دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ہوئے آپ سے عافیت اور سلامتی کے بدلے جلدی عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں  حالانکہ ان سے پہلے اپنے رسولوں  کو جھٹلانے والی امتوں  کی عبرتناک سزائیں  گزر چکی ہیں  ، ان کا حال دیکھ کر انہیں  عبرت حاصل کرنی چاہئے اور اے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ  تو لوگوں  کے شرک کے باوجود بھی  ایک طرح کی معافی دینے والا ہے کہ ان کے عذاب میں  جلدی نہیں  فرماتا اور انہیں  مہلت دیتا ہے تو ان لوگوں  کو تو اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے توبہ کرنی چاہیے اور کفروشرک سے باز آجانا چاہیے اور ہرگز ہرگز غافل نہیں  ہونا چاہیے کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جب عذاب نازل فرماتا ہے تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہوتا ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۵۳-۵۴)

اللّٰہ تعالٰی کاعَفْو دیکھ کر غافل نہیں  ہونا چاہئے:

            اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ایک سے ایک بڑے گناہ کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے فوری پکڑ نہ ہونا اور جلد سزا نہ ملنا اللّٰہ تعالیٰ کا عفو و درگزر اور اس کی رحمت ہے اور اس کے نتیجے میں  ہونا یہ چاہئے کہ بندہ اپنے گناہوں  سے تائب ہو کر اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری والے کاموں  میں  مصروف ہو جائے اور اس کی رحمت دیکھ کر ہر گز غفلت کا شکار نہ ہو کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے تو جبّار و قَہّار بھی ہے ،و ہ عفو ودرگزر کرنے والا ہے تو پکڑ و گرفت فرمانے والا بھی ہے، وہ گناہوں  کو بخشنے والا ہے تو گناہوں  پر سزا اور عذاب دینے والا بھی ہے، لیکن افسوس! ہمارا حال اس کے انتہائی برعکس نظر آرہا ہے کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی طرف سے ملنے والی مہلت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنی نافرمانی اور سرکشی والی عادت کو مزید پختہ کئے جا رہے ہیں  اور اس بات کو اپنے حاشیۂ خیال تک میں  لانے کو تیار نہیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔

            اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِؕ-لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَؕ-بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىٕلًا(کہف:۵۸)

 ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہارا رب بڑا بخشنے والا،رحمت وا لا ہے۔ اگر وہ لوگوں  کو ان کے اعمال کی بنا پر پکڑ لیتا تو جلد ان پر عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لیے ایک وعدے کا وقت ہے جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں  گے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ(۴۹)وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ(حجر:۴۹، ۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:میرے بندوں  کو خبردو کہ بیشک میں  ہی بخشنےوالا مہربان ہوں ۔ اوربیشک میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔

            حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا مُحاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنے آپ کو خواہشات کے پیچھے لگا کر رکھے اور اللّٰہ تعالیٰ سے امید رکھے۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب،  ۴ / ۲۰۷، الحدیث: ۲۴۶۷)

            حضرت یحییٰ بن معاذرَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:’’میرے نزدیک سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ معافی کی امید پر ندامت کے بغیر آدمی گناہوں  میں  بڑھتا جائے ،اطاعت کے بغیر اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کی توقع رکھے ،جہنم کا بیج ڈال کر جنت کی کھیتی کا منتظر رہے،گناہوں  کے ساتھ عبادت گزار لوگوں  کے گھر کا طالب ہو،عمل کے بغیر جزا کا انتظار کرے اور زیادتی کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ سے(مغفرت کی ) تمنا کرے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان حقیقۃ الرجاء، ۴ / ۱۷۶)

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنے عفو سے غافل نہ ہونے، اپنے عذاب سے ڈرتے رہنے اور اپنی آخرت کو بہتر بنانے کے لئے نیک اعمال کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کا فر کہتے ہیں  ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں  نہیں  اتری تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کا فر کہتے ہیں : ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیو ں  نہیں  اتری ؟(اے حبیب!) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی ہو۔

{وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اور کا فر کہتے ہیں ۔} یعنی کفارِ مکہ کہتے ہیں  کہ محمد مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ویسی نشانی کیوں  نہیں  اتری جیسی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئی۔(ابوسعود، الرعد، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۱۴۹)

کافروں  کا عناد اور نا انصافی:

            کافروں  کا یہ قول نہایت بے ایمانی کا قول تھا کیونکہ جتنی آیات نازل ہوچکی تھیں  اور جتنے معجزات دکھائے جا چکے تھے سب کو انہوں  نے کالعدم قرار دے دیا، یہ انتہا درجہ کی ناانصافی اور حق دشمنی ہے۔ جب دلائل قائم ہوچکیں  اور ناقابلِ انکار شواہد پیش کردیئے جائیں  اور ایسے دلائل سے مُدّعا ثابت کردیا جائے جس کے جواب سے مخالفین کے تمام اہلِ علم و ہنر عاجز اور حیران رہیں  اور انہیں  لب ہلانا ،زبان کھولنا محال ہوجائے ،توایسے روشن دلائل ،واضح شواہد اور ظاہر معجزات کودیکھ کر یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں  نہیں  اُترتی؟ روزِ روشن میں  دن کا انکار کردینے سے بھی زیادہ بدتر اور باطل تر ہےاور حقیقت میں  یہ حق کو پہچان کر اس سے عناد اور فرار ہے کیونکہ کسی دعوے پر جب مضبوط دلیل قائم ہوجائے پھر اس پر دوبارہ دلیل قائم کرنی ضروری نہیں  رہتی اور ایسی حالت میں  دلیل طلب کرنا عناد اور مخالفت ہوتا ہے اورجب تک پہلی دلیل کو رد نہ کردیا جائے کوئی شخص دوسری دلیل طلب کرنے کا حق نہیں  رکھتا اور اگر یہ سلسلہ قائم کردیا جائے کہ ہر شخص کے لئے نئی دلیل قائم کی جائے جس کو وہ طلب کرے اور وہی نشانی لائی جائے جو وہ مانگے تو نشانیوں  کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، اس لئے اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایسے معجزات دیئے جاتے ہیں  جن سے ہر شخص ان کی صداقت اور نبوت کا یقین کرسکے اور بہت سے معجزات اس قسم کے ہوتے ہیں  کہ جس میں  اُن کی امت اور ان کے زمانے کے لوگ زیادہ مشق و مہارت رکھتے ہیں  جیسے کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ میں  جادو کا علم اپنے کمال کو پہنچاہوا تھا اور اس زمانے کے لوگ جادو کے بڑے ماہرِ کامل تھے تو حضر ت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وہ معجزہ عطا ہوا جس نے جادو کو باطل کردیا اور جادوگروں  کو یقین دلا دیا کہ جو کمال حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دکھایا وہ رَبّانی نشان ہے ،جادو سے اس کا مقابلہ ممکن نہیں ۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں طب انتہائی عروج پر تھی اس لئے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شفائے اَمراض

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن