30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صنعتوں میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر وہ سمجھ جائیں گے کہ یہ تمام آثار، بنانے والے ، حکمت والے اور قدرت والے کے وجود پر دلالت کرتے ہیں ۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۵۲، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۳، ص۵۴۹، ملتقطاً)
آیت’’ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:
ا س سے دو مسئلے معلوم ہوئے
(1)… سارا جہان سمجھدار کے لئے معرفت ِالہٰی کا دفتر ہے۔
(2)… فکر اور غور و خوض اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے، ایک ساعت کی فکر ہزار برس کے ذکر سے افضل ہے۔
وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ- وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین کے مختلف حصے ہیں جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتی اور کھجور کے درخت ہیں ایک جڑ سے اگے ہوئے اور الگ الگ اگے ہوئے ،سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر بناتے ہیں ، بیشک اس میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔
{وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ:اور زمین کے مختلف حصے ہیں ۔} آیت کی ابتدا میں فرمایا کہ زمین کے مختلف حصے ہیں یعنی جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے، ان میں سے کوئی قابلِ زراعت ہے کوئی ناقابلِ زراعت، کوئی پتھریلا ، کوئی ریتیلا، اس کے بعد ایک منفرد انداز میں قدرتِ الہٰی کا بیان فرمایا کہ ایک ہی پانی اور ایک ہی زمین سے قریب قریب ہونے کے باوجود اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مختلف رنگ، خوشبو، ذائقے، سائز اور قسم کے پھل پیدا فرماتا ہے پھر ان میں سے ہر ایک میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کی نشانیاں ہیں کہ ایک ہی درخت پر اُگنے والا کوئی پھل چھوٹا، کوئی بڑا، کوئی میٹھا، کوئی کھٹا اور اس کے علاوہ کیا کیا باریکیاں ایک ایک دانے میں رکھی گئی ہیں وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی بہتر جانتا ہے۔
حضرتِ حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک نکتے کے طور پر فرماتے ہیں ’’اس آیت میں بنی آدم کے دلوں کی ایک مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح زمین ایک تھی اس کے مختلف حصے ہوئے ،ان پر آسمان سے ایک ہی پانی برسا تو اس سے مختلف قسم کے پھل پھول، بیل بوٹے، اچھے اور برے پیدا ہوئے ، اِسی طرح آدمی حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پیدا کئے گئے، ان پر آسمان سے ہدایت اُتری، اس ہدایت سے بعض دل نرم ہوئے اور ان میں خشوع وخضوع پیدا ہوا، بعض سخت ہوگئے اور کھیل کود اور لَغویات میں مبتلا ہوگئے تو جس طرح زمین کے حصے اپنے پھول پھل میں مختلف ہیں اس طرح انسانی دل اپنے آثار،انوار اور اَسرار میں مختلف ہیں ۔ (صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۹۹۰، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۴، ص۵۵۰، ملتقطاً)
وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ﱟ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تم تعجب کرو تو اچنبا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اسی میں رہنا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم تعجب کرو تو تعجب والی چیزتو ان کا یہ کہنا ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے بنائے جائیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں ،اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{وَ اِنْ تَعْجَبْ:اور اگر تم تعجب کرو۔} یعنی اے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ صادق و امین معروف ہونے کے باوجود کفار کے جھٹلانے کی وجہ سے تعجب کررہے ہیں تو اس سے بڑھ کر تعجب کے قابل تو ان کا یہ کہنا ہے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے ویسے ہی بنائے جائیں گے جیسے ہم مرنے سے پہلے تھے۔ یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ جس نے ابتداء ً بغیر مثال کے پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کا انکار کیا ، ان کا انجام یہ ہوگا کہ بروزِ قیامت ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے، یہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اوراس سے نہ کبھی نکل سکیں گے اور نہ انہیں وہاں موت آئے گی۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۵۳، جلالین، الرعد، تحت الآیۃ: ۵، ص۲۰۰، ملتقطاً)
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُؕ-وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْۚ-وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ(۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے اور ان سے اگلوں کی سزائیں ہوچکیں اور بے شک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انہیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے اور بے شک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور رحمت سے پہلے تم سے عذاب کا جلدی مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک سزائیں گزر چکی ہیں اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم کے باوجود بھی انہیں ایک قسم کی معافی دینے والا ہے اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے۔
{وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ:اور رحمت سے پہلے تم سے عذاب کا جلدی مطالبہ کرتے ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مکہ کے مشرکین مذاق اڑاتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع