دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

حاصل کرنے کے لئے کتاب’’خوف ِخدا‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں)

{وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ:اور برے حساب سے خوفزدہ ہیں ۔} یعنی خصوصی طور برے حساب سے خوفزدہ ہیں  اور حساب کا وقت آنے سے پہلے خود اپنے نفسوں  سے محاسبہ کرتے ہیں ۔ (مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۵۵۶)

اعمال کا محاسبہ کرنے کی ترغیب:

            عقلمند انسان وہی ہے کہ جواپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور نفس و شیطان کے بہکاوے میں  آ کر اپنے اعمال کے محاسبے سے غافل نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں  اپنے اعمال کے محاسبے کی بہت ترغیب دی گئی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ‘‘ (الحشر:۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے آگے کیا بھیجا ہے ۔

             حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عقلمند وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اورموت کے بعد کے لئے عمل کرے، جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنے آپ کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللّٰہ تعالیٰ سے امید رکھے۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب، ۴ / ۲۰۷، الحدیث: ۲۴۶۷)

             امام ترمذی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’اس حدیث میں  مذکور الفاظ ’’مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ‘‘ کا مطلب قیامت کے حساب سے پہلے (دنیا ہی میں ) نفس کا محاسبہ کرنا ہے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ اپنے نفسوں  کا محاسبہ کرو ا س سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور بڑی پیشی کے لئے تیار ہو جاؤ۔ قیامت کے دن اس آدمی کا حساب آسان ہو گا جس نے دنیا ہی میں  اپنا حساب کر لیا۔ حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ بندہ اس وقت تک پرہیز گار شمار نہیں  ہوتا جب تک اپنے نفس کا ایسے محاسبہ نہ کرے جیسے اپنے شریک سے کرتا ہے کہ اس نے کہاں  سے کھایا اور کہاں  سے پہنا۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب، ۴ / ۲۰۷)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’جس طرح تاجر دنیا میں  ایک ایک پیسے کا حساب کر کے کمی زیادتی کے راستوں  کی حفاظت کرتا ہے حتّٰی کہ اسے اس میں  کچھ بھی نقصان نہیں  ہوتا تو اسے چاہئے کہ نفس کے معمولی سے نقصان اور مکر وفریب سے بھی بچے کیونکہ یہ بڑا دھوکے باز اور مکار ہے لہٰذا پہلے اس سے پورے دن کی گفتگو کا صحیح جواب طلب کرے اور اپنے نفس سے اس بات کا خود حساب لے جس کا قیامت کے دن دوسرے لیں  گے، اسی طرح نظر بلکہ دل کے خیالات اور وسوسوں ، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے ، سونے حتّٰی کہ خاموشی کا حساب بھی لے کہ اس نے خاموشی کیوں  اختیار کی تھی اور سکون کے بارے میں  پوچھ گچھ کرے کہ اس کا کیا مقصد تھا، جب ان تمام باتوں  کا علم ہو جائے جو نفس پر واجب تھیں  اور اس کے نزدیک صحیح طور پر ثابت ہو جائے کہ کس قدر واجب کی ادائیگی ہوئی ہے تو اس قدر کا حساب ہو گیا، اب جو باقی رہ گیا اسے نفس کے ذمہ لکھ لے اور اسے دل کے کاغذ پر بھی لکھ دے جیسے اپنے شریک کے ذمہ باقی حساب کو دل پر بھی لکھتا ہے اور حسابو کتاب کے رجسٹر میں  بھی۔پھر جب نفس قرضدار ٹھہرا تو ممکن ہے کہ اس سے قرض وصول کرے ، کچھ تاوان کے ذریعے، کچھ اس کی واپسی سے اور بعض کے حوالے سے اسے سزا دے اور یہ سب کچھ حساب کی تحقیق کے بعد ہی ممکن ہے تاکہ جس قدر واجب باقی ہے اس کی تمیز ہو سکے اور جب یہ بات معلوم ہو جا ئے تو اب اس سے مطالبہ اور تقاضا کرنا چاہئے اور اسے چاہئے کہ اپنے تمام ظاہری اور باطنی اَعضاء کے حوالے سے اپنے نفس سے ایک ایک دن کی ہر گھڑی کا حساب کرے۔( احیاء علوم الدین، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، بیان حقیقۃ المحاسبۃ بعد العمل، ۵ / ۱۳۹)

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جنہوں  نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں  چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں  انہیں  کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جنہوں  نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں  صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں  سے ہماری راہ میں  پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں  انہیں  کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔

{وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا:اور وہ جنہوں  نے صبر کیا ۔} یعنی نیکیوں  اور مصیبتوں  پر صبر کیا اور گناہوں  سے باز رہے۔

صبر کے 3 مَراتِب:

            علامہ صاوی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’ ’صبر کے تین مرتبے ہیں ۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں  پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں  پر صبر کرنا۔ ان سب سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ (جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳ / ۱۰۰۱)

صبر کی اَقسام:

            آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں صبر کرنے کی قید لگائی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر کی دوقسمیں  ہیں ۔

(1)…مذموم صبر۔ انسان کبھی صبر اس لئے کرتا ہے تاکہ اس کے بارے میں  کہا جائے کہ مصیبتیں  برداشت کرنے پر اس کا صبر کتنا کامل اور مضبوط ہے اور کبھی ا س لئے صبر کرتا ہے تاکہ لوگ بے صبری کا مظاہرہ کرنے پر اسے ملامت نہ کریں  اور دشمن ا س کی بے صبری پر نہ ہنسیں ۔ ان تمام اُمور میں  اگرچہ ظاہری طور پر صبر ہی کیا جارہا ہے لیکن یہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں  نہیں  بلکہ غیرُ اللّٰہ کے لئے کیا گیا ہے،اس لئے یہ صبر مذموم ہیں  اور اس آیت کے تحت داخل نہیں ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن