دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

آیت میں  حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے عمل سے اسی کو واضح فرمایا ہے۔ اسی سے مسلمانوں  کا نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادتِ مبارکہ کا جشن منانا بھی ثابت ہوتا ہے کہ اَیَّامُ اللّٰہ میں  سب سے بڑی نعمت کا دن سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کا دن ہے ، لہٰذا اس کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں  داخل ہے اسی طرح اور بزرگوں  پر جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں  ہوئیں  یا جن ایام میں  عظیم واقعات پیش آئے ان کی یادگار یں  قائم کرنا بھی اللّٰہ تعالیٰ کے دن یاد دلانے میں  داخل ہے۔

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:بیشک اس میں  ہر بڑے صبرکرنے والے ،شکر گزار کیلئے نشانیاں  ہیں  ۔} یعنی بیشک ان اَیَّامُ اللّٰہ میں  ہر اس شخص کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  ہیں  جو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور مصیبتوں  پر بڑا صبرکرنے والا اور اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  پر بڑا شکر گزار ہے ۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۳۹۸)

مسلمانوں  کو صبر و شکر کی نصیحت:

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں  اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زندگی میں  اگر اس پر ایساوقت آئے جو ا س کی طبیعت کے مطابق اور اس کے ارادے کے موافق ہو تو وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر کرے اور اگر ایساوقت آئے جو اس کی طبیعت کے مطابق نہ ہو تو صبر کرے۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۷ / ۶۵) اور حضرت صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مسلمان مرد پر تعجب ہے کہ اس کے سارے کام خیر ہیں  ، یہ بات مومن مرد کے سوا کسی کو حاصل نہیں  ہوتی کہ اگر اسے راحت پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے لہٰذا اس کے لیے راحت خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے لہٰذا صبر اس کے لیے بہتر ہے۔ (مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلّہ خیر، ص۱۵۹۸، الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹))

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  عافیت عطا فرمائے اور اگر کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرنے اور جب راحت ملے تو شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا یاد کرو اپنے اوپر اللّٰہ کا احسان جب اس نے تمہیں  فرعون والوں  سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں  کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں  زندہ رکھتے اور اس میں  تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اپنے اوپر اللّٰہ کا احسان یاد کرو جب اس نے تمہیں  فرعونیوں  سے نجات دی جو تمہیں  بری سزا دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں  کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں  کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں  تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

{وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کو یہ ارشاد فرمانا اللّٰہ تعالیٰ کے دن یاد دلانے کے حکم کی تعمیل ہے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۷۵)

            نوٹ:یاد رہے کہ بنی اسرائیل کی فرعونیوں  سے نجات کی تفصیل سورہ ٔبقرہ کی آیت 49 کے تحت گزر چکی ہے۔

آیت’’ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

             اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… مسلمانوں  پر کافر اور ظالم حکمرانوں کا تَسَلط ہونا اللّٰہ تعالیٰ کا دنیوی عذاب اور ہمارے برے اعمال کا نتیجہ ہے جبکہ اچھے حکمران رب تعالیٰ کی رحمت اور نیک اعمال کا نتیجہ ہیں  ۔

(2)… کافر و ظالم کی ہلاکت، اس کی موت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ہے جیسے علماء وصالحین کی وفات ہمارے لئے مصیبت ہے۔ ظالم کی موت پر خوشی کرنا اچھا ہے۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷)وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں  تمہیں  اور دوں  گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے۔ اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں  جتنے ہیں  سب کا فر ہوجاؤ تو بیشک اللّٰہ بے پرواہ سب خوبیوں  والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں  تمہیں  اور زیادہ عطا کروں  گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔اور موسیٰ نے فرمایا: (اے لوگو!) اگر تم اور زمین میں  جتنے لوگ ہیں  سب ناشکرے ہوجاؤتو بیشک اللّٰہ بے پرواہ ،خوبیوں  والا ہے۔

{لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ: اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں  تمہیں  اور زیادہ عطا کروں  گا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم اپنی نجات اور دشمن کی ہلاکت کی نعمت پر میرا شکر ادا کرو گے اور ایمان و عملِ صالح پر ثابت قدم رہو گے تو میں  تمہیں  اور زیادہ نعمتیں  عطا کروں  گا اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعے میری نعمت کی ناشکری کرو گے تو میں  تمہیں  سخت عذاب دوں  گا۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۳۹۹-۴۰۰)

شکر کی حقیقت:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے۔ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ نعمت دینے والے کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اور نفس کو اِس چیز کا عادی بنائے۔ یہاں  ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ بندہ جب اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم اور احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں  مشغول ہوتا ہے ،اس سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن