30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاریخ بیان کرنے والے علما فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے فرزند حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس مصر میں چوبیس سال بہترین عیش و آرام میں اور خوش حالی کے ساتھ رہے، جب وفات کا وقتقریب آیا تو آپ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کووصیت کی کہ آپ کا جنازہ ملک ِشام میں لے جا کر ارضِ مقدّسہ میں آپ کے والد حضرت اسحق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر شریف کے پاس دفن کیا جائے ۔اس وصیت کی تعمیل کی گئی اور وفات کے بعد ساج کی لکڑی کے تابوت میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا جسد ِاطہر شام میں لایا گیا ،اسی وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائی عیص کی وفات ہوئی ،آپ دونوں بھائیوں کی ولادت بھی ساتھ ہوئی تھی اور دفن بھی ایک ہی قبر میں کئے گئے اور دونوں صاحبوں کی عمر147(یا 145 )سال تھی۔ جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے والد اور چچا کو دفن کرکے مصر کی طرف واپس روانہ ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا کی جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳ / ۴۶-۴۷)
رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِۚ-فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ- اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(۱۰۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے رب بے شک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے رب! بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے خوابوں کی تعبیر نکالنا سکھادیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے! تو دنیا اور آخرت میں میرا مددگار ہے، مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور مجھے اپنے قرب کے لائق بندوں کے ساتھ شامل فرما۔
{رَبِّ:اے میرے رب!} اس آیت میں حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو اسلام کی حالت میں موت عطا ہونے کی دعا مانگی، ان کی یہ دعا دراصل امت کی تعلیم کے لئے ہے کہ وہ حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتے رہیں ۔
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وفات اور تدفین:
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنے والد ماجد کے بعد 23 سال زندہ رہے، اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات ہوئی، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مقامِ دفن کے بارے میں اہلِ مصر کے اندر سخت اختلاف واقع ہوا، ہر محلہ والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن کرنے پر مُصر تھے، آخر یہ رائے طے پائی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ پانی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر سے چھوتا ہوا گزرے اور اس کی برکت سے تمام اہلِ مصر فیض یاب ہوں چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سنگِ رِخام یا سنگِ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل کے اندر دفن کیا گیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہیں رہے یہاں تک کہ 400 برس کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا تابوت شریف نکالا اور آپ کو آپ کے آبائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس ملکِ شام میں دفن کیا۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ص۵۴۶، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳ / ۴۷، ملتقطاً)
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَۚ-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ(۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ سازش کررہے تھے۔
{ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ:یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں ۔}اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے جو واقعات ذکر کئے گئے یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو کہ وحی نازل ہونے سے پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو معلوم نہ تھیں کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس وقت حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنے بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو کنویں میں ڈالنےکا پختہ ارادہ کر لیا تھا ا ور وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں سازش کر رہے تھے ، اس کے باوجود اے اَنبیاء کے سردار! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کا ان تمام واقعات کو اس تفصیل سے بیان فرمانا غیبی خبر اور معجزہ ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳ / ۴۷-۴۸، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ص۵۴۶-۵۴۷، ملتقطاً)
وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ(۱۰۳)وَ مَا تَسْــٴَـلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠(۱۰۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے۔ اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہیں مانگتے یہ تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ آپ کو کتنی ہی خواہش ہو۔ اور آپ اس (تبلیغ) پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتے۔ یہ تو سارے جہان کیلئے صرف نصیحت ہے۔
{اَكْثَرُ النَّاسِ:اکثر لوگ ۔} یہودیوں اور کفارِ قریش نے سرورِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا قصہ دریافت کیا تھا، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی طرح حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا قصہ ان کے سامنے بیان کر دیا جیسا تورات میں لکھاتھا تو بھی وہ ایمان نہ لائے، ان کے ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت دکھ ہوا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ آپ کو ان کے ایمان کی کتنی ہی خواہش ہو۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۳ / ۴۸)
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ(۱۰۵)وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(۱۰۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔ اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللّٰہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع