30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرتم مکروہ کروگے تو عوام حرام میں پڑیں گے، اگرتم حرام کے مرتکب ہوگے توعوام کفرمیں مبتلا ہوں گے۔ یہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں ’’بھائیو!لِلّٰہِاپنے اوپر رحم کرو، اپنے اوپر رحم نہیں کرنا چاہتے تو اُمتِ مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پررحم کرو۔ چرواہے کہلاتے ہو، بھیڑئیے نہ بنو۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۱۳۲-۱۳۳، ملخصاً)
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ-فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے پھراللّٰہ گمراہ کرتا ہےجسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے اور وہی عزت حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان کے ساتھ ہی بھیجا تاکہ وہ انہیں واضح کرکے بتادے ، پھر اللّٰہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہ دکھاتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی عزت والا، حکمت والا ہے۔
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ:اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان کے ساتھ ہی بھیجا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ سے پہلے گزشتہ امتوں میں جتنے رسول بھیجے وہ ان لوگوں کی زبان میں ہی کلام کرتے تھے تاکہ انہیں جو اَحکامات دئیے گئے وہ ترجمے کے بغیر ہی آسانی سے اور جلدی سمجھ جائیں اور ان احکامات کے مطابق عمل کر سکیں ۔ (ابو سعود، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۱۷۶)
آیت میں مذکور لفظ ’’رَسُوْلٍ‘‘ میں حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور ان کے علاوہ تمام اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام داخل ہیں ۔ یعنی ہر رسول کواس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
قرآنِ مجید کو صرف عربی زبان میں ہی کیوں نازل کیا گیا:
نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتمام مخلوق کے رسول ہیں لیکن قرآن کو ہرزبان میں نازل نہیں کیا گیا کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں زبانیں ہر زمانے میں بولی جاتی رہی ہیں تو قرآن کو ہر زبان میں ناز ل کرنا کئی اور طرح کی پیچیدگیوں کا باعث ہوتا لہٰذا اس وقت کی روئے زمین کی سب سے مرکزی اور مُطلقاً فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ زبان یعنی عربی میں قرآن پاک کو نازل کیا گیا تاکہ رسولِ عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَقرآن پاک کی اپنے قول و عمل سے بہترین تشریح فرمادیں اور پھرا ٓپ کی امت دنیا بھر کی زبانوں میں ان تعلیمات کو منتقل کردے۔
{فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ:پھراللّٰہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے۔} یعنی رسول کی ذمہ داری صرف تبلیغ کر دینا اور احکام پہنچا دینا ہے جبکہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللّٰہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے،وہی غالب ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں ہو سکتا،وہی اپنے کاموں میں حکمت والا ہے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۷۴)
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِ جْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے اجالے میں لا اور انہیں اللّٰہ کے دن یا د دِلا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے شکر گزار کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ اور انہیں اللّٰہ کے دن یا د دلاؤ۔ بیشک اس میں ہر بڑے صبرکرنے والے ،شکر گزار کیلئے نشانیاں ہیں ۔
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا:اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا ۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو لوگوں کی طرف ا س لئے بھیجا تاکہ آپ ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں ۔ اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کی قوم کو عطا فرمائے تھے اور اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرما یا کہ جب اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قوموں کی طرف بھیجا تو ان لوگوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تاکہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیّتوں پر صبر فرمائیں اور انہیں یہ بتا دیا جائے کہ سابقہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے درمیان کس قسم کا معاملہ ہوا تھا،اسی سلسلے میں اللّٰہتعالیٰ نے بعض انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے ان میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۷ / ۶۴)
یاد رہے کہ آیت میں مذکور نشانیوں سے وہ معجزات مراد ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدے کر بھیجے گئے تھے جیسے عَصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا اوردریا کا پھٹ جانا وغیرہ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۷۴)
{اَنْ اَخْرِ جْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ:کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ۔} اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بعثت کا مقصد ایک ہی ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق کو کفر کے اندھیروں سے ہدایت اور ایمان کی روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں ۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۷ / ۶۴)
{وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ:اور انہیں اللّٰہ کے دن یا د دلاؤ۔} قاموس میں ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے دنوں سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں مراد ہیں ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس، حضرت اُبی بن کعب ،امام مجاہد اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے بھی اَیَّامُ اللّٰہ کی تفسیر ’’اللّٰہ کی نعمتیں ‘‘ فرمائی ہے۔ مقاتل کا قول ہے کہ اَیَّامُ اللّٰہ سے وہ بڑے بڑے واقعات مراد ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم سے واقع ہوئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اَیَّامُ اللّٰہ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَن و سَلویٰ اُتارنے کا دن ،حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۷۵، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ص۵۶۳، ملتقطاً)بظاہر نعمت ِ الہٰی ملنے کے اَیّام والا معنی زیادہ قوی ہے کہ اگلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع