دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے انسان ہونے کی وجہ سے ان کی نبوت پر اعتراض کیوں  ہے۔

            دوسرا اعتراض:اگریہ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو کثیر عورتوں  سے نکاح نہ کرتے بلکہ عورتوں  سے اِعراض کر کے زُہد کی حالت میں  زندگی گزارتے۔ اس کا یہ جواب دیا گیا کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے جتنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامگزرے ہیں  ان میں  سے اکثر کی کثیر بیویاں  اور اولاد تھی۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی 300 بیویاں  اور 700 باندیاں  تھیں ۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی100 بیویاں  تھیں ۔ جب بیویوں کی اتنی کثیر تعداد کے باوجود ان کی نبوت میں  کوئی فرق نہیں  پڑا تو حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چند اَزواجِ مُطہرات  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی وجہ سے ان کی نبوت میں  کیسے فرق آ سکتا ہے۔

            تیسرا اعتراض: اگر یہ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں  تو پھر ہم ان سے جو معجزہ بھی طلب کریں  تو وہ انہیں  دکھانا چاہئے تھا، لہٰذا جب معاملہ ا س کے برخلاف نظر آیا تو ہم نے جان لیا کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول نہیں ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ دلیل دینے اور عذر زائل کرنے کے لئے ایک معجزہ دکھا دینا ہی کافی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ معجزات دکھانا اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر موقوف ہے، اگر وہ چاہے تو زیادہ معجزات ظاہر فرما دے اور چاہے تو ظاہر نہ فرمائے لہٰذا س پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ۔

            چوتھا اعتراض: حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کفار کواس بات سے ڈرایا تھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے کفار پرعذاب نازل ہو گا اور مسلمانوں  کی مدد کی جائے گی، لیکن جب وہ عذاب مُؤخر ہوا اورا س کی کوئی نشانی کفار کو نظر نہ آئی تو نبیٔ  کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت میں  طعن کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر یہ سچے نبی ہوتے تو ان کا جھوٹ ظاہر نہ ہوتا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ کفار پر عذاب نازل ہونا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے مقبول بندوں  کے لئے فتح و نصرت کا ظاہر ہونا اللّٰہ تعالیٰ نے مُعَیَّن اوقات کے ساتھ خاص فرما دیا ہے اور ہر نئے ہونے والے کام کا ایک وقت معین ہے لہٰذا مخصوص وقت آنے سے پہلے وہ نیا کا م ظاہر نہ ہو گا۔ جب اصل بات یہ ہے تو وعیدوں  کے مؤخر ہونے کی وجہ سے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا کِذب کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۷ / ۴۹-۵۰، صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۱۰۰۹-۱۰۱۰، ملتقطاً)

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان:اللّٰہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللّٰہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔

{یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ:اللّٰہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے۔} حضرت سعید بن جبیر اور حضرت قتادہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے اور جنہیں  چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ بندوں  کے گناہوں  میں  سے اللّٰہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مغفرت فرما کر مٹادیتا ہے اور جوچاہتا ہے ثابت رکھتا ہے۔ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ توبہ سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں  قائم فرماتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں  ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال ہیں ۔( خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۷۰-۷۱)

{وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ:اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔} ایک قول یہ ہے کہ آیت میں  مذکور اُمُّ الکتاب سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کا علم ہے جو کہ اَزل سے ہی ہر چیز کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے  ۔دوسرا قول یہ ہے کہ اُمُّ الکتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے جس میں  تمام کائنات اور عالَم میں  ہونے والے جملہ حوادِث و واقعات اور تمام اَشیا لکھی ہوئی ہیں  اور اس میں  کوئی تبدیلی نہیں  ہوتی۔ (صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۱۰۱۰، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۵۶۰، ملتقطاً)

سعادت مندی کی فکر:

            ہمارے بزرگانِ دین نیک اعمال کی کثرت کے باوجود اپنی سعادت مندی اور بد بختی سے متعلق بہت فکر مند رہا کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابو عثمان نہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں  :حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، میں  نے انہیں  یہ کہتے ہوئے سنا’’اے اللّٰہ! اگر تو نے مجھے سعادت مندوں  میں  لکھا ہے تو مجھے ان میں  برقرار رکھ اور اگر مجھے بد بختوں  میں  لکھا ہے تو میرا نام (بد بختوں  کی فہرست سے) مٹا دے اور مجھے سعادت مندوں  میں  لکھ دے، کیونکہ تو جو چاہے مٹاتا ہے اور جو چاہے برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا تیرے ہی پاس ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاذکار، قسم الافعال، الادعیۃ المطلقۃ، ۱ / ۲۸۶، روایت نمبر: ۵۰۴۲)

            حضرت اعمش رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میں  نے حضرت شقیق رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو اس طرح کہتے ہوئے سنا کہ’’ اے اللّٰہ! اگر تو نے ہمیں  اپنے پاس بدبختوں  میں  لکھا ہے تو ہمارا نام وہاں  سے مٹا دے اور ہمیں  سعادت مندوں  میں  لکھ دے اور اگر تو نے ہمیں  سعادت مندوں  میں  لکھا ہے تو ہمیں  اس پر برقرار رکھ کیونکہ تو جو چاہے مٹاتا ہے اور جو چاہے برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا تیرے ہی پاس ہے۔ (المطالب العالیہ، کتاب التفسیر، سورۃ الرعد، ۸ / ۲۴۷، روایت نمبر: ۳۷۳۶)

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  بھی اپنی سعادت مندی کی فکر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ،اٰمین۔

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر ہمیں  تمہیں  دکھا دیں  کوئی وعدہ جو انہیں  دیا جاتا ہے یا پہلے ہی اپنے پاس بلائیں  تو بہر حال تم پر تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اے حبیب!) اگر ہم تمہیں  کوئی وعدہ دکھا د یں جو ہم ان سے کررہے ہیں  یاہم تمہیں  پہلے ہی وفات دیدیں  تو آپ پر توبہرحال تبلیغ کرنا لازم ہے اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔

{وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ:اور اگر ہم تمہیں  دکھا د یں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم کافروں  کوعذاب دینے کا جو وعدہ کر رہے ہیں  ،اس میں  سے کوئی وعدہ آپ کو آپ کی زندگی میں  ہی دکھا دیں  یا وہ وعدہ دکھانے سے پہلے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وفات دے دیں  تو دونوں  صورتیں  ممکن ہیں  لیکن آپ کی ذمہ داری بہرحال تبلیغ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن