دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

اور مردے زندہ کرنے کا وہ معجزہ عطا فرمایا جس سے طب کے ماہرین عاجز ہوگئے اور وہ اس یقین پر مجبور تھے کہ یہ کام طب سے ناممکن ہے ، لہٰذا یقینا یہ قدرتِ الہٰی کازبردست نشان ہے۔ اسی طرح سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانۂ مبارکہ میں  عرب کی فصاحت و بلاغت اَوجِ کمال پرپہنچی ہوئی تھی اور وہ لوگ خوش بیانی میں  عالَم پر فائق تھے ،سرورِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اللّٰہ تعالیٰ نے وہ معجزہ عطا فرمایا جس نے اُنہیں  عاجزو حیران کردیا اوراُن کے بڑے سے بڑے لوگ اور اُن کے اہلِ کمال کے گروہ قرآنِ کریم کے مقابل ایک چھوٹی سی عبارت پیش کرنے سے بھی عاجز و قاصر رہے اور قرآن کے اس کمال نے یہ ثابت کردیا کہ بیشک یہ رَبّانی عظیم نشان ہے اور اس کا مثل بنا لا نا بشری قوت کیلئے ممکن نہیں  ،اس کے علاوہ اور صدہا معجزات رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پیش فرمائے جنہوں  نے ہر طبقہ کے انسانوں  کو آپ کی رسالت کی صداقت کا یقین دلادیا، ان معجزات کے ہوتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں  نہیں  اُتری کس قدر عناد اور حق سے مکرنا ہے۔ (تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۷، ۷ / ۱۳، ملخصاً)

{اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ:تم تو ڈر سنانے والے ہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنی نبوت کے دلائل پیش کرنے اور اطمینان بخش معجزات دکھا کر اپنی رسالت ثابت کردینے کے بعد احکامِ الہٰیہ پہنچانے اور خدا عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلانے کے سوا آپ پر کچھ لازم نہیں  اور ہر ہر شخص کے لئے اس کی طلب کردہ جدا جدا نشانیاں  پیش کرنا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ضروری نہیں  جیسا کہ آپ سے پہلے ہادیوں  یعنی انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا طریقہ رہا ہے۔ (ابوسعود، الرعد، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۱۴۹-۱۵۰، ملخصاً)

{وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ: اور ہر قوم کے ہادی ہو۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں  ’’ہادی ‘‘ سے مراد اللّٰہ تعالیٰ ہے ۔ اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی ذمہ داری ڈر سنانا ہے جبکہ ہدایت دینے والا اللّٰہ تعالیٰ ہے ،وہ جسے چاہے ہدایت عطا فرما دے۔دوسرا قول یہ ہے کہ ’’ہادی‘‘سے مراد رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی ہو۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۵۴)

                بعض مفسرین کے نزدیک آیت کے معنی یہ ہیں  کہ ہر قوم کے لئے ہادی یعنی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہوئے ہیں ،وہ اپنی قوموں  کو ان کی من مانی نشانیوں  کی بجائے ان نشانیوں  کے ساتھ دین کی طرف ہدایت دیتے اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے جو خصوصی طور پر انہیں  عطا ہوئی تھیں ۔ (مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۷، ص۵۵۰)

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُؕ-وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ(۸)عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں  ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے اور بڑھتے ہیں  اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ جانتا ہے جو ہرمادہ کے پیٹ میں  ہے اور جو پیٹ کم اور زیادہ ہوتے ہیں  اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔وہ ہر غیب اور ظاہر کو جاننے والا، سب سے بڑا، بلند شان والا ہے۔

{اَللّٰهُ یَعْلَمُ:اللّٰہ جانتا ہے ۔}اس سے پہلی آیات میں  کفار ِمکہ نے ان نشانیوں  کے علاوہ نشانی طلب کی تھی جو رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں  دکھا چکے تھے چنانچہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں  اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اوراس کے کمالِ علم کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کسی مادہ کے پیٹ میں  جو کچھ ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کے بارے میں  جانتا ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ ، ایک ہے یا زیادہ اور اس کی تخلیق پوری ہو چکی یا نہیں   اور اللّٰہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ کس کے پیٹ کا بچہ جلدی پیدا ہو گا اور کس کا دیر میں ۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے پیٹ کے گھٹنے بڑھنے سے بچے کا مضبوط ، خِلقت میں  پورا اور ناقص ہونا مراد ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۵۴)

کیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے رحم میں  بچے کے بارے میں  جاننا قرآن کے خلاف ہے؟

            اس کے بارے میں  جاننے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی یہ تحریر انتہائی مفید ہے، چنانچہ ماؤں  کے رحم سے متعلق چند آیات ذکر کرنے کے بعد آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ آیاتِ کریمہ میں  مولیٰ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰیاپنے بے پایاں  علوم کے بے شمار اقسام سے ایک سہل قسم کابہت اجمالی ذکر فرماتا ہے کہ ہرمادہ کے پیٹ میں  جوکچھ ہے سب کا سارا حال (جیسے) پیٹ رہتے وقت اور اس سے پہلے اور پیدا ہوتے اور پیٹ میں  رہتے اور جو کچھ اس پر گزرا اور گزرنے والا ہے، جتنی عمرپائے گا، جوکچھ کام کرے گا، جب تک پیٹ میں  رہے گا، اس کا اندرونی بیرونی ایک ایک عضو ، ایک ایک پرزہ جوصورت دیا گیا، جو دیا جائے گا ، ہر ہر رونگٹا جو مقدار، مساحت ،وزن پائے گا، بچے کی لاغری، فربہی، غذا، حرکت ِخفیفہ زائدہ، انبساط، انقباض اور زیادت وقلت ِخون، طمث وحصولِ فضلات وہوا و رطوبات وغیرہا کے باعث آن آن پرپیٹ جو سمٹتے پھیلتے ہیں  ،غرض ذرہ ذرہ سب اسے معلوم ہے، ان میں  کہیں  نہ تخصیص ذکورت وانوثت کاذکر، نہ مطلق علم کی نفی وحصر، تویہ مہمل ومختل اعتراض پادر ہوا کہ بعض پادریانِ پادر بند ہوا کی تازہ گھڑت ہے۔ اس کااصل منشا معنی آیات میں  بے فہمی محض یاحسب ِعادت دیدہ ودانستہ کلامِ الہٰی پرافترا وتہمت ہے۔ قرآنِ عظیم نے کس جگہ فرمایا ہے کہ کوئی کبھی کسی مادہ کے حمل کو کسی طرح تدبیر سے اتنا معلوم نہیں  کرسکتا کہ نرہے یا مادہ، اگر کہیں  ایسا فرمایا ہو تو نشان دو، اور جب یہ نہیں  توبعض وقت بعض اناث کے بعض حمل کابعض حال بعض تدابیر سے بعض اشخاص نے بعد جہل طویل وعجز مدیدبعض آلات بیجان کا فقیر و    محتاج ہوکر اس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایک ذرہ علم وقدرت سے (کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چندروز کے لئے پائے اورا ب بھی اسی کے قبضہ واقتدار میں  ہیں  کہ بے اس کے کچھ کام نہ دیں ) اگر صحرا سے ذرہ سمندر سے قطرہ معلوم کرلیا تو یہ آیاتِ کریمہ کے کس حرف کا خلاف ہوا؟

             وہ خود فرماتاہے:

’’یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ‘‘ (بقرہ:۲۵۵)

اللّٰہجانتاہے جوان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اوروہ نہیں  پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن