30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہیں ہو نا چاہئے:
اس سے معلوم ہوا کہ زندگی میں پے در پے آنے والی مصیبتوں ،مشکلوں اور دشواریوں کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ حقیقی طور پر دنیا و آخرت کی تمام مشکلات کو دور کرنے والا اور تنگی کے بعد آسانیاں عطا کرنے والا اس کے سوا اور کوئی نہیں ۔
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان:پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی اور ہم بے قدر پونجی لے کر آئے ہیں تو آپ ہمیں پورا ماپ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے بے شک اللّٰہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو کہنے لگے :اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی ہوئی ہے اور ہم حقیر سا سرمایہ لے کر آئے ہیں تو آپ ہمیں پورا ناپ دیدیجئے اور ہم پر کچھ خیرات بھی کیجئے، بیشک اللّٰہ خیرات دینے والوں کو صلہ دیتا ہے۔
{فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ:پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حکم سن کر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائی پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے، جب وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تنگی ، بھوک کی سختی اور جسموں کے دبلا ہوجانے کی وجہ سے مصیبت پہنچی ہوئی ہے ، ہم حقیر سا سرمایہ لے کر آئے ہیں جسے کوئی سودا گر اپنے مال کی قیمت میں قبول نہ کرے۔ وہ سرمایا چند کھوٹے درہم اور گھر کی اشیاء میں سے چند پرانی بوسیدہ چیزیں تھیں ، آپ ہمیں پورا ناپ دیدیجئے جیسا کھرے داموں سے دیتے تھے اور یہ ناقص پونجی قبول کرکے ہم پر کچھ خیرات کیجئے بیشک اللّٰہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو صلہ دیتا ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۴۱، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۵۴۳، ملتقطاً)
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ(۸۹)
ترجمۂ کنزالایمان:بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادان تھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یوسف نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب تم نادان تھے۔
{قَالَ:یوسف نے فرمایا۔} بھائیوں کا یہ حال سن کر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر گریہ طاری ہوگیا اور مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا کیا حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مارنا ،کنوئیں میں گرانا، بیچنا، والد صاحب سے جدا کرنا اور اُن کے بعد اُن کے بھائی کو تنگ رکھنا، پریشان کرنا تمہیں یاد ہے اور یہ فرماتے ہوئے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو تبسم آگیا اور اُنہوں نے آپ کے گوہرِ دندان کا حسن دیکھ کر پہچانا کہ یہ تو جمالِ یوسفی کی شان ہے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۵۴۳، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۹-۹۰، ۳ / ۴۲، ملتقطاً)
قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُؕ-قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ٘-قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَاؕ-اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰)قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـٕیْنَ(۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بے شک اللّٰہ نے ہم پر احسان کیا بے شک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللّٰہ نیکوں کا نیگ ضائع نہیں کرتا۔ بولے خدا کی قسم بے شک اللّٰہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اوربے شک ہم خطاوار تھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں ؟ فرمایا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بیشک اللّٰہ نے ہم پر احسان کیا۔ بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللّٰہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔انہوں نے کہا: اللّٰہ کی قسم! بیشک اللّٰہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاکار تھے۔
{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائیوں نے کہا ’’کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں ؟ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ہاں ، میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ،بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ، ہمیں جدائی کے بعد سلامتی کے ساتھ ملایا اور دین و دنیا کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ بے شک جو گناہوں سے بچے اور اللّٰہ تعالیٰ کے فرائض کی بجا آوری کرے، اپنے نفس کو ہر ا س بات یا عمل سے روک کر رکھے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اس پر حرام فرمایا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ثواب اورا س کی اطاعت گزاریوں کی جزا ضائع نہیں کرتا۔ (تفسیر طبری، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۰، ۷ / ۲۹۰، ملخصاً)
{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’’خدا کی قسم! بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو منتخب فرمایا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ہم پر علم ، عقل، صبر، حلم اور بادشاہت میں فضیلت دی، بے شک ہم خطاکار تھے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کوعزت دی، بادشاہ بنایا اور ہمیں مسکین بنا کر آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے لایا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۴۳، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۱، ص۵۴۳، ملتقطاً)
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۹۲)
ترجمۂ کنزالایمان: کہا آج تم پر کچھ ملامت نہیں اللّٰہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں ، اللّٰہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔
{قَالَ:فرمایا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا آج اگرچہ ملامت کرنے کا دن ہے ،لیکن میری جانب سے تم پر آج اور آئندہ کوئی ملامت نہ ہوگی، پھر بھائیوں سے جو خطائیں سرزد ہوئی تھیں ان کی بخشش کے لئے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا فرمائی کہ اللّٰہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۹۲،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع