30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انجیل ہے اور جنہیں کتاب دی گئی ان سے مراد وہ یہودی اور عیسائی ہیں جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ حضرت عبداللّٰہبن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ اور حَبشہ و نَجران کے عیسائی۔ قرآن پاک نازل ہونے پر یہ ا س لئے خوش ہوتے کہ یہ قرآنِ پاک پر ایمان لائے اور انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ احزاب سے ایمان لانے والوں کے علاوہ بقیہ یہودی ، عیسائی اور وہ تما م مشرکین مراد ہیں جو قرآن کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں ۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو قرآن پاک کے بعض حصے کا انکار کرنے والاا س لئے کہا گیا کہ یہ قرآن پاک کے ان واقعات اور بعض احکام کو مانتے تھے جوابھی تک ان کی کتابوں میں بھی موجود تھے البتہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت سے متعلق جن اَحکام کو انہوں نے تبدیل کر دیا تھا ان کا انکار کرتے تھے جبکہ مشرکین کو قرآن پاک کے بعض حصے کا انکار کرنے والا اس لئے کہا گیا کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کو مانتے تھے اور رحمٰن کا انکار کرتے تھے جیساکہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ہم رحمٰن کو نہیں جانتے۔(خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۶۸-۶۹، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۵۵۹، ملتقطاً)
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّاؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠(۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا اور اے سننے والے اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللّٰہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی فیصلے کی صورت میں اتارا اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گااس کے بعد کہ تیرے پاس علم آچکا تو اللّٰہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔
{وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا:اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی حکم کی صورت میں اتارا۔} یعنی جس طرح پہلے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اُن کی زبانوں میں احکام دیئے تھے اسی طرح ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان عربی میں نازل فرمایا۔ قرآنِ کریم کو حکم اس لئے فرمایا کہ اس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت ، اس کی توحید ،اس کے دین کی طرف دعوت ، تمامتکالیف و احکام اور حلال و حرام کا بیان ہے۔ بعض علما نے فرمایا’’ چونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر قرآن شریف کے قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم فرمایا اس لئے اس کا نام حکم رکھا ۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳ / ۶۹)
{وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ:اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں اس آیت میں بظاہرخطاب حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے لیکن اس سے مراد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! مضبوط دلائل اور قطعی حجتوں کے ذریعے حق بات کا علم آ جانے کے باوجود اگر تو نے کافروں کی پیروی کی جو اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں (اور ان کی خواہشوں پر چلا) تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ اس سے کوئی بچانے والا۔ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۷، ۷ / ۴۹، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۵۵۹، ملتقطاً)
کفار کی خواہشوں پر چلنے والوں کو نصیحت:
اس آیت میں موجودہ دور کے ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے جو کافروں کی خواہشات پر چلتے ہوئے اسلام کے بنیادی اور ضروری احکام کی اہمیت کو مسلمانوں کی نظر میں کم کرنے کی اور قرآن و حدیث کی غلط تشریحات کر کے مسلمانوں کے دین و ایمان کو برباد کرنے کی کو ششوں میں مصروف ہیں ، یہودیوں ، عیسائیوں اور دیگر کافروں کی خالص مذہبی تقریبات میں نہ صرف خود شرکت کرتے، انہیں تحائف اور مبارک بادیں دیتے ہیں بلکہ ان تقریبات کو میڈیا کے ذریعے اس انداز میں عوام تک پہنچاتے ہیں جیسے یہ بھی اسلام کی تعلیمات کا ایک حصہ ہو، اسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو کافروں کی خواہش کے مطابق مسلمانوں میں فحاشی، عُریانی، بے راہ روی، بے پردگی ، عورتوں کی مادر پِدر آزادی کوعام کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ۔ یونہی ان اَربابِ اقتدار کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو کافروں کی خواہشات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اور ان کے اشارہِ ابرو پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے مسلمانوں کی جان و مال ، عزت و آبرو اور ملک و ملت کو برباد کرنے کے لئے اپنے ملک میں کافروں کو ہر طرح کی سہولت دیتے اور اپنے ہی ملک میں ہر طرح کی عیاشی کے ذرائع مہیا کرتے ہیں ،انہیں غور کر لینا چاہئے کہ جب یہ اپنے اعمال کے حساب کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو وہاں اپنے کئے ہوئے جرموں کا حساب کس طرح دیں گے اور اگر اللّٰہ تعالیٰ نے ان پراپنا غضب فرمایا اور ان کے لئے عذابِ جہنم کا حکم سنادیا تو اس وقت کون ان کی حمایت کرے گا اور کون انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے دردناک عذاب سے بچائے گا اور اس وقت دنیا کی کونسی سپر پاور ان کے کام آئے گی؟
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ-وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ(۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللّٰہ کے حکم سے ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور بچے بنائے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ اللّٰہ کی اجازت کے بغیر کوئی نشانی لے آئے ۔ ہر وعدے کیلئے ایک لکھی ہوئی (مدت) ہے۔
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ: اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے۔ }اس آیت میں کفار کی طرف سے نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت پر کئے گئے اعتراضات کے جواب دئیے گئے ہیں ۔
پہلا اعتراض: اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کی طرف جو بھی رسول بھیجے تو اس کا فرشتوں میں سے ہونا ضروری ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے جتنے بھی انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گزرے ہیں سب انسان ہی تھے نہ کہ فرشتے، جب گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے انسان ہونے کی وجہ سے ان کی نبوت پر کوئی اعتراض نہیں تو رسول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع