30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)… اُمّ المومنین حضرت امِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے پاس حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چند موئے مبارک تھے جنہیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے چاندی کی ایک ڈبیہ میں رکھا ہو اتھا۔ لوگ جب بیمار ہوتے تو وہ ان گیسوؤں سے برکت حاصل کرتے اور ان کی برکت سے شفا طلب کرتے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گیسوؤں کو پانی کے پیالے میں رکھ کر وہ پانی پی جاتے تو انہیں شفا مل جایا کرتی۔ (عمدۃ القاری، کتاب اللباس، باب ما یذکر فی الشیب، ۱۵ / ۹۴، تحت الحدیث: ۵۸۹۶)
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(۹۴)قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ(۹۵)
ترجمۂ کنزالایمان: جب قافلہ مصر سے جدا ہوا یہاں ان کے باپ نے کہا بے شک میں یوسف کی خوشبو پا تا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ گیا ۔ بیٹے بولے خدا کی قسم آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب قافلہ وہاں سے جدا ہواتو ان کے باپ نے فرما دیا: بے شک میں یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں ۔ اگرتم مجھے کم سمجھ نہ کہو ۔ حاضرین نے کہا: اللّٰہ کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی محبت میں گم ہیں ۔
{ وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ:اور جب قافلہ وہاں سے جدا ہوا۔} یعنی جب قافلہ مصر کی سرزمین سے نکلا اور کنعان کی طرف روانہ ہوا تو حضرت یعقوبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بیٹوں اور پوتوں یا پوتوں اور پاس والوں سے فرما دیا ’’بے شک میں یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قمیص سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں ۔ اگر تم مجھے کم سمجھ نہ کہو تو تم ضرور میری بات کی تصدیق کرو گے۔ (جلالین مع صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۴، ۳ / ۹۷۹، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۴، ص۵۴۴ملتقطاً)
{قَالُوْا:حاضرین نے کہا۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بات سن کرحاضرین نے ان سے کہا ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آپ اپنی اسی پرانی شدید محبت میں گم ہیں جس کی وجہ سے ایک عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ملنے کی امید لگی ہوئی ہے ۔یہ بات انہوں نے اس لئے کہی کیونکہ وہ اس گمان میں تھے کہ اب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کہاں زندہ ہوں گے اُن کی تو وفات بھی ہوچکی ہوگی۔ (جلالین مع صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۵، ۳ / ۹۸۰، ابو سعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۵، ۳ / ۱۳۸، ملتقطاً)
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًاۚ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ﳐ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۹۶)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کُرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللّٰہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب خوشخبری سنانے والا آیا تو اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈال دیا، اسی وقت وہ دیکھنے والے ہوگئے۔ یعقوب نے فرمایا: میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں اللّٰہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
{فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ:پھر جب خوشخبری سنانے والا آیا۔} جمہور مفسرین فرماتے ہیں کہ خوشخبری سنانے والے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائی یہودا تھے ۔ یہودا نے کہا کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس خون آلودہ قمیص بھی میں ہی لے کر گیا تھا، میں نے ہی کہا تھا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیڑیا کھا گیا، میں نے ہی اُنہیں غمگین کیا تھا اس لئے آج کُرتا بھی میں ہی لے کر جاؤں گا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زندگانی کی فرحت انگیز خبر بھی میں ہی سناؤں گا ۔ چنانچہ یہود ابرہنہ سر اور برہنہ پا کُرتا لے کر 80 فرسنگ (یعنی 240میل) دوڑتے آئے ، راستے میں کھانے کے لئے سات روٹیاں ساتھ لائے تھے، فَرطِ شوق کا یہ عالَم تھا کہ اُن کو بھی راستہ میں کھا کر تمام نہ کرسکے ۔ الغرض یہودا نے جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قمیص حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے چہرے پر ڈالی تو اسی وقت ان کی آنکھیں درست ہوگئیں اور کمزوری کے بعد قوت اور غم کے بعد خوشی لوٹ آئی، پھر حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامزندہ ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ ہمیں آپس میں ملا دے گا۔ (تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۶، ۶ / ۵۰۸، جمل مع جلالین، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۶، ۴ / ۸۰، ملتقطاً)
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِـٕیْنَ(۹۷)قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے ہمارے باپ ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بے شک ہم خطاوار ہیں ۔ کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیٹوں نے کہا: اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے ،بے شک ہم خطاکار ہیں ۔ فرمایا: عنقریب میں تمہارے لئے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، بے شک وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔
{قَالُوْا:بیٹوں نے کہا۔} یعنی جب حق بات ظاہر اور واضح ہو گئی تو بیٹوں نے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کی ’’اے ہمارے باپ! آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ سے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے بے شک ہم خطاکار ہیں ۔ (صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۷، ۳ / ۹۸۰)
{قَالَ:فرمایا۔} مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے بیٹوں کے لئے دعا اور استغفار کو سحری کے وقت تک مؤخر فرمایا کیونکہ یہ وقت دعا کے لئے سب سے بہترین ہے اور یہی وہ وقت ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، چنانچہ جب سحری کا وقت ہوا تو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے نماز پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر اللّٰہ تعالیٰ کے دربار میں اپنے صاحبزادوں کے لئے دعا کی، دعا قبول ہوئی اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وحی فرمائی گئی کہ صاحبزادوں کی خطا بخش دی گئی ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے والد ماجد کو اور اُن کے اہل واولاد کوبلانے کے لئے اپنے بھائیوں کے ساتھ 200 سواریاں اور کثیر سامان بھیجا تھا ، حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مصر کا ارادہ فرمایا اور اپنے اہلِ خانہ کو جمع کیا جو کل مرد وعورت 72 یا73 افراد تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اُن میں یہ برکت فرمائی کہ ان کی نسل اتنی بڑھی کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے جبکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا زمانہ ان سے صرف 400 سال بعد کا ہے، الحاصل جب حضرت یعقوب عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع