30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف لاؤ جو عزت والا، سب خوبیوں والاہے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۷۳-۷۴، ملخصاً)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ظُلُمَاتْ کو جمع اور نُوْر کوواحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ دینِ حق کی راہ ایک ہے اور کفر و گمراہی کے راستے کثیر ہیں ۔(تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱، ۷ / ۵۸)
ایمان اور ہدایت کا نور عطا کرنے والے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم سے لوگوں کو ظلمت ِکفر سے نکال کرایمان کی روشنی میں داخل کرتے ہیں ، کوئی شخص صرف قرآن سے بغیر حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واسطے ہدایت نہیں پا سکتا ۔نورِ ہدایت کا ذریعہ صرف حضور اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔
اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِ ﹰ ۙ(۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ جس کی ملکیت میں ہر وہ چیز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور کافروں کیلئے ایک سخت عذاب کی خرابی ہے ۔
{اَللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ:اللّٰہجس کی ملکیت میں ہے} یعنی اس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے راستے کی طرف لاؤ جو عزت والا، سب خوبیوں والا ہے، ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے وہ سب کا خالق و مالک ہے، سب اس کے بندے اور مملوک ہیں تو اس کی عبادت سب پر لازم ہے اور اس کے سوا کسی کی عبادت روا نہیں اور جنہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت چھوڑ کر ان بتوں کی عبادت کرنا شروع کر دی جو کسی چیز کے مالک ہی نہیں بلکہ وہ خود مملوک ہیں تو آخرت میں ان کے لئے سخت عذاب تیار کیا گیا ہے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۷۴)
الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۳)
ترجمۂ کنزالایمان: جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللّٰہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللّٰہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں ۔
{اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا:جو دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔} اس آیت میں ان کفار کے چند اوصاف بیان کئے گئے ہیں جنہیں ا س سے پہلی آیت میں آخرت کے شدید عذاب کی وعید سنائی گئی، چنانچہ فرمایا گیا کہ وہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اسے اُخروی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں ، لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا دین قبول کرنے سے روکتے ہیں اور دین میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں ۔
دین میں ٹیڑھا پن تلاش کرنے کی صورتیں :
دین میں ٹیڑھا پن تلاش کرنے کی دوصورتیں ہیں ، ایک یہ کہ لوگوں کو سیدھا راستہ اختیار کرنے سے روک دینا ۔ دوسری یہ کہ حق مذہب کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالنے کی اور جس قدر ہو سکے حیلوں وغیرہ کا سہارا لے کر حق مذہب میں برائیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرنا۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳، ۷ / ۶۰)
علم کا لبادہ اوڑھ کر حق مذہب سے بھٹکانے والے عبرت پکڑیں :
اس سے معلوم ہوا کہ جو آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں وہ عملی طور پرگمراہ ہیں اور جو لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے راستے اور دین سے روکتے ہیں وہ گمراہ کرنے والے ہیں ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جو شخص بھی دنیا کی زیب و زینت اورا س کی رنگینیوں کو آخرت کی نعمتوں پر ترجیح دے اور آخرت کی بجائے دنیا میں ہی رہنے کو پسند کرے اورحضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لائے ہوئے دین سے لوگوں کو روکے تو وہ اس آیت کے عموم میں داخل ہے ، وہ خود گمراہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔(قرطبی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳،۵ / ۲۳۹، الجزء التاسع)
اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو علم کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو مذہب ِحق سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور دین میں نئے نئے مذہب نکال کر امت کی وحدت کا شیرازہ بکھیرنے کی سعی کر رہے ہیں ۔ حضرت زیاد بن حُدَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’ تم جانتے ہو کہ اسلام کو کیاچیز تباہ کرے گی؟ میں نے کہا: نہیں ۔ ارشاد فرمایا کہ ’’اسلام کو عالِم کی لغزش ،منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی۔ (سنن دارمی، باب فی کراہیۃ اخذ الرأی، ۱ / ۸۲، الحدیث: ۲۱۴)
حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف قوم کے ان پیشواؤں اور سربراہوں سے ہے جو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ (جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۱۳۳، الحدیث: ۲۱۹۰)
علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نقل کرتے ہیں کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی امت کی اصلاح پر بہت حریص اور امت کی مستقل بھلائی کی رغبت رکھتے تھے اس لئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی امت پر قوم کے گمراہ کن سرداروں کی وجہ سے فکرمند رہتے تھے ۔ قوم کے پیشواؤں اور سربراہوں کی گمراہی نظام کو خراب کر دیتی ہے کیونکہ یہ لوگ قوم کے قائدین ہوتے ہیں اور جب یہ گمراہ ہوں گے تو قوم بھی گمراہی میں مبتلا ہو گی، اسی طرح جب علماء میں بھی گمراہیاں ہوں گی تو عوام کا ایک بہت بڑا حصہ گمراہی کا شکار ہو جائے گا۔ (فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲ / ۵۳۱، تحت الحدیث: ۲۱۹۰)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں ’’ائمۂ دین فرماتے ہیں ’’اے گروہِ علماء ! اگرتم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکو گے تو عوام مکروہات پرگریں گے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع