دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

{كَذٰلِكَ:اسی طرح۔} یعنی اپنے بھائی کو لینے کی ہم نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہی تدبیر بتائی تھی کہ  اس معاملہ میں  بھائیوں  سے اِستفسار کریں  تاکہ وہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت کا حکم بتائیں  جس سے بھائی مل سکے۔ بادشاہی قانون میں  حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیلئے درست نہیں  تھا کہ اپنے بھائی کو لے لیں  کیونکہ بادشاہِ مصر کے قانون میں  چوری کی سزا مارنا اور دگنا مال لے لینا مقرر تھی۔ یہ بات اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت سے ہوئی کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں  ڈال دیا کہ سز ابھائیوں  سے دریافت کریں  اور بھائیوں  کے دل میں  ڈال دیا کہ وہ اپنی سنت اور طریقے کے مطابق جواب دیں  ۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۶، ۳ / ۳۵)

{وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ: اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔} اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائی علماء تھے اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان سے زیادہ علم والے تھے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۶، ۳ / ۳۶)خیال رہے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس حیلہ میں  نہ تو جھوٹ بولا کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خادم نے کہا تھا کہ تم چور ہو اور خادم بے خبر تھا، نہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھائی پر چوری کا بہتان لگایا، بلکہ جو کچھ کیا گیا خود بنیامین کے مشورہ سے کیا گیا، اسی لئے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی تعریف فرمائی اور فرمایا’’ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ‘‘ یہ تدبیر یوسف کو ہم نے سکھائی۔

ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے:

            یاد رہے کہ مخلوق میں  ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہونے کے سلسلے کی اِنتہا تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہے اور ان سے بے انتہا زیادہ خالق و مالک کا علم ہے ،جیسا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرما تے ہیں  کہ ہر عالِم کے اُوپر اس سے زیادہ علم رکھنے والا عالم ہوتا ہے یہاں  تک کہ یہ سلسلہ اللّٰہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور اس کا علم سب کے علم سے برتر ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۶، ۳ / ۳۶)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’علم کے مدارج بے حد متفاوت ،’’ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ‘‘عالَمِ امکان میں  نہایت ِنہایات حضور سید الکائنات عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ اَفْضَلُ الصَّلَواتِ وَالتَّحِیَّات۔ (فتاوی رضویہ، ۲۲ / ۶۱۹) یعنی لوگوں  کے علم کے درجات میں  بے حد فرق ہے کیونکہ ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے اوراس کائنات میں  سب کے علم کی انتہا کائنات کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ہے۔

            ایک اور مقام پر فرماتے ہیں  ’’بلاشبہ غیرِخدا کا علم معلوماتِ الہٰیہ کو حاوی نہیں  ہوسکتا، مساوی درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء و مرسلین و ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علومِ الہٰیہ سے وہ نسبت نہیں  رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں  سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں  حصے کو، کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں  حصہ دونوں  متناہی ہیں ، اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے بخلاف علومِ الہٰیہ کہ (وہ) غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں ۔ اور مخلوق کے علوم اگرچہ عرش و فرش، شرق و غرب و جملہ کائنات از روزِ اول تا روزِآخر کو محیط ہوجائیں  آخر متناہی ہیں  کہ عرش و فرش دو حدیں  ہیں ، روزِ اول و روزِ آخر دو حدیں  ہیں  اور جو کچھ دو حدوں  کے اندر ہو سب متناہی ہے۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: خالص الاعتقاد، ۲۹ / ۴۵۰)

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ-قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًاۚ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان:بھائی بولے اگر یہ چوری کرے تو بے شک اس سے پہلے ایک بھائی چوری کرچکا ہے تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں  رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی جی میں  کہا تم بدتر جگہ ہو اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو باتیں  بناتے ہو۔ 

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھائیوں  نے کہا: اگراس نے چوری کی ہے تو بیشک اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں  چھپارکھی اور ان پر ظاہر نہ کی (اور دل میں ) کہا تم انتہائی گھٹیا درجے کے آدمی ہو اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو تم باتیں  کررہے ہو۔

{قَالُوْا:بھائیوں  نے کہا۔} جب پیالہ بنیامین کے سامان سے نکلا تو بھائی شرمندہ ہوئے ، اُنہوں  نے سرجھکائے اور کہا ’’ سامان میں  پیالہ نکلنے سے سامان والے کا چوری کرنا تو یقینی نہیں  لیکن اگر یہ فعل اس کا ہو تو بیشک اس سے پہلے اس کےبھائی  حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھی چوری کی تھی۔

حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف منسوب ایک واقعہ:

            جس کو انہوں  نے چوری قرار دے کر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف منسوب کیا وہ واقعہ یہ تھا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے نانا کا ایک بت تھا جسے وہ پوجتے تھے ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے چپکے سے وہ بت لیا اور توڑ کر راستے میں  نجاست کے اندر ڈال دیا۔ یہ حقیقت میں  چوری نہ تھی بلکہ بت پرستی کا مٹانا تھا۔ بھائیوں  کا اس کے ذکر سے یہ مقصد تھا کہ ہم لو گ بنیامین کے سوتیلے بھائی ہیں  اور یہ فعل ہو تو شاید بنیامین کا ہو ،نہ ہماری اس میں  شرکت نہ ہمیں  اس کی اطلاع۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۷، ۴ / ۳۰۱، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳ / ۳۶، ملتقطاً)

{فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ:تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں  چھپارکھی۔} یعنی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھائیوں  کی طرف سے اپنے بارے میں  کہی گئی بات دل میں  ایسے چھپا لی جیسے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے سنی ہی نہ ہو اور اپنے قول یا فعل سے کسی طرح اس کا اظہار نہ ہونے دیا اور اپنے دل میں  کہا ’’تم حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بھائی کے مقابلے میں  انتہائی کم درجے کے آدمی ہو کیونکہ تم نے اپنے بھائی کو اپنے والد سے چرا لیا اور اپنے بھائی پر ظلم کیا، تم اپنے بھائی کے معاملے میں  جو کچھ کہہ رہے ہو اسے اللّٰہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۷، ۴ / ۳۰۱-۳۰۲، جلالین، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۷، ص۱۹۶، ملتقطاً)

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۷۸)قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤۙ-اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠(۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں  بوڑھے بڑے تو ہم میں  اس کی جگہ کسی کو لے لو بے شک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں ۔ کہا خدا کی پناہ کہ ہم لیں  مگر اسی کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن