دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مصر کے بادشاہِ اعظم کو اپنے والد ماجد کی تشریف آوری کی اطلاع دی اور چار ہزار لشکری اور بہت سے مصری سواروں  کو ہمراہلے کر آپ اپنے والد صاحب کے استقبال کے لئے صدہا ریشمی پھریرے اُڑاتے اور قطاریں  باندھے روانہ ہوئے۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے فرزند یہودا کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے ،جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نظر لشکرپر پڑی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دیکھا کہ صحرا زَرق بَرق سواروں  سے پُر ہورہا ہے تو فرمایا ’’ اے یہودا! کیا یہ فرعونِ مصر ہے جس کا لشکر اس شان وشوکت سے آرہا ہے ؟یہودا نے عرض کی’’ نہیں  ،یہ حضور کے فرزند حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو متعجب دیکھ کر عرض کیا ’’ہوا کی طرف نظر فرمایئے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خوشی میں  شرکت کے لئے فرشتے حاضر ہوئے ہیں  جو کہ مدتوں  آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے غم کی وجہ سے روتے رہے ہیں  ۔ فرشتوں  کی تسبیح ، گھوڑوں  کے ہنہنانے اور طبل و بگل کی آوازوں  نے عجیب کیفیت پیدا کردی تھی ۔یہ محرم کی دسویں  تاریخ تھی ،جب دونوں  حضرات یعنی حضرت یعقوب اور حضرت یوسف عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قریب ہوئے تو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سلام عرض کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا کہ آپ توقف کیجئے اور والد صاحب کو پہلے سلام کا موقع دیجئے، چنانچہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُذْھِبَ الْاَحْزَانِ‘‘ یعنی اے غم و اَندو ہ کے دور کرنے والے سلام ! اور دونوں  صاحبوں  نے اُتر کر معانقہ کیا اور مل کر خوب روئے، پھر اس مزین رہائش گاہ میں  داخل ہوئے جو پہلے سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے استقبال کے لئے نفیس خیمے وغیرہ نصب کرکے آراستہ کی گئی تھی۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۸، ۳ / ۴۴-۴۵، جمل مع جلالین، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۸-۹۹، ۴ / ۸۰-۸۱، ملتقطاً) یہ داخل ہونا حدودِ مصر میں  تھا اس کے بعد دوسری بار داخل ہونا خاص شہر میں  ہے جس کا بیان اگلی آیت میں  ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں  باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں  داخل ہو اللّٰہ چاہے تو امان کے ساتھ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے تواس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا: تم مصر میں  داخل ہوجاؤ، اگر اللّٰہ نے چاہا (تو) امن وامان کے ساتھ ۔

{اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ:اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی۔} ماں  سے مراد خالہ ہے، (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۹، ۳ / ۴۵)اور اس کے علاوہ بھی مفسرین کے اس بارے میں  کئی اقوال ہیں ۔

{اُدْخُلُوْا مِصْرَ:تم مصر میں  داخل ہوجاؤ۔} یہاں  داخل ہونے سے خاص شہر میں  داخل ہونا مراد ہے یعنی شہر ِمصر میں  داخل ہو جاؤ اگر اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو ہر ناپسندیدہ چیز سے امن وامان کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ (جلالین مع صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۹، ۳ / ۹۸۱، ملخصاً)

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًاۚ-وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ٘-قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّاؕ-وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے ماں  باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کے لیے سجدے میں  گرے اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بے شک اسے میرے رب نے سچا کیا اور بے شک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں  سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں  اور میرے بھائیوں  میں  ناچاقی کرادی تھیبے شک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بے شک وہی علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اوراس نے اپنے ماں  باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے لیے سجدے میں  گرگئے اور یوسف نے کہا: اے میرے باپ! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے، بیشک اسے میرے رب نے سچا کردیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالااور آپ سب کو گاؤں  سے لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں  اور میرے بھائیوں  میں  ناچاقی کروادی تھی۔ بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے، بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔

{وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ:اوراس نے اپنے ماں  باپ کو تخت پر بٹھایا۔} جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے والدین اور بھائیوں  کے ساتھ مصر میں  داخل ہوئے اور دربارِ شاہی میں  اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا، اس کے بعد والدین اور سب بھائیوں  نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کیا ۔ یہ سجدہ تعظیم اور عاجزی کے اظہار کے طور تھا اور اُن کی شریعت میں  جائز تھا جیسے ہماری شریعت میں  کسی عظمت والے کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا، مصافحہ کرنا اور دست بوسی کرنا جائز ہے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۵۴۵)

            یاد رہے کہ سجدۂ عبادت اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اورکسی کے لئے کبھی جائز نہیں  ہوا اورنہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ شرک ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ہماری شریعت میں  جائز نہیں ۔ سجدۂ تعظیمی کی حرمت سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 22ویں  جلد میں  موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا رسالہ ’’اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہْ فِیْ تَحْرِیْمِ سُجُوْدِ التَّحِیَّہْ ‘‘(غیر اللّٰہ  کے لئے سجدۂ تعظیمی حرام ہونے کا بیان) مطالعہ کیجئے۔

{وَ قَالَ:اور یوسف نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جب انہیں  سجدہ کرتے دیکھا تو فرمایا : اے میرے باپ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں  نے بچپن کی حالت میں  دیکھا تھا۔ بیشک وہ خواب میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے بیداری کی حالت میں  سچا کردیا اور بیشک اس نے قید سے نکال کر مجھ پر احسان کیا ۔ اس موقع پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کنوئیں  کا ذکر نہ کیا تاکہ بھائیوں  کو شرمندگی نہ ہو ۔ مزید فرمایا کہ شیطان نے مجھ میں  اور میرے بھائیوں  میں  حسد کی وجہ سے ناچاقی کروا دی تھی تو اس کے بعد میرا رب عَزَّوَجَلَّ آپ سب کو گاؤں  سے لے آیا۔ بیشک میرا رب عَزَّوَجَلَّ جس بات کو چاہے آسان کردے، بیشک وہی اپنے تمام بندوں  کی ضروریات کو جاننے والااور اپنے ہر کام میں  حکمت والا ہے۔

حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن