30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حَتّٰۤى اِذَا اسْتَایْــٴَـسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُؕ-وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان: یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے پھیرا نہیں جاتا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا ہے تو اس وقت ان کے پاس ہماری مدد آگئی تو جسے ہم نے چاہا اسے بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا۔
{حَتّٰۤى اِذَا اسْتَایْــٴَـسَ الرُّسُلُ:یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی۔}یعنی لوگوں کو چاہئے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہوجائیں کیونکہ پہلی اُمتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جاچکی ہیں یہاں تک کہ جب اُن کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے رسولوں کو اپنی قوموں پر دنیا میں ظاہری عذاب آنے کی اُمید نہ رہی تو قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں تو اس وقت اچانک انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے ہماری مدد آگئی اور ہم نے اپنے بندوں میں سے اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچالیا اور مجرمین اس عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ (ابوسعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۱۴۲-۱۴۳، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ص۵۴۸، ملتقطاً)
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۱۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں لیکن اپنے سے اگلے کاموں کی تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ان رسولوں کی خبروں میں عقل مندوں کیلئے عبرت ہے ۔ یہ (قرآن) کوئی ایسی بات نہیں جو خود بنالی جائے لیکن (یہ قرآن) ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے تھیں اور یہ ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
{لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ:بیشک ان رسولوں کی خبروں میں ۔} یعنی بے شک انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اور ان کی قوموں کی خبروں میں عقل مندوں کیلئے عبرت ہے جیسے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت ہے اور اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے ۔ بندے کوسختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہئے ،ر حمت ِالہٰی دست گیری کرے تو کسی کی بد خواہی کچھ نہیں کرسکتی۔ اس کے بعد قرآنِ پاک کے بارے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ قرآن کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے کسی انسان نے اپنی طرف سے بنالیا ہو کیونکہ اس کا عاجز کر دینے والا ہونا اس کے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے البتہ یہ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں توریت اور انجیل کی تصدیق کرنے والا ہے اور قرآن میں حلال، حرام، حدود و تعزیرات، واقعات، نصیحتوں اور مثالوں وغیرہ ہر چیز کا مفصل بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے کیونکہ وہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۵۴۸، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۳ / ۵۰-۵۱، ملتقطاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع