30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمانوں اور زمین میں کتنی نشانیاں ہیں جن کے پاس سے گزرجاتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللّٰہ پر یقین نہیں کرتے مگر شرک کرتے ہوئے۔
{وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ:اور کتنی نشانیاں ہیں ۔} آسمانی نشانیوں سے مراد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی قوت و قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں یعنی آسمان کا وجود، سورج، چاند اور ستارے ہیں اور زمینی نشانیوں سے ہلاک شدہ امتوں کے آثار مراد ہیں ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان لوگوں کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے منہ موڑنے پر آپ تعجب نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کا اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان سے منہ پھیرلینا اور غورو فکر کر کے عبرت حاصل نہ کرنازیادہ عجیب ہے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۵۴۷، صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳ / ۹۸۴، ملتقطاً)
{وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ:اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللّٰہ پر یقین نہیں کرتے۔} جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے خالق اور رازق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود بت پرستی کرکے غیروں کو عبادت میں اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کرتے تھے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۵۴۷)
اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۱۰۷)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللّٰہ کا عذاب انہیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر اللّٰہ کے عذاب سے چھاجانے والی مصیبت آجائے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
{اَفَاَمِنُوْا:کیا وہ اس بات سے بے خوف ہیں ۔} یعنی جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار نہیں کرتے اور غیرُ اللّٰہ کی عبادت کرنے میں مصروف ہیں کیا انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی وجہ سے ان پر اللّٰہ تعالیٰ کا ایسا عذاب نازل ہو جائے جو مکمل طور پر انہیں اپنی گرفت میں لے لے یا اسی شرک اور کفر کی حالت میں اچانک ان پر قیامت آ جائے اور اللّٰہ تعالیٰ دائمی عذاب کے لئے انہیں دوزخ میں ڈال دے۔ (تفسیر طبری، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۷ / ۳۱۴)
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ﱘ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ-وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللّٰہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں اور اللّٰہ کو پاکی ہے اور میں شریک کرنے والا نہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤیہ میرا راستہ ہے میں اللّٰہ کی طرف بلاتا ہوں ۔میں اور میری پیروی کرنے والے کامل بصیرت پر ہیں اور اللّٰہ ہر عیب سے پاک ہے اور میں شرک کرنے والا نہیں ہوں ۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اِن مشرکین سے فرما دیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور دینِ اسلام کی دعوت دینا یہ میرا راستہ ہے ، میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی توحید اور اس پر ایمان لانے کی طرف بلاتا ہوں ۔ میں اور میری پیروی کرنے والے کامل یقین اور معرفت پر ہیں ۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی فضیلت:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماحسن راستے اور افضل ہدایت پر ہیں ، یہ علم کے معدن، ایمان کے خزانے اوررحمٰن کے لشکر ہیں ۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’طریقہ اختیار کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ گزرے ہوؤں کا طریقہ اختیار کریں ، گزرے ہوئے حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں ، ان کے دِل اُمت میں سب سے زیادہ پاک، علم میں سب سے گہرے، تَکلُّف میں سب سے کم ہیں ، وہ ایسے حضرات ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت اور اُن کے دین کی اشاعت کے لئے چن لیا۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۳ / ۴۸-۴۹)
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰىؕ-اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْاؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۰۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا اور بے شک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب شہروں کے رہنے والے مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے تو کیا یہ لوگ زمین پرنہیں چلے تاکہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوااور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے۔تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا:اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل ِمکہ نے کہا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نبی کیوں نہ بنا کر بھیجا، اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے انسان ہونے پر حیران کیوں ہیں حالانکہ ان سے پہلے جتنے بھی اللّٰہ تعالیٰ کے رسول تشریف لائے سب ان کی طرح انسان اور مردہی تھے ،کسی فرشتے ،جن، عورت اور دیہات میں رہنے والے کو نبوت کا منصب نہیں دیا گیا۔ کیا یہ جھٹلانے والے مشرکین زمین پر نہیں چلے تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا انہیں کس طرح ہلاک کر دیا گیا اور بے شک آخرت کاگھر یعنی جنت پرہیزگاروں کے لئے دنیا سے بہتر ہے تو کیا تم غوروفکر نہیں کرتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے تاکہ ایمان قبول کر سکو۔ (صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۹۸۵، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۴۹، ملتقطاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع