دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

فرمانا ہے اور صرف یہی آپ کی ذمہ داری ہے ، بقیہ قیامت کے دن ان کا حساب لینا اور ان کے اعمال کی جزا دینا یہ ہمارے ذمے ہے لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں  کے اِعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں  اور ان کے عذاب کی جلدی نہ کریں ۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳ / ۷۱، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۵۶۰، ملتقطاً)

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ-وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖؕ-وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا انہیں  نہیں  سوجھتا کہ ہم ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں  اور اللّٰہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں  اور اسے حساب لیتے دیر نہیں  لگتی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیایہ کافر دیکھتے نہیں  کہ ہم ہر طرف سے ان کی زمین کم کر رہے ہیں  اور اللّٰہ حکم فرماتا ہے، اس کے حکم کو کوئی پیچھے کرنے والا نہیں  اور وہ بہت جلد حساب لے لیتا ہے۔

{اَوَ لَمْ یَرَوْا:کیایہ کافر دیکھتے نہیں ۔} یعنی جن کفارِ مکہ نے سرورِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نشانیاں  دکھانے کا مطالبہ کیاہے ، کیا وہ دیکھتے نہیں  ہم ہر طرف سے ان کی آبادیاں  کم کرتے آ رہے ہیں   اور شرک کی زمین کی وسعت مسلسل کم کررہے ہیں  اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے کفار کے گردو پیش کی اَراضی یکے بعد دیگرے فتح ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد فرماتا ہے اور اُن کے لشکر کو فتح مند کرتا ہے اور اُن کے دین کو غلبہ دیتا ہے۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کا حکم نافذ ہے، کسی کی مجال نہیں  کہ اس میں  چوں  چِرا، یا کوئی تبدیلی کرسکے ۔جب وہ اسلا م کو غلبہ دینا اور کفر کو پَست کرنا چاہے تو کس کی تاب و مجال ہے کہ اس کے حکم میں  دخل دے سکے اور وہ جس کا محاسبہ کرنا چاہے تو اس سے بہت جلد حساب لے لیتا ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳ / ۷۱-۷۲، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۵۶۰، ملتقطاً)

اللّٰہ تعالٰی کی اطاعت سے منہ موڑنا بربادی کا سبب ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا دنیا میں  بھی بربادی لاتا ہے اورنافرمانوں  پر زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس میں  مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی عبرت ہے کہ جب مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری پر مضبوطی سے قائم ہوئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں  زمین میں  غلبہ و اِقتدار عطا فرمایا اور مسلمان زمین کی وسعتوں  پر چھا گئے اور جب مسلمانوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری سے منہ موڑا تو ان کی آبادیاں  بھی ہر طرف کم ہونے لگ گئیں  اور اسلامی سرزمین کی وسعت رفتہ رفتہ کم ہو نے لگ گئی ،کفار نے مسلمانوں  کی بے عملی، بے اتفاقی اور داخلی اِنتشار واِفتراق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے مفتوحہ علاقے چھین لئے اور وہاں  بسنے والے مسلمانوں  کو دینِ اسلام چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا اور جنہوں  نے دینِ اسلام کو چھوڑنے سے انکار کیا توانہیں  طرح طرح کی اَذِیَّتیں  دے کر شہید کر دیا یا اس سرزمین سے ہی نکال دیا۔ افسوس! آج بھی مسلمان اسی روش پر چلتے اور اپنی سابقہ تاریخ سے عبرت پکڑنےکی بجائے اسے ہی دوبارہ دہراتے نظر آ رہے ہیں ۔ حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’اس امت میں  پانچ مخصوص لوگوں  کی طرف سے فساد آئے گا۔ (1) علماء۔ (2) مجاہدین۔ (3) زُہاد۔ (4) تُجار۔ (5) حکمران۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں ، زہاد زمین کے ستون ہیں ، مجاہدین زمین میں  اللّٰہ تعالیٰ کے لشکر ہیں ، تجار امت میں  اللّٰہ تعالیٰ کے امین ہیں  اور حکمران چرواہے ہیں  تو جب عالم، دین کو نیچے اور مال کو اوپر رکھے گا تو پھر جاہل کس کی پیروی کرے گا اور جب زاہد، دنیا کی طرف راغب ہوگا تو توبہ کرنے والا کس کی پیروی کرے گا اور جب غازی لالچ میں  پڑ جائے گا تو وہ دشمن پر کامیابی کیسے حاصل کرے گا اور جب تاجر خیانت کرنے لگے گا تو امانت کیسے حاصل ہو گی اور جب چرواہا ہی بھیڑیا بن جائے گا تو چرنے والے کیسے ملیں  گے۔ (روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴ / ۳۸۹)

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًاؕ -یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍؕ- وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان:اور ان سے اگلے فریب کرچکے ہیں  تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللّٰہ ہی ہے جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے اور اب جاننا چاہتے ہیں  کافر کسے ملتا ہے پچھلا گھر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں  تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللّٰہ ہی ہے ۔وہ جانتا ہے جو کچھ کوئی جان عمل کمائے اور عنقریب کافر جان لیں  گے کہ آخرت کا اچھا انجام کس کے لئے ہے؟

{وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں ۔} اس آیت میں  رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مشرکینِ مکہ سے پہلے گزری ہوئی اُمتوں  کے کفار اپنے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کرچکے ہیں  جیسے نمرود نے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ، فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ اور یہودیوں  نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کیا اوران مقابلوں  میں  ہر طرح کی چالیں  چلیں  لیکن پھر بھی ناکام و نامراد ہوئے کیونکہ اصل تدبیر کا مالک تواللّٰہ تعالیٰ ہی ہے  پھر اس کی مشیت کے بغیرکسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ۔ 

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًاؕ-قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافر کہتے ہیں  تم رسول نہیں  تم فرماؤ اللّٰہ گواہ کافی ہے مجھ میں  اور تم میں  اور وہ جسے کتاب کا علم ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر کہتے ہیں : تم رسول نہیں  ہو۔ تم فرماؤ: میرے اور تمہارے درمیان اللّٰہ کافی گواہ ہے اور ہر وہ آدمی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

{وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اور کافر کہتے ہیں ۔} جب کفار نے حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہونے کا انکار کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی نبوت کا انکار کرنے والے کافروں  سے فرما دیں  کہ میرے اور تمہارے درمیان اللّٰہ تعالیٰ گواہ کافی ہے جس نے میرے ہاتھوں  میں  غالب کر دینے والے معجزات اورنشانیاں  ظاہر فرمائیں  اور ان کے ذریعے میرے نبی ہونے کی شہادت دی نیز میری نبوت پر ہر اُس آدمی کی گواہی کافی ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے خواہ وہ یہودیوں  کے علماء میں  سے توریت کا جاننے والا ہو یا عیسائیوں  میں  سے انجیل کا عالم ،وہنبیٔ  کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کو اپنی کتابوں  میں  دیکھ کر جانتا ہے، اِن علماء میں  سے اکثر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رسالت کی گواہی دیتے ہیں ۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳ / ۷۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن