30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ایمان بھی برابر نہیں ہو سکتے۔کافر کو اندھے جیسا اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اندھا انسان درست راستے پر نہیں چلتا اسی طرح کافر بھی سیدھے راستے پر نہیں چلتا۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳ / ۶۰)
{اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ:کیا انہوں نے اللّٰہ کے لیے شریک ٹھہرا لئے ہیں ۔} آیت کے اس حصے میں ایک اور طریقے سے بت پرستوں کا رد کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مشرکین جو بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہیں کیا ان کے علم میں ہے کہ بتوں نے بھی کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ شبہ ہو گیا کہ بت بھی خالق ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ بھی خالق ہے اور جب اللّٰہ تعالیٰ اپنے خالق ہونے کی وجہ سے عبادت کا مستحق ہے تو یہ بت بھی ا س وجہ سے عبادت کے مستحق ٹھہرے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ بتوں نے کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کیا تو جب حق بات یہی ہے تو مشرکین کا بتوں کو عبادت میں اللّٰہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جہالت کے سوا اور کیا ہو سکتاہے۔او رحقیقت یہی ہے کہ ہر شے کا خالق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور وہی سب پر غالب ہے اورسب کچھ اسی کی قدرت اور اختیار میں ہے۔ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۷ / ۲۶-۲۷، خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳ / ۶۰، ملتقطاً)دنیا و آخرت میں جو کچھ کسی کے پاس ہے یا ہوگا وہ سب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دینے سے ہے اور ہوگا۔ جیسے فرشتوں کی عظیم قوتیں ، انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم کی عظیم طاقتیں ، معجزات و کرامات اور یونہی دنیا میں لوگوں کی بادشاہتیں ، مِلکِیَّتیں ، حکومتیں وغیرہا سب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے دینے سے ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ارادے کے بغیر کوئی ایک ذرے کا بھی مالک و مختار نہیں بن سکتا۔
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًاؕ-وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ﱟ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ-وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ(۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی اور جس پر آگ دہکاتے ہیں گہنا یا اور اسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللّٰہ بتاتا ہے کہ حق اور باطل کی یہی مثال ہے تو جھاگ تو پُھک کر دور ہوجاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے اللّٰہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنی اپنی گنجائش کی بقدر بہہ نکلے تو پانی کی رَو اُس پر ابھرےہوئے جھاگ اٹھا لائی اور زیور یا کوئی دوسرا سامان بنانے کیلئے جس پروہ آگ دہکاتے ہیں اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں ۔ اللّٰہ اسی طرح حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے تو جھاگ تو ضائع ہوجاتا ہے اور وہ (پانی) جو لوگوں کو فائدہ دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے ۔اللّٰہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے ۔
{اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً:اس نے آسمان سے پانی اتارا۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کو آنکھ والے اور اندھے سے ،ایمان ا ور کفر کو روشنی اور اندھیرے سے تشبیہ دی تھی جبکہ اس آیت میں ایمان اور کفر کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے۔ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۷، ۷ / ۲۹) اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ باطل اس جھاگ کی طرح ہوتا ہے جو ندیوں میں ان کی وسعت کے مطابق بہتے پانی کی سطح پر اور سونا، چاندی ،تانبہ،پیتل وغیرہ پگھلی ہوئی معدنیات کی مائع سطح پر ظاہر ہوتی ہے جبکہ حق جھاگ کے علاوہ باقی بچ جانے والی اصل چیز کی طرح ہوتا ہے تو جس طرح بہتے پانی یا پگھلی ہوئی معدنیات کی سطح پرجھاگ ظاہر ہوکر جلدی زائل ہو جاتی ہے ایسے ہی باطل اگرچہ کتنا ہی ابھر جائے اور بعض حالتوں اور وقتوں میں جھاگ کی طرح حد سے اُونچا ہوجائے لیکن انجام کار مٹ جاتا ہے اور حق اصل چیز اور صاف جوہر کی طرح باقی و ثابت رہتا ہے۔( مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۵۵۴، ملخصاً)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس آیت میں مذکور مثال کی بہت اچھی وضاحت فرمائی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اس آیت میں پانی سے مراد قرآن پاک اور ندیوں سے مراد بندوں کے دل ہیں یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کبریائی ، جلالت اور احسان کے آسمان سے رحمت کاپانی یعنی قرآن پاک بندوں کے دلوں کی ندیوں میں نازل فرمایا تو جس طرح ندیوں میں پانی جگہ پاتا ہے اسی طرح دلوں میں قرآنی علوم کے انوار جگہ پاتے ہیں اور جس طرح ندیوں میں ان کی گنجائش اور وسعت کے اعتبار سے پانی کم یا زیادہ ہوتا ہے اسی طرح دلوں کی پاکیزگی اور نجاست،قوت ِفہم کی زیادتی اور کمی کے اعتبار سے ان میں قرآن پاک کے انوار کم اور زیادہ ہوتے ہیں ۔اور جس طرح بہتے پانی کی سطح پر ابھرنے والی جھاگ اور پگھلی ہوئی معدنیات کی سطح پر ظاہر ہونے والا میل کچیل جلدی زائل ہو جاتا ہے اسی طرح قرآن مجید کے مَضامین میں بظاہر جو شکوک و شبہات ہوتے ہیں وہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات اور علمائے کرام کے بیانات سے جلدی زائل ہو جاتے ہیں اور عقائد،شرعی احکام کی تصریحات،ہدایات اور علمی نِکات باقی رہ جاتے ہیں ۔ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۷، ۷ / ۲۹، ملخصاً)
لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ-وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان:جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی مِلک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا بچھونا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
{لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى:جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے تو انہیں کے لئے بھلائی یعنی جنت ہے اور جو لوگ اپنے کفر و شرک پر قائم رہے، ان کا حال یہ ہو گا کہ یہ اس قدر خوفناک اور تکلیف دِہ حالت میں ہوں گے کہ اس سے جان چھڑانے کیلئے اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اس کے ساتھ ہوتا تو قیامت کے دن جہنم کے عذاب سے اپنی جانوں کو بچانے کے لئے فدیے کے طور پر دیدیتے لیکن ان کی جان پھر بھی نہ چھوٹتی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع