دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ترجمۂ کنزالایمان: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا اللہ جو رب ہے سارے جہان کا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اورجنت میں ان کی ملاقات کا پہلا بول ’’سلام‘‘ ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

{دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا:ان کی دعا اس میں یہ ہوگی ۔} یعنی اہلِ جنت اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تحمید، تقدیس میں مشغول رہیں گے اور اس کے ذکر سے انہیں فرحت و سُرور اور اِنتہا درجہ کی لذت حاصل ہوگی ۔ سُبْحَانَ اللہ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰، ۲ / ۳۰۳)

اہلِ جنت کو تسبیح اور حمد کااِ لہام ہو گا:

            حضرت جابر بن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جنتی لوگ جنت میں کھائیں اور پئیں گے، اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے، رفعِ حاجت کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: پھر ان کا کھانا کہاں جائے گا؟ ارشاد فرمایا: ایک ڈکار (آئے گی) اور پسینہ مشک کی طرح ہو گا۔ انہیں تسبیح اور حمد کا اس طرح اِلہام ہو گا جیسے سانس آتا جاتا ہے۔( مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب فی صفات الجنۃ واہلہا۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۰، الحدیث: ۱۸(۲۸۳۵))

{وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ:اور جنت میں ان کی ملاقات کا پہلا بول ’’سلام‘‘ہوگا۔} یعنی اہلِ جنت آپس میں ایک دوسرے کی تحیت یعنی تعظیم و تکریم سلام سے کریں گے یا ملائکہ انہیں بطورِ تحیت سلام عرض کریں گے یا ملائکہ رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ان کے پاس سلام لائیں گے۔ (بغوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰، ۲ / ۲۹۲) معلوم ہوا کہ بوقتِ ملاقات سلام کرنا اور بوقتِ رخصت حمدِ الہٰی کرنا جنتی لوگوں کا مشغلہ ہے۔

{وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ:اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے کلام کی ابتدا ء اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم و تَنزیْہ سے ہوگی اور کلام کا اختتام اس کی حمد و ثناپر ہوگا اور اس کے دوران جو چاہیں گے آپس میں کلام کریں گے۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۴۶۴) اس سے معلوم ہوا کہ حمدِ الہٰی جنت میں بھی ہوگی۔ حمد کی فضیلت کے بارے میں حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ (نعمت ملنے پر)  الْحَمْدُ لِلہِ کہتا ہے تو یہ حمد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دی گئی نعمت سے زیادہ افضل ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۵۰، الحدیث:  ۳۸۰۵)

نماز اور دعا قبول ہونے کا وظیفہ:

            حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو رات کو اٹھے اور یہ کہے ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسُبْحَانَ اللہِ وَلَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ‘‘ پھر کہے ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ‘‘ یا کوئی اور دعا کرے تو قبول کی جائے گی اور اگر وضو کرے (اور نماز پڑھے) تو ا س کی نماز قبول کی جائے گی۔( بخاری، کتاب التہجّد، باب فضل من تعارّ من اللیل فصلّی، ۱ / ۳۹۱، الحدیث: ۱۱۵۴)

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْؕ-فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر اللہ لوگوں پرعذاب اسی طرح جلدی بھیج دیتا جس طرح وہ بھلائی جلدی طلب کرتے ہیں تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی تو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتے ۔

{لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ:تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی ۔} یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بددعائیں جیسے کہ وہ غصے کے وقت اپنے لئے اور اپنے اہل واولاد و مال کے لئے کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہوجائیں ، خدا ہمیں غارت کرے ، برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے اردو میں کوسنا کہتے ہیں اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کرلی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہوگئے ہوتے لیکن اللہتعالیٰ اپنے کرم سے دعا ئے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے اور دعائے بد کے قبول میں نہیں ، یہ اس کی رحمت ہے۔ شانِ نزول: نضر بن حارث نے کہا تھا: یارب !یہ دینِ اسلام اگر تیرے نزدیک حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے عذاب میں جلدی فرماتا جیسا کہ اُن کیلئے مال و اولاد وغیرہ دنیا کی بھلائی دینے میں جلدی فرمائی تو وہ سب ہلاک ہوچکے ہوتے۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۳۰۳، ملخصاً)

خود کو اوراپنے بچوں وغیرہ کو کوسنے سے بچیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہماری تمام دعائیں قبول نہ ہونا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے کہ ہم کبھی برائی کو بھلائی سمجھ لیتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غصہ میں اپنے کو یاا پنے بال بچوں کو کوسنا نہیں چاہیے ہر وقت رب تعالیٰ سے خیر ہی مانگنیچاہئے نہ معلوم کو ن سی گھڑی قبولیت کی ہو اور بعض اوقات ایسے ہو بھی جاتا ہے کہ اولاد کیلئے بددعا کی اور وہ قبولیت کی گھڑی تھی جس کے نتیجے میں اولاد پر واقعی وہ مصیبت و آفت آجاتی ہے جس کی بددعا کی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرح کی چیزوں سے اِحتراز ہی کرنا چاہیے۔ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ بواط کی جنگ میں گئے ، آپ مَجدِی بن عمرو جُہَنی کو تلاش کر رہے تھے ، ایک اونٹ پر ہم پانچ، چھ اورسات آدمی باری باری سوار ہوتے تھے، ایک انصاری اونٹ پر بیٹھنے لگا تو اس نے اونٹ کو بٹھایا، پھر اس پر سوار ہو کر اسے چلانے لگا۔ اونٹ نے اس کے ساتھ کچھ سرکشی کی تو اس نے اونٹ کو کہا: شَاْ، اللہ تم پر لعنت کرے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دریافت فرمایا کہ اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے؟ اس نے کہا:یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،یہ میں ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’اس اونٹ سے اتر جاؤ اور ہمارے ساتھ ملعون جانور کو نہ رکھو، تم اپنے آپ کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن