں اور اس میں کوئی کمی نہیں کرتا ،اگرتم اس کو لے آؤ گے تو ایک اونٹ غلہ اس کے حصہ کا اور زیادہ دوں گا اور کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں ، اور اگر تم اس بھائی کو میرے پاس نہیں لاؤ گے جو تمہارے والد کے پاس موجود ہے تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی غلہ نہیں اور نہ تم غلہ حاصل کرنے کے لئے میرے قریب پھٹکنا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۹-۶۰، ۳ / ۲۹-۳۰۔)
{ قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائیوں نے کہا: ہم اس کے باپ سے اس کے متعلق ضرور مطالبہ کریں گے اور خوب کوشش کریں گے یہاں تک کہ ہم اسے لے آئیں اور بیشک ہم ضرور یہ کام کریں گے جس کا آپ نے ہمیں حکم دیاہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۱، ۳ / ۳۰)
وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خرجیوں میں رکھ دو شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں شاید وہ واپس آئیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور یوسف نے اپنے غلاموں سے فرمایا: ان کی رقم (بھی) ان کی بوریوں میں واپس رکھ دو تاکہ جب یہ اپنے گھر واپس لوٹ کر جائیں تو اسے پہچان لیں تاکہ یہ واپس آئیں۔
{وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ:اور اپنے غلاموں سے فرمایا۔} یعنی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ ان لوگوں نے غلے کی جو قیمت دی ہے ، غلے کے ساتھ ساتھ وہ رقم بھی ان کی بوریوں میں واپس رکھ دو تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی جمع شدہ رقم انہیں مل جائے اور قحط کے زمانے میں کام آئے ،نیز یہ رقم پوشیدہ طور پر اُن کے پاس پہنچے تاکہ اُنہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے اُن کی رغبت کا باعث بھی ہو۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۳۰، ملخصاً)
ضرورت کے وقت رشتہ داروں کی مدد کرنے کی ترغیب:
اس سے معلوم ہوا کہ جب رشتہ داروں کو کسی چیز کی حاجت اور ضرورت ہو تواس میں ان کی مدد کرنی چاہئے ، قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں باقاعدہ اس کی ترغیب بھی دی گئی ہے ،چنانچہ رشتہ داروں کو دینے سے متعلق اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(نحل:۹۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک اللّٰہ عدل اور احسان اور رشتےداروں کو دینے کا حکم فرماتا ہے اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو دینار تو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے اور جو دینار تو (غلام کی) گردن آزاد کرنے میں خرچ کرے اور جو دینار تو کسی مسکین پر صدقہ کرے اور جو دینار تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ان سب میں زیادہ ثواب اس کا ہے جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۔( مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ علی العیال والمملوک۔۔۔ الخ، ص۴۹۹، الحدیث: ۳۹(۹۹۵))
حضرت سلمان بن عامررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہی صدقہ اپنے رشتہ دار پر کرنا دو صدقے ہیں ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔ (ترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ علی ذی القرابۃ، ۲ / ۱۴۲، الحدیث: ۶۵۸۔)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے اُمتِ محمد! قسم ہے اُس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اللّٰہ تعالیٰ اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا، جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کرنے کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے، قسم ہے اُس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا۔ (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ مقدام، ۶ / ۲۹۶، الحدیث: ۸۸۲۸)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ضرورت مند رشتہ داروں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
رشتہ داروں کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ :
اس سے یہ بھی معلوم ہو اکہ کسی رشتہ دار کی مالی یا کوئی اور مدد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس انداز میں اس تک رقم یا کوئی اور چیز پہنچائی جائے جس میں اسے لیتے ہوئے شرم بھی محسوس نہ ہو اور اس کی غیرت و خودداری پربھی کوئی حرف نہ آئے۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’سات شخص ہیں ، جن پر اللّٰہ تعالیٰ اس دن سایہ کرے گا جس دن اُس کے (عرش کے) سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (ان میں سے ایک) وہ شخص ہے جس نے کچھ صدقہ کیا اور اسے اتنا چھپایا کہ بائیں کو بھی خبر نہ ہوئی کہ دائیں نے کیا خرچ کیا۔( بخاری، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ۔۔۔ الخ، ۱ / ۲۳۶، الحدیث: ۶۶۰)
حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اپنے شاگرد پر خفیہ احسان:
ہمارے بزرگانِ دین اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کی امداد کس طرح کیا کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن مبارَک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکثر ’’طَرَسُوْس‘‘ کی طرف جاتے اور وہاں ایک مسافر خانے میں ٹھہرتے، ایک نوجوان آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہو کر حدیث سنا کرتا، جب بھی آپ ’’رِقَّہ‘‘ (نامی شہر میں ) تشریف لاتے تووہ نوجوان حاضرِ خدمت ہوجاتا ۔ ایک مرتبہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ’’رِقَّہ‘‘ پہنچے تو اس نوجوان کو نہ پایا۔ اس وقت آپ جلدی میں تھے کیونکہ مسلمانوں کا ایک لشکر جہاد کے لئے گیا ہوا تھا اور آپ بھی اس میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (اس کی معلومات کرنے کی بجائے) لشکرمیں شامل ہوگئے ۔اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ غازی بن کر واپس طَرَسُوْس آئے اور ’’رِقَّہ‘‘ پہنچ کر اپنے اس نوجوان شاگرد کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا کہ نوجوان مقروض تھا اور ا س کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ قرض ادا کرتا لہٰذا قرض ادانہ کرنے کی وجہ سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا: ’’ میرے اس نوجوان شاگرد پر کتنا قرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع