30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ:اسی کا پکارنا سچا ہے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کی گواہی دینا حق ہے یاا س کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ دعاقبول کرتا ہے اور اُسی سے دعا کرنا سزاوار ہے۔ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷ / ۲۴، ملخصاً)
{وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ:اور اُس کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں ۔} یعنی کفار جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور اُن سے مرادیں مانگتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے ،ان کی مثال تو اس شخص کی طرح ہے جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے اس لئے بیٹھا ہے کہ پانی خود ہی اس کے منہ میں پہنچ جائے تو ہتھیلیاں پھیلانے اور بلانے سے پانی کنوئیں سے نکل کر اس کے منہ میں کبھی نہیں آئے گا کیونکہ پانی کو نہ علم ہے نہ شعور کہ جس کی وجہ سے وہ اس کی حاجت اور پیاس کو جان لے اور اس کے بلانے کو سمجھے اور پہچان لے، نہ پانی میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرے اور اپنے طبعی تقاضے کے خلاف اُوپر چڑھ کر بلانے والے کے منہ میں پہنچ جائے ،یہی حال بتوں کا ہے کہ نہ انہیں بت پرستوں کے پکارنے کی خبر ہے نہ اُن کی حاجت کا شعور اورنہ وہ اُن کونفع پہنچانے پر کچھ قدرت رکھتے ہیں ۔ (روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۴، ۴ / ۳۵۵)
{وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ:اور کافروں کا پکارنا گمراہی میں ہی ہے۔} یعنی کافروں کا بتوں کو پکارنا بے کار ہے کیونکہ یہ ان سے طلب کررہے ہیں کہ جو خود نفع پہنچانے اور نقصان دور کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کو پکارنا بے کار نہیں بلکہ وہ اگر چاہے تو ان کی دعائیں قبول بھی فرما لیتا ہے، دنیوی معاملات سے متعلق مانگی ہوئی دعاؤں کا قبول کرلینا تو ظاہر ہے اور اگر وہ جنت کی دعا مانگیں تو اللّٰہ تعالیٰ انہیں ایمان کی توفیق عطا فرما سکتا ہے ۔ (صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳ / ۹۹۷)
وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩(۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے خواہ مجبوری سے اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خوشی سے ، خواہ مجبور ہو کراللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے ہر صبح و شام ۔
{وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ:اللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں ۔} یعنی آسمانوں میں جتنے فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے اہلِ ایمان ہیں سب خوشی سے جبکہ کافر و منافق شدت اور تنگی کی حالت میں مجبور ہو کراللّٰہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں ۔ (مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۵۵۳)اور سجدے کرنے کا ایک معنی یہاں یہ ہے کہ وہ حکمِ الہٰی کے سامنے بے بس ہیں اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ جیسے چاہے ان میں تَصَرُّف فرماتا ہے اور سب اللّٰہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کے پابند ہیں ۔
تنبیہ:اس آیت کو پڑھنے اور سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے ۔سجدۂ تلاوت سے متعلق مسائل کی تفصیلی معلومات کے لئے بہار شریعت حصہ 4 سے ’’سجدۂ تلاوت کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔
{وَ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ:اور ان کے سائے ہر صبح و شام۔} سایوں کے سجدہ کرنے سے بھی یہی مراد ہے کہ ان کے سائے بھی اوّل تا آخر اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں جتنا وہ چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور جتنا چاہتا ہے گھٹا دیتا ہے۔ سائے تو سارا دن ہی ہوتے ہیں لیکن آیت میں صبح اور شام کا بطورِ خاص اس لئے ذکر فرمایا گیا کہ ان دو اَوقات میں سایوں کا چھوٹا یا بڑا ہونا واضح طور پر نظر آتا ہے ۔
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلِ اللّٰهُؕ-قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّاؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ ﳔ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ ﳛ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْؕ-قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا تم خود ہی فرماؤ اللّٰہ تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنالیے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں تم فرما ؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا کیا اللّٰہ کے لیے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے اللّٰہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا تم فرما ؤ اللّٰہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ تم خود ہی فرما دو:’ ’اللّٰہ‘‘ تم فرما ؤ: تو (اے لوگو) کیا تم نے اس کے سوا مدد گار بنارکھے ہیں جواپنے لئے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں ۔ تم فرما ؤ: کیا اندھا اور آنکھ والابرابر ہوجائیں گے؟ یا کیا اندھیرے اورروشنی برابر ہوجائیں گے؟یاکیا انہوں نے اللّٰہ کے لیے ایسے شریک ٹھہرا لئے ہیں جنہوں نے اللّٰہ کی تخلیق کی طرح کچھ پیدا کیا ہو؟ تو ان کافروں کوپیدا کرنے کا معاملہ ایک جیسا لگا ہو ۔تم فرما ؤ :اللّٰہ ہر شےکا خالق ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکین سے فرما ئیں جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں کہ زمین و آسمان کا مالک کون ہے؟ ان کے معاملات کی تدبیر کون فرماتا ہے اور ان دونوں کو پیدا کرنے والا کون ہے؟ اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود ہی فرما دیں کہ زمین و آسمان کا رب اللّٰہ تعالیٰ ہے، کیونکہ اس سوال کا اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین بھی غیرُ اللّٰہ کی عبادت کرنے کے باوجود اس بات کااقرار کرتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خالق اللّٰہ تعالیٰ ہے۔جب یہ امر مُسَلَّم ہے تو اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مشرکین سے فرما دیں کہ کیا تم نے زمین و آسمان کے رب کے سوا بتوں کو مدد گار بنا رکھا ہے حالانکہ وہ بت اپنے لئے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ جب اُن کی بے قدرتی اور بیچارگی کا یہ عالَم ہے تو وہ دوسرے کو کیا نفع و نقصان پہنچاسکتے ہیں ۔ ایسوں کو معبود بنانا اور اس کے بالمقابل خالق ،رازق ،قوی اور قادر کو چھوڑدینا انتہا درجے کی گمراہی ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳ / ۵۹، روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶،۴ / ۳۵۷، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۵۵۳، ملتقطاً)
{قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ:تم فرما ؤ: کیا اندھا اور آنکھ والابرابر ہوجائیں گے؟ } آیت کے اس حصے میں اللّٰہ تعالیٰ نے بتوں کو پوجنے والے مشرکین اور اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے مومنین کی ایک مثال بیان فرمائی ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں کیا اندھا اور آنکھ والا برابر ہو سکتے ہیں یا اندھیرے اور روشنی برابر ہوجائیں گے ؟تو جس طرح اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح کافر اور مومن بھی برابر نہیں ہو سکتے اور جس طرح اندھیرے اور روشنی برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح کفر و شرک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع