دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

حساب کی سختی کا خوف:

             اس آیت میں  اگرچہ کفار کے حساب میں  سختی کئے جانے کا ذکر ہے لیکن جداگانہ طور پر مسلمانوں  کو بھی حساب کی  سختی کے معاملے میں  ڈرایا گیا ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ۔حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’جس سے قیامت کے دن حساب لیا گیا وہ عذاب میں  مبتلا ہو گیا۔ میں  نے عرض کی ’’کیا اللّٰہ تعالیٰ نے یہ نہیں  فرمایا کہ عنقریب ان سے آسان حساب لیا جائے گا(یعنی مُطلقاً حساب پر تو پکڑ نہیں  ہوگی بلکہ سخت حساب کی صورت میں  ہوگی اس پر) رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ (نرمی سے لیا جانے والا حساب حقیقت میں ) حساب نہیں  ہے بلکہ حساب کے لئے پیش ہونا ہے، (اور) جس سے قیامت کے دن حساب میں  ( جَرح و اعتراض کے ساتھ) سوال و کلام کیا گیا تو اسے عذاب دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب اثبات الحساب، ص۱۵۳۷، الحدیث: ۷۹(۲۸۷۶))

             حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ’’ میں  نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنی بعض نمازوں  میں  فرماتے ہوئے سنا ’’اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا‘‘ اے اللّٰہ ! مجھ سے آسان حساب لے ۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تومیں  نے عرض کی’’یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آسان حساب کیا چیز ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’آسان حساب یہ ہے کہ اس کے نامۂ اعمال پر نظر کرا دی جائے پھر اسے معافی دیدی جائے۔ اے عائشہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا، جس سے حساب میں  اس دن جرح کرلی گئی وہ ہلاک ہوجائے گا۔ (مسند امام احمد، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ۹ / ۳۰۳، الحدیث: ۲۴۲۷۰)

            لہٰذا ہمیں  بھی اپنے حساب کے بارے میں  فکر کرنی چاہئے اور ایسے اعمال اختیار کرنے چاہئیں  جن کی برکت سے اللّٰہتعالیٰ حساب میں  آسانی فرماتا ہے، ترغیب کے لئے ایک روایت ذکر کی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرورِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تین اوصاف جس شخص میں  ہوں  گے اللّٰہ تعالیٰ اس کے حساب میں  آسانی فرمائے گا اور اپنی رحمت سے اسے جنت میں  داخل فرما دے گا۔صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی’’یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،ہمارے ماں  باپ آپ پر فدا ہوں ، وہ کون سے اوصاف ہیں ؟ ارشاد فرمایا ’’جو تمہیں  محروم کرے تم اسے عطا کرو، جوتم سے رشتہ داری ختم کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو اورجو تم پر ظلم کرے تم ا سے معاف کردو ۔جب تم ایسا کرو گے تو اللّٰہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تمہیں  جنت میں  داخل فرما دے گا۔ (مسند البزار، مسند ابی ہریرۃ، ۱۵ / ۲۱۹، الحدیث: ۸۶۳۵)

            اللّٰہتعالیٰ ہمیں  اپنے حساب کی فکر کرنے اور نیک اعمال میں  مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰىؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ(۱۹) الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ جو جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت وہی مانتے ہیں  جنہیں  عقل ہے۔وہ جو اللّٰہ کا عہد پورا کرتے ہیں  اور قول باندھ کر پھرتے نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جو اندھا ہے؟صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔وہ جو اللّٰہ کا عہد پورا کرتے ہیں  اور معاہدے کو توڑتے نہیں ۔

{اَفَمَنْ یَّعْلَمُ:تو کیا وہ جو جانتا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپراللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ حق ہے اور وہ اس پر ایمان لاتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جودل کا اندھا ہے؟ جوحق کو جانتا ہے نہ قرآن پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ابوجہل کے بارے میں  نازل ہوئی۔ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اور ابو جہل کے بارے میں  نازل ہوئی ۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۶۲)

            علامہ احمد صاوی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ان آیات میں  اگرچہ حضرت حمزہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اچھی صفات پر ان کی تعریف کی گئی اور ان صفات کے بدلے بھلائی کا وعدہ فرمایا گیا اور ابو جہل کی بری صفات کی مذمت کی گئی اور ان بری صفات کے بدلے برے انجام کی وعید سنائی گئی لیکن چونکہ اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب ِنزول کی خصوصیت کا لہٰذاحضرت حمزہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے وعدے کی آیات میں  قیامت تک آنے والے وہ تمام لوگ بھی  شامل ہیں  جو حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نقشِ قدم پر چلیں  گے اور ان جیسی صفات اپنائیں  گے یونہی ابو جہل کے لئے وعید کی آیات میں  قیامت تک آنے والے وہ تما م افراد داخل ہیں  جو ابو جہل کے نقش قدم پر چلیں  گے۔ (صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۱۰۰۰)

{اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ:صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔} یعنی قرآن کی نصیحتیں  وہی قبول کرتے ہیں  اور ان نصیحتوں  پر وہی عمل کرتے ہیں  جو عقلمند ہیں  اور ان کی عقل وہم کے عارضے سے صاف ہے۔ (روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴ / ۳۶۳)

{اَلَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ:وہ جو اللّٰہ کا عہد پورا کرتے ہیں ۔} یعنی آخرت کا اچھا انجام انہیں  کے لئے ہے جو اللّٰہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں  کہ اس کی ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں  اور اس کا حکم مانتے ہیں  ۔ اللّٰہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں  کو توڑتے نہیں  جو انہوں  نے لوگوں  کے ساتھ کئے ہوئے ہیں ۔ (روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴ / ۳۶۳)

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جوڑتے ہیں  اسے جس کے جوڑنے کا اللّٰہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے اور حساب کی بُرائی سے اندیشہ رکھتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جواسے جوڑتے ہیں  جس کے جوڑنے کا اللّٰہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں  اور برے حساب سے خوفزدہ ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ:اور وہ جو جوڑتے ہیں ۔}  اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی تمام کتابوں  اور اس کے کل رسولوں  پر ایمان لاتے ہیں  ،بعض کو مان کر اور بعض سے منکر ہو کر ان میں  تفریق نہیں  کرتے ۔یا یہ معنی ہے کہ رشتہ داری کے حقوق کی رعایت رکھتے ہیں  اور رشتہ داری نہیں  توڑتے۔ اسی میں  رسول

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن