دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

جس کے پاس ہمارا مال ملا جب تو ہم ظالم ہوں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں  نے کہا: اے عزیز! بیشک اس کے بہت بوڑھے والد ہیں  تو آپ اس کی جگہ ہم میں  سے کسی کولے لیں ، بیشک ہم آپ کواحسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں ۔ یوسف نے فرمایا: اللّٰہ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں ۔ (ایسا کریں ) جب تو ہم ظالم ہوں  گے۔

{قَالُوْا:انہوں  نے کہا۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی شریعت میں  اگرچہ چور کی سزا یہ تھی کہ اسے غلام بنا لیا جائے لیکن فدیہ لے کر معاف کر دینا بھی جائز تھا، اس لئے بھائیوں  نے کہا ’’اے عزیز! اس کے والد عمر میں  بہت بڑے ہیں ، وہ اس سے محبت رکھتے ہیں  اور اسی سے ان کے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ آپ ہم میں  سے کسی ایک کو غلام بنا کر یا فدیہ ادا کرنے تک رہن کے طور پر رکھ لیں  بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں  کہ آپ نے ہمیں  عزت دی، کثیر مال ہمیں  عطا کیا، ہمارا مطلوب اچھی طرح پورا ہوا اور ہمارے غلے کی قیمت بھی ہمیں  لوٹا دی۔ (تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶ / ۴۹۱، جلالین، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۱۹۶، ملتقطاً)

{قَالَ:فرمایا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’اس بات سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں  کیونکہ تمہارے فیصلہ کے مطابق ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں  جس کے کجاوے میں  ہمارا مال ملا ہے، اگر ہم اس کی بجائے دوسرے کو لیں  تو یہ تمہارے دین میں  ظلم ہے ، لہٰذا تم ا س چیز کا تقاضا کیوں  کرتے ہو جس کے بارے میں  جانتے ہو کہ وہ ظلم ہے ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۵۴۰)

فَلَمَّا اسْتَایْــٴَـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّاؕ-قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَۚ-فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ(۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب اس سے نا امید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں  خبر نہیں  کہ تمہارے باپ نے تم سے اللّٰہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں  تم نے کیسی تقصیر کی تو میں  یہاں  سے نہ ٹلوں  گا یہاں  تک کہ میرے باپ مجھے اجازت دیں  یا اللّٰہ مجھے حکم فرمائے اور اس کا حکم سب سے بہتر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:پھر جب وہ بھائی اس سے مایوس ہوگئے تو ایک طرف جاکر سرگوشی میں  مشورہ کرنے لگے۔ ان میں  بڑا بھائی کہنے لگا: کیا تمہیں  معلوم نہیں  کہ تمہارے باپ نے تم سے اللّٰہ کا عہد لیا تھا اور اس سے پہلے تم یوسف کے حق میں  کوتاہی کرچکے ہو تو میں  تویہاں  سے ہرگز نہ ہٹوں  گا جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیدیں  یا اللّٰہ مجھے کوئی حکم فرما دے اور وہ سب سے بہتر حکم دینے والا ہے۔

{فَلَمَّا اسْتَایْــٴَـسُوْا مِنْهُ:پھر جب وہ بھائی اس سے مایوس ہوگئے ۔} یعنی جب وہ بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے مایوس ہو گئے اور انہیں  اس بات کا یقین ہو گیا کہ بنیامین واپس نہیں  ملیں  گے توسب بھائی لوگوں  سے ایک طرف ہو کر کھڑے ہو گئے اور آپس میں  مشورہ کرنے لگے کہ اب اپنے والد صاحب کے پاس کیا منہ لے کر جائیں  گے اور اپنے بھائی بنیامین کے بارے میں  کیا کہیں  گے۔ ان میں  سے علم و عقل یا عمر میں  جو بھائی بڑا تھا وہ کہنے لگا ’’کیا تمہیں  معلوم نہیں  کہ تمہارے والد حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تم سے اللّٰہ تعالیٰ کا عہد لیا تھا کہ تم اپنے بھائی کو واپس لے کر جاؤ گے اور اس سے پہلے تم نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معاملے میں  کوتاہی کی اور اپنے والد سے کئے ہوئے عہد کی پاسداری بھی نہ کی۔ میں  تو مصر کی سرزمین سے ہر گز نہ نکلوں  گا اور نہ ہی اس صورتِ حال میں  مصر چھوڑوں  گا یہاں  تک  کہ میرے والد مجھے مصر کی سرزمین چھوڑنے کی اجازت دے دیں  اور مجھے اپنے پاس بلا لیں  یا اللّٰہ تعالیٰ میرے بھائی کو خلاصی دے کر یا اس کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلنے کامجھے کوئی حکم فرما دے اور وہ سب سے بہتر حکم دینے والا ہے۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳ / ۳۷، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۵۴۱، ملتقطاً)

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَۚ-وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ(۸۱)وَ سْــٴَـلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَاؕ-وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں  تھی اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے ۔اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں  ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں  ہم آئے اور ہم بے شک سچے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم اتنی ہی بات کے گواہ ہیں  جتنی ہمیں  معلوم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے۔اور اس شہر والوں  سے پوچھ لیجیے جس میں  ہم تھے اور اس قافلہ سے (معلوم کرلیں ) جس میں  ہم واپس آئے ہیں  اور بیشک ہم سچے ہیں  ۔

{اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ:تم اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ۔} جس بھائی نے مصر میں  ہی ٹھہرنے کا عزم کیا تھا ا س نے بقیہ بھائیوں  سے کہا کہ تم اپنے والدحضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس لوٹ کر جاؤ اور ان سے عرض کرو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بیٹے کی طرف چوری کی نسبت کی گئی  اور ہم اتنی ہی بات کے گواہ ہیں  جتنی ہمیں  معلوم ہے کہ پیالہ اُن کے کجاوے میں  سے نکلا  اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے اور ہمیں  خبر نہ تھی کہ یہ صورت پیش آئے گی، حقیقتِ حال اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہی جانے کہ کیا ہے اور پیالہ کس طرح بنیامین کے ساما ن سے برآمد ہوا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۱، ۳ / ۳۷-۳۸، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۱، ص۵۴۱، ملتقطاً)

{وَ سْــٴَـلِ الْقَرْیَةَ:اور شہر والوں  سے پوچھ لیجیے۔} بھائیوں  کو یہ باتیں  والد صاحب سے کہنے کا حکم دینے سے ا س کا مقصد یہ تھا کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے ان بھائیوں  پر سے تہمت اچھی طرح زائل ہو جائے کیونکہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے میں  یہ تہمت کا سامنا کر چکے تھے۔ پھر یہ لوگ اپنے والد کے پاس واپس آئے اور سفر میں  جو کچھ پیش آیا تھا اس کی خبر دی اور بڑے بھائی نے جو کچھ بتادیا تھا وہ سب والد صاحب سے عرض کر دیا۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۳۸)

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۸۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن