30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اس کے دروازے پر لکھا ’’یہ بلا کا گھر، زندوں کی قبر ، دشمنوں کی بدگوئی اور سچوں کے امتحان کی جگہ ہے۔ پھر غسل فرمایا اور پوشاک پہن کر ایوانِ شاہی کی طرف روانہ ہوئے ،جب قلعہ کے دروازے پر پہنچے تو فرمایا ’’میرا رب عَزَّوَجَلَّمجھے کافی ہے، اس کی پناہ بڑی اور اس کی ثنا برتر اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر قلعہ میں داخل ہوئے اور جب بادشاہ کے سامنے پہنچے تو یہ دعا کی کہ’’ یارب! عَزَّوَجَلَّ،میں تیرے فضل سے بادشاہ کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور اس کی اور دوسروں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ جب بادشاہ سے نظر ملی تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عربی میں سلام فرمایا۔بادشاہ نے دریافت کیا ’’یہ کون سی زبان ہے ؟ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا’’یہ میرے چچا حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زبان ہے۔ پھر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بادشاہ کے سامنے عبرانی زبان میں دعا کی تواُس نے دریافت کیا’’یہ کون سی زبان ہے؟حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’یہ میرے والدِ محترم کی زبان ہے۔ بادشاہ یہ دونوں زبانیں نہ سمجھ سکاحالانکہ وہ 70 زبانیں جانتا تھا ،پھر اُس نے جس زبان میں حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے گفتگو کی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اُسی زبان میں بادشاہ کو جواب دیا۔ اُس وقت حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عمر شریف تیس سال کی تھی، اس عمر میں علوم کی ایسی وسعت دیکھ کر بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی اور اُس نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے برابر جگہ دی۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے درخواست کی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاما س کے خواب کی تعبیر اپنی زبانِ مبارک سے سنائیں ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس خواب کی پوری تفصیل بھی سنادی کہ اس اس طرح سے اس نے خواب دیکھا تھا حالانکہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ خواب اس سے پہلے تفصیل سے بیان نہ کیا گیا تھا۔ اس پر بادشاہ کو بہت تعجب ہوا اور وہ کہنے لگا ’’آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تو میرا خواب جیسے میں نے دیکھا تھا ویسے ہی بیان فرما دیا ،خواب کا عجیب ہونا تو اپنی جگہ لیکن آپ کا اس طرح بیان فرما دینا اس سے بھی زیادہ عجیب تر ہے، اب اس خواب کی تعبیر بھی ارشاد فرما دیں ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے تعبیر بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا ’’اب لازم یہ ہے کہ غلّے جمع کئے جائیں اور ان فراخی کے سالوں میں کثرت سے کاشت کرائی جائے اور غلّےبالیوں کے ساتھ محفوظ رکھے جائیں اور رعایا کی پیداوار میں سے خُمس لیا جائے، اس سے جو جمع ہوگا وہ مصر اور ا س کے اَطراف کے باشندوں کے لئے کافی ہوگا اورپھر خلقِ خدا ہر طرف سے تیرے پاس غلہ خریدنے آئے گی اور تیرے یہاں اتنے خزانے اور مال جمع ہو جائیں گے جو تجھ سے پہلوں کے لئے جمع نہ ہوئے ۔ بادشاہ نے کہا یہ انتظام کون کرے گا؟(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳ / ۲۶-۲۷، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۵۳۴-۵۳۵، ملتقطاً)حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بادشاہ کے اس سوال کا جو جواب دیا وہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان: یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یوسف نے فرمایا: مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو ، بیشک میں حفاظت والا، علم والا ہوں ۔
{قَالَ:فرمایا۔}حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بادشاہ سے فرمایا: اپنی سلطنت کے تمام خزانے میرے سپرد کردے، بے شک میں خزانے کی حفاظت کرنے والا اور ان کے مَصارف کو جاننے والا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہوسکتا ہے ؟ چنانچہ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔
عہدہ اور امارت کا مطالبہ کب جائز ہے؟
یاد رہے کہ احادیث میں مذکور مسائل میں جو امارت یعنی حکومت یا بڑا عہدہ طلب کرنے کی ممانعت آئی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جب ملک میں اہلیت رکھنے والے موجود ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ کے اَحکام نافذ کرناکسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو تو اس وقت امارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اہلیت رکھتا ہو تو اس کو اللّٰہ تعالیٰ کے احکام نافذ کرنے کے لئے امارت طلب کرنا جائز بلکہ اسے تاکید ہے ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہی حال تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامرسول تھے، اُمت کی ضروریات سے واقف تھے ،یہ جانتے تھے کہ شدید قحط ہونے والا ہے جس میں مخلوق کو راحت اور آسائش پہنچانے کی یہی صورت ہے کہ عنانِ حکومت کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے ہاتھ میں لیں اس لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے امارت طلب فرمائی ۔
یہاں امارت سے متعلق 3 اَہم مسائل یاد رکھئے:
(1)… عدل قائم کرنے کی نیت سے ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدے قبول کرنا جائز ہے۔
(2)…اگر دین کے احکام کو جاری کرنا کافر یا فاسق بادشاہ کی طرف سے عہدہ لئے بغیر نہ ہو سکے گاتو اس میں اس سے مدد لینا جائز ہے۔
(3)…فخر اور تکبر کے لئے ـاپنی خوبیوں کو بیان کرنا ناجائز ہے لیکن دوسروں کو نفع پہنچانے یا مخلوق کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے اگر اپنی خوبیوں کے اظہار کی ضرورت پیش آئے تو ممنوع نہیں اسی لئے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بادشاہ سے فرمایا کہ میں حفاظت و علم والا ہوں ۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳ / ۲۷، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۵، ص۵۳۵، ملتقطاً۔)
عہدہ قبول نہ کرنے میں عافیت کی صورت:
یاد رہے کہ عدل قائم کرنے کی نیت سے ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدے کو قبول کرنا جائز ہے اور اگر عہدہ ملنے کے باوجود عدل قائم کر سکنا ممکن نہ ہو تو ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدہ قبول نہ کرنے میں ہی عافیت ہے اور یہی ہمارے بزرگانِ دین کا طرزِ عمل رہا ہے ،چنانچہ حضرت ربیع بن عاصم رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یزید بن عمر امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بیتُ المال کا نگران مقرر کرنا چاہتا تھا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس سے انکار کر دیا تو اس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بیس کوڑے مارے۔‘‘اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی امانت داری کی وجہ سے بادشاہ نے اپنے خزانے کی چابیاں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالے کرنے کاارادہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر انکار کیا تو وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی پیٹھ پر کوڑے برسائے گا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع