30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دادا وغیرہ کو اِن کے درجہ میں داخل فرمائے گا اور ان کے پاس فرشتے روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۶۴، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۵۵۶، جلالین، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۳-۲۴، ص۲۰۳، ملتقطاً)
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اللّٰہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللّٰہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللّٰہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللّٰہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ:اور وہ جو اللّٰہ کا عہد توڑ دیتے ہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے سعادت مندوں کے احوال اور جو کرامتیں اور بھلائیاں ان کے لئے تیار فرمائی ہیں ان کا ذکر فرمایا، اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ بد بختوں کے احوال اور ان کے لئے جو سزائیں تیار فرمائی ہیں ان کا ذکر فرما رہا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللّٰہ تعالیٰ کے ا س حکم کی مخالفت کرتے ہیں اوراللّٰہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں ،کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۶۴-۶۵، ملخصاً)
اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠(۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور تنگ کرتا ہے اور کا فر دنیا کی زندگی پر اترا گئے اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور کا فر دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے ہے۔
{اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ:اللّٰہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے بندوں میں سے جسے چاہے وسیع رزق دے کر غنی کر دیتا ہے اور جسے چاہے اس کے رزق میں تنگی فرما کر اسے فقیر بنا دیتا ہے۔(خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۶۵)
رزق میں برابری نہ ہونے کی حکمتیں :
یاد رہے کہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جیسارزق عطا نہیں فرمایا ،بعض لوگ غریب ہیں ،بعض مُتَوسِّط اور بعض امیر، اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں ہیں ، ان میں سے دو حکمتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں ۔
(1)…اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا
’’وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ‘‘ (الشوری:۲۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر اللّٰہ اپنے سب بندوں کیلئے رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ ایک مقدار سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے ، بیشک وہ بندوں سے خبردار،دیکھنے والاہے۔
(2)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ جن کے ایمان کی بھلائی مالدار ہونے میں ہے، اگر میں انہیں مالدار نہ کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے اور میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کی بھلائی مالدار نہ ہونے میں ہے، اگر میں انہیں مالدار کر دوں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (ابن عساکر، حرف الکاف فی آباء من اسمہ ابراہیم، ابراہیم بن ابی کریمۃ الصیداوی، ۷ / ۹۶)
{وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا:اور کا فر دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے۔} یعنی مشرکین پر جب اللّٰہ تعالیٰ نے رزق وسیع فرمایا تو انہوں نے شر پھیلانا شروع کر دیا اور وہ تکبر میں مبتلا ہو گئے حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دُنیوی نعمتوں پر فخریَہ خوش ہونا کفار کا طریقہ ہے اور ناجائز ہے جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے شکریہ کے طور پر خوش ہونامومنوں کا طریقہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔
’’قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا‘‘ (یونس:۵۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرماؤ: اللّٰہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔
دنیوی اور اُخروی زندگی میں فرق:
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ دنیا کی زندگی وہ ہے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے غفلت میں گزرے، یہ بری ہے اور قرآن و حدیث میں اسی کی مذمت ہے اور جو زندگی آخرت کی تیار ی میں گزرے وہ بفضلہ تعالیٰ اُخروی زندگی ہے، یہی حیاتِ طیّبہ ہے ۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ہر وہ چیز جو آخرت کے اعمال پر مددگار ہو جیسے ضروری غذااور موٹے کپڑوں کا ایک جوڑا اور ہر وہ چیز جس کا انسان کے باقی رہنے اور اس کی صحت کے لئے ہونا ضروری ہے اور اس کے ذریعے وہ علم و عمل تک پہنچتا ہے تو یہ (چیز) دنیا نہیں ہے کیونکہ یہ علم و عمل کے لئے مددگار ہے اور اس کے لئے وسیلہ ہے توانسا ن جب اسے علم و عمل پر مدد حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے تو وہ دنیا کے لئے نہیں لیتا اور نہ ہی وہ اس وجہ سے دنیا دار کہلاتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع