30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جماعت میں بہت شاندار وعظ فرمایا، اس کے بعد کسی نے پوچھا کہ آپ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: نہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ ’’ اے موسیٰ !عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تم سے بڑے عالم حضرت خضرعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ سے ان کا پتہ پوچھا تو ارشاد فرمایا : مَجمعِ بَحرَین میں رہتے ہیں ، وہاں کی نشانی یہ بتائی، کہ جہاں بھنی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے اور پانی میں سرنگ بن جائے ، وہاں حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک کہ مشرق کی جانب دوسمندروں یعنی بحرِ فارس اور بحرِ روم کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں یا اگر وہ جگہ دور ہو تو مدتوں تک چلتا رہوں گا ۔پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لے کر روانہ ہوئے۔( تفسیرکبیر، الکھف، تحت الآیۃ: ۶۰، ۷ / ۴۷۷، روح البیان، الکھف، تحت الآیۃ: ۶۰، ۵ / ۲۶۲-۲۶۳، مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۶۵۷، ملتقطاً)
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات:
حضرت موسیٰ اور حضرت خضرعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے سے چند باتیں معلوم ہوئیں ۔
(1)…علم کے لئے سفر کرنا اللّٰہ تعالیٰ کے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے۔
(2)… استاد کے پاس جانا اور اسے گھر نہ بلانا سنت ہے۔
(3)…علم کی زیادتی چاہنا بہتر ہے۔
(4)…سفر میں توشہ ساتھ رکھنا اچھا ہے۔
(5)… سفر میں اچھا ساتھی ہونا بہتر ہے۔
(6)… استاد کا ادب کرنا ضروری ہے۔
(7)… استاد کی بات پر اعتراض نہ کرنا چاہیے۔
(8)… جہاں تک ہوسکے پیر ِکامل کے فعل کی تاویل کرنی چاہیے اور اس سے بد ظن نہیں ہونا چاہیے جبکہ وہ واقعی پیر ِ کامل اور شریعت کا سچا عامل ہو۔
(9)… علم صرف کتا ب سے نہیں آتا بلکہ استاد کی صحبت سے بھی آتا ہے۔
(10)… بزرگوں کی صحبت کیمیا کا اثر رکھتی ہے۔
(11)… اپنے آپ کو اِستفادہ کرنے سے مُستَغنی نہیں سمجھنا چاہیے۔
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا(۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب وہ دونوں دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچے تواپنی مچھلی بھول گئے اور اس مچھلی نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنالیا۔
{فَلَمَّا بَلَغَا: پھر جب وہ دونوں پہنچے۔} حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت یوشع بن نونعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچے ، وہاں ایک پتھر کی چٹان اور چشمۂ حیات تھا ۔ اس جگہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ نے آرام فرمایا اور حضرت یوشع عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وضو کرنے لگے۔ اسی دوران بھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں زندہ ہوگئی اور تڑپ کر دریا میں گری ، اس پر سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک محراب سی بن گئی ۔ حضرت یوشع عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامیہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بیدار ہوئے تو حضرت یوشع عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان سے مچھلی کا واقعہ ذکر کرنا یاد نہ رہا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ اپنی مچھلی بھول گئے اور اس مچھلی نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنالیا۔(روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۶۱، ۵ / ۲۶۴-۲۶۵)
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا٘-لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا(۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب وہ وہاں سے گزر گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا: ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر سے بڑی مشقت کا سامنا ہواہے۔
{فَلَمَّا جَاوَزَا:پھر جب وہ وہاں سے گزر گئے۔} ارشاد فرمایا کہ پھر جب وہ دونوں اس جگہ سے گزر گئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے روز کھانے کا وقت آیا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے خادم سے فرمایا: ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر سے بڑی مشقت کا سامنا ہوا ہے۔ تھکان بھی ہے بھوک کی شدت بھی ہے۔ اور یہ بات جب تک مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن پہنچے تھے پیش نہ آئی تھی اور جب منزلِ مقصود سے آگے بڑھ گئے تو تھکن اور بھوک معلوم ہوئی، اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ وہ مچھلی یاد کریں اور اس کی طلب میں منزلِ مقصود کی طرف واپس ہوں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے یہ فرمانے پر خادم نے معذرت کی اور یہ کہا، جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۲۱۸، ملخصاً)
قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ٘-وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗۚ-وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ ﳓ عَجَبًا(۶۳)قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ﳓ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ(۶۴) فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا(۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان: بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے تو سمندر میں اپنی راہ لی اچنبا ہے۔موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے۔ تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع