30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ کفالت جائز ہے ،حدیث پاک سے بھی اس کا جواز ثابت ہے، جیسا کہ حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’کفیل بننے والاقرضدار ہے ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء انّ العاریۃ مؤدّاۃ، ۳ / ۳۴، الحدیث: ۱۲۶۹) نیز اس کے جائز ہونے پر اِجماع بھی منعقد ہے۔
شریعت کی اصطلاح میں کفالت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے کے ذمہ کے ساتھ مطالبہ میں ضَم کر دے( یعنی مطالبہ ایک شخص کے ذمہ تھا اور دوسر ے نے بھی مطالبہ اپنے ذمہ لے لیا ۔) (ردّ المحتار مع الدرّالمختار، کتاب ا لکفالۃ، ۷ / ۵۸۹)
مشورہ: کفالت کے مسائل کی تفصیلی معلومات کیلئے بہار شریعت حصہ 12 سے ’’کفالت کا بیان‘‘کا مطالعہ کیجئے۔
ہمیں بھی چاہئے کہ اگر کوئی مسلمان بھائی قرض یا کسی اور مصیبت میں گرفتار ہو تو ممکنہ بہتر صورت میں اس کی ضمانت دے کر اس کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کریں اس سلسلے میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی سیرت سے ایک واقعہ ملاحظہ ہو۔
حضرت عبداللّٰہ بن ابو قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں ایک شخص کو لایا گیا تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں توحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تم خود ا س کی نماز جنازہ پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے۔ حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: وہ قرض (ادا کرنا) میرے ذمے ہے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے دریافت فرمایا ’’تم وہ قرض ادا کرو گے؟ انہوں نے عرض کی:میں وہ قرض پورا ادا کروں گا، تب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھا دی۔( ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلاۃ علی المدیون، ۲ / ۳۳۶، الحدیث: ۱۰۷۱)
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ(۷۳)قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ(۷۴)قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ(۷۵)
ترجمۂ کنزالایمان: بولے خدا کی قسم تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور ۔ بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو ۔ بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اللّٰہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں ۔ اعلان کرنے والوں نے کہا: اگر تم جھوٹے ہوئے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟ انہوں نے کہا: اِس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں (وہ پیالہ ) ملے وہی خود اس کا بدلہ ہوگا ۔ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔
{قَالُوْا:اعلان کرنے والوں نے کہا۔} ارشاد فرمایا کہ اعلان کرنے والوں نے کہا ’’اگر تم اس بات میں جھوٹے ہوئے اور پیالہ تمہارے پاس نکلے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۵۳۹)
{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائیوں نے کہا’’اِس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ ملے تو اِس کے بدلے میں وہ اپنی گردن چیز کے مالک کے سپرد کر دے اور وہ مالک ایک سال تک اسے غلام بنائے رکھے ۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں چونکہ چوری کی یہی سزا مقرر تھی اس لئے انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۵، ۳ / ۳۴-۳۵)پھر یہ قافلہ مصر لایا گیا اور ان صاحبوں کو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دربار میں حاضر کیا گیا۔
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِؕ-كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَؕ-مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ-وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ(۷۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اوّل ان کی خرجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرجی سے نکال لیا ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے مگر یہ کہ خدا چاہے ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی لینے سے پہلے دوسروں کی تلاشی لینا شروع کی پھر اس پیالے کو اپنے بھائی کے سامان سے نکال لیا ۔ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی تھی ۔بادشاہی قانون میں اس کیلئے درست نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے مگر یہ کہ اللّٰہ چاہے۔ ہم جسے چاہتے ہیں درجوں بلند کردیتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔
{فَبَدَاَ:تو تلاشی لینا شروع کی۔} یعنی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بھائی بنیامین کے سامان کی تلاشی لینے سے پہلے دوسروں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی، تلاشی لیتے ہوئے جب بنیامین کے سامان تک پہنچے تو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’میرا گمان ہے کہ پیالہ اس کے ہی سامان میں ہو گا۔ بھائیوں نے کہا: خدا کی قسم ! ہم اسے نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاما س کے سامان کی تلاشی نہ لے لیں ، اسی میں آپ کے لئے اور ہمارے لئے بہتری ہے۔ جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنیا مین کے سامان کی تلاشی لی توپیالے کو اس کے سامان سے برآمد کر لیا ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۶، ص۵۳۹-۵۴۰)
اس سے معلوم ہوا کہ شرعی حیلے درست ہیں کیونکہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنیامین کو روکنے کا ایک حیلہ ہی اختیار فرمایا اور یہ بالکل جائز حیلہ تھا کسی پر ظلم نہ تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع