دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ترجمۂ کنزالایمان: اوربے شک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے۔

{وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ:اور بیشک آخرت کا ثواب۔} یعنی آخرت کا اجر و ثواب ان کے لئے دنیا کے اجر سے بہتر ہے جو ایمان لائے اور پرہیز گار رہے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لئے آخرت کا اجر وثواب اس سے بہت زیادہ افضل و اعلیٰ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اُنہیں  دُنیا میں  عطا فرمایا ۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳ / ۲۹)

دنیا و آخرت میں  اجر:

            اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں  بھی اجر عطا فرماتا ہے اور آخرت میں  دنیوی اجر سے بہتر اجر عطا فرمائے گا۔ حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں  کہ مومن اپنی نیکیوں  کا پھل دنیا و آخرت دونوں  میں  پاتا ہے اور کافر جو کچھ پاتا ہے دنیا ہی میں  پاتا ہے آخرت میں  اس کا کوئی حصہ نہیں  ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۷، ص۵۳۵)

اخروی ثواب حاصل کرنے کیلئے ایمان اور نیک اعمال دونوں  ضروری ہیں :

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اخروی اجر و ثواب حاصل کرنے کے لئے ایمان کے ساتھ ساتھ نیک اعمال ہونا بھی ضرور ی ہیں  اس لئے فقط ایمان پر بھروسہ کر کے خود کو نیک اعمال سے بے نیاز جاننا درست نہیں  ،ہمارے بزرگانِ دین جن کا ایک ایک پل اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور نیک اعمال میں  مصروف گزرتا تھا، اس سلسلے میں  ان کے حال کی ایک جھلک ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ایک مرتبہ حمام میں  داخل ہونے کا ارادہ کیا تو حمام کے مالک نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ اجرت کے بغیر حمام میں  داخل نہیں  ہونے دے گا، یہ سن کر حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رونے لگے اور فرمایا ’’جب شیطان کے گھر میں  مجھے عِوض کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں  دی گئی تو (اخلاص کے ساتھ کئے ہوئے نیک اعمال کے بغیر) مجھے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صدیقین کے گھر (یعنی جنت) میں  کس طرح داخل ہونے دیاجائے گا۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۷، ۴ / ۲۸۴)

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں  پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور یوسف کے بھائی آئے تو ان کے پاس حاضر ہوئے پس یوسف نے توانہیں  پہچان لیا اور وہ بھائی ان سے انجان رہے۔

{وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ:اور یوسف کے بھائی آئے۔} مفسرین فرماتے ہیں  کہ جب قحط کی شدت ہوئی اور بلائے عظیم عام ہوگئی، تمام شہر قحط کی سخت تر مصیبت میں  مبتلا ہوگئے اور ہر جانب سے لوگ غلہ خریدنے کے لئے مصر پہنچنے لگے تو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں  دیتے تھے تاکہ مساوات رہے اور سب کی مصیبت دور ہو۔ قحط کی جیسی مصیبت مصر اور دیگر ملکوں  میں  آئی، ایسی ہی کنعان میں  بھی آئی اُس وقت حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنیامین کے سوا اپنے دسوں  بیٹوں  کو غلہ خریدنے مصر بھیجا۔ جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائی مصر میں  حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس حاضر ہوئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  دیکھتے ہی پہچان لیا لیکن وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ پہچان سکے کیونکہ حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو کنوئیں  میں  ڈالنے سے اب تک چالیس سال کا طویل زمانہ گزر چکا تھا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا انتقال ہوچکا ہوگا جبکہ یہاں  آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تخت ِسلطنت پر ،شاہانہ لباس میں  شوکت و شان کے ساتھ جلوہ فرما تھے اس لئے انہوں  نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نہ پہچانا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عبرانی زبان میں  گفتگو کی۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھی اسی زبان میں  جواب دیا ،پھر فرمایا ’’تم کون لوگ ہو؟ انہوں  نے عرض کی ’’ہم شام کے رہنے والے ہیں، جس مصیبت میں  دنیا مبتلا ہے اسی میں  ہم بھی ہیں  اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے غلہ خریدنے آئے ہیں  ۔حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’کہیں  تم جاسوس تو نہیں  ہو۔ انہوں  نے کہا ’’ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہیں  کہ ہم جاسوس نہیں  ہیں  ،ہم سب بھائی ہیں ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، ہمارے والد بہت بزرگ ،زیادہ عمر والے اور صدیق ہیں  ، ان کا نامِ نامی حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نبی ہیں ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ تم کتنے بھائی ہو؟ انہوں  نے جواب دیا’’ ہم بارہ بھائی تھے لیکن ایک بھائی ہمارے ساتھ جنگل گیا تو وہ ہلاک ہوگیا تھا، وہ والدصاحب کو ہم سب سے زیادہ پیارا تھا۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’اب تم کتنے ہو؟ عرض کی’’ دس۔ پھر فرمایا’’ گیارہواں  کہاں  ہے؟ انہوں  نے جواب دیا’’وہ والد صاحب کے پاس ہے کیونکہ ہمارا جو بھائی ہلاک ہوگیا تھاوہ اسی کا حقیقی بھائی ہے، اب والد صاحب کی اسی سے کچھ تسلی ہوتی ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳ / ۲۹)

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْۚ-اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(۵۹)فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ(۶۰)قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان کا سامان مہیا کردیا کہا اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ کیا نہیں  دیکھتے کہ میں  پورا ماپتا ہوں  اور میں  سب سے بہتر مہمان نواز ہوں ۔  پھر اگر اسے لے کر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں  ماپ نہیں  اور میرے پاس نہ پھٹکنا۔ بولے ہم اس کی خواہش کریں  گے اس کے باپ سے اور ہمیں  یہ ضرور کرنا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب یوسف نے ان کا سامان انہیں  مہیا کردیا تو فرمایا کہ اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ، کیا تم یہ بات نہیں  دیکھتے کہ میں  ناپ مکمل کرتا ہوں  اور میں  سب سے بہتر مہمان نواز ہوں ۔ تواگر تم اس بھائی کو میرے پاس نہیں  لاؤ گے تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں  اور نہ تم میرے قریب پھٹکنا۔ انہوں  نے کہا: ہم اس کے باپ سے اس کے متعلق ضرور مطالبہ کریں  گے اور بیشک ہم ضرور یہ کریں  گے۔

{وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ:اور جب ان کا سامان انہیں  مہیا کردیا۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اُن بھائیوں  کی بہت عزت کی اور بڑی خاطر و مُدارات سے اُن کی میزبانی فرمائی، ان میں  سے ہر ایک کا اونٹ غلے سے بھر دیا اور سفر کے دوران جس چیز کی ضرورت درپیش ہو سکتی تھی وہ بھی عطا کر دی۔‘‘ جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کا سامان انہیں  مہیا کر دیا تو ان سے فرمایا ’’تم اپنے جس بھائی کو والد محترم کے پاس چھوڑ آئے ہو اسے میرے پاس لے آؤ ،کیا تم یہ بات نہیں  دیکھتے کہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن