دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ترجمۂ کنزالایمان: کہا تمہارے نفس نے تمہیں  کچھ حیلہ بنا دیا تو اچھا صبر ہے قریب ہے کہ اللّٰہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یعقوب نے فرمایا: بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لئے کچھ حیلہ بنادیا ہے تو عمدہ صبر ہے۔ عنقریب اللّٰہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔

{قَالَ:فرمایا۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف غلط ہے اور چوری کی سزا غلام بنانا ، یہ بھی کوئی کیا جانے اگر تم فتویٰ نہ دیتے اور تم نہ بتاتے ،  تمہارے نفس نے تمہارے لئے کچھ حیلہ بنا دیا ہے تو اب بھی میرا عمل عمدہ صبر ہے۔ عنقریب اللّٰہ  تعالیٰ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکواور اُن کے دونوں  بھائیوں  کو میرے پاس لے آئے گا۔ بیشک وہی میرے افسوس اور غم کی حالت کو جانتا ہے اور اس نے کسی حکمت کی وجہ سے ہی مجھے اس میں  مبتلا کیا ہے۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۳، ۴ / ۳۰۴-۳۰۵)

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ(۸۴)قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان سے منہ پھیرا اور کہا ہائے افسوس یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں  غم سے سفید ہوگئیں  تو وہ غصہ کھا تا رہا۔بولے خدا کی قسم آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں  گے یہاں  تک کہ گور کنارے جا لگیں  یا جان سے گزر جائیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یعقوب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا: ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور یعقوب کی آنکھیں  غم سے سفید ہوگئیں  تو وہ (اپنا) غم برداشت کرتے رہے۔ بھائیوں  نے کہا: اللّٰہ کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کو یاد کرتے رہیں  گے یہاں  تک کہ آپ مرنے کے قریب ہوجائیں  گے یا فوت ہی ہوجائیں  گے۔

{وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ:اور یعقوب نے ان سے منہ پھیرا۔} یعنی حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بنیامین کی خبرسن کر اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حزن و ملال انتہا کو پہنچ گیا، جب بیٹوں  سے منہ پھیرا تو فرمایا ’’ ہائے افسوس! یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جدائی پر۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے غم میں  روتے رہے یہاں  تک کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی کمزور ہوگئی ۔ حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جدائی میں  حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام 80برس روتے رہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳ / ۳۹)

            یاد رہے کہ عزیزوں  کے غم میں  رونا اگر تکلیف اور نمائش سے نہ ہو اور اس کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  شکایت و بے صبری کا مظاہرہ نہ ہو تو یہ رحمت ہے، اُن غم کے دنوں  میں  حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبانِ مبارک پر کبھی کوئی بے صبری کاکلمہ نہ آیا تھا۔

{قَالُوْا:بھائیوں  نے کہا۔} یعنی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں  نے اپنے والد محترم سے کہا ’’ اللّٰہ کی قسم! آپ ہمیشہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یاد کرتے رہیں  گے اور ان سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی محبت کم نہ ہوگی یہاں  تک کہ شدّتِ غم کی وجہ سے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مرنے کے قریب ہوجائیں  گے یا فوت ہی ہوجائیں  گے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳ / ۳۹)

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا میں  تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللّٰہ ہی سے کرتا ہوں  اور مجھے اللّٰہ کی وہ شانیں  معلوم ہیں  جو تم نہیں  جانتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یعقوب نے کہا: میں  تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللّٰہ ہی سے کرتا ہوں اور میں  اللّٰہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں  جو تم نہیں  جانتے۔

{قَالَ:یعقوب نے کہا۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بیٹوں  کی بات سن کر ان سے کہا ’’ میری پریشانی اور غم کم ہو یا زیادہ ،میں  اس کی فریاد تم سے یا اور کسی سے نہیں  بلکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہی سے کرتا ہوں  اور اللّٰہ تعالیٰ اپنی رحمت اور احسان سے مجھے وہاں  سے آسانی عطا کرے گا جہاں  سے میرا گمان بھی نہ ہو گا۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ا س فرمان ’’ میں  تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللّٰہ ہی سے کرتا ہوں ‘‘ سے معلوم ہوا کہ غم اور پریشانی میں  اللّٰہ تعالیٰ سے فریا دکرنا صبر کے خلاف نہیں  ، ہاں  بے صبری کے کلمات منہ سے نکالنا یا لوگوں  سے شکوے کرنا بے صبری ہے۔ نیز آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس فرمان ’’اور میں  اللّٰہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں  جو تم نہیں  جانتے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ  آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جانتے تھے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامزندہ ہیں  اور ان سے ملنے کی تَوقّع ہے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُن کا خواب حق ہے اور ضرور واقع ہوگا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی روح قبض کی ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا : نہیں ، اس سے بھی آپ کو اُن کی زندگانی کا اِطمینان ہوا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے فرزندوں  سے فرمایا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۶، ۳ / ۴۰-۴۱، ملخصاً)

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْــٴَـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان:اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللّٰہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللّٰہ کی رحمت سے نا امید نہیں  ہوتے مگر کافر لوگ ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے بیٹو! تم جا ؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللّٰہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشکاللّٰہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں ۔

{یٰبَنِیَّ:اے بیٹو!} یعنی اے میرے بیٹو! تم مصر کی طرف جاؤ اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بھائی بنیامین کو تلاش کرو۔ بیٹوں  نے کہا ’’ہم بنیامین کے معاملے میں  کوشش کرنا تو نہیں  چھوڑیں  گے البتہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چونکہ اب زندہ نہیں  ا س لئے ہم انہیں  تلاش نہیں  کریں  گے۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں  کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی صفات کو نہیں  جانتے اور مومن چونکہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی صفات کو جانتا ہے ا س لئے وہ تنگی آسانی، غمی خوشی کسی بھی حال میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس نہیں  ہوتا۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۷، ۴ / ۳۰۹، ملخصاً)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن