30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قائم فرمائے اور اس آیت میں دن اور رات کے اختلاف سے حاصل ہونے والے فَوائد سے وحدانیت پر دلیل قائم فرمائی۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک دن اور رات کے آنے جانے،کم اور زیادہ ہونے میں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں پیدا فرمایا جیسے فرشتے،سورج ، چاند، ستارے وغیرہ اور جو کچھ زمین میں پیدا فرمایا جیسے حیوان ،پہاڑ ،دریا،نہریں اور درخت وغیرہ ان سب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر نشانیاں موجود ہیں۔( تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۶، ۶ / ۲۱۰، جلالین، یونس، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۷۰، ملتقطاً)ان چیزوں کا نشانیاں ہونا بالکل واضح ہے کہ یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّکی تخلیق اور قدرت کی دلیلیں ہیں کہ وہ کتنی عظیم قدرت و عظمت والا ہے جس نے ان سب چیزوں کو وجود بخشا۔
نوٹ:اس سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے سورۂ بقرہ آیت164کے تحت مذکور تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ متقیوں کیلئے ان چیزوں میں نشانیاں ہیں۔چونکہ ا ن چیزوں میں غور کرکے ایما ن و عِرفان صرف خوفِ خدارکھنے والوں کو مُیَسَّر ہوتا ہے اس لئے انہی کا ذکر فرمایا۔ بہت سے کافر یہ چیزیں دیکھ کر سرکش ہوجاتے ہیں جیسے آج اکثرسائنس دانوں نے سائنس میں ترقی کرکے خداعَزَّوَجَلَّکا انکار کردیا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ(۷) اُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۸)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں۔ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں اور اس پر مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ ان لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کے بدلے میں دوزخ ہے۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ:بیشک وہ لوگ۔} ان آیات میں پہلے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو حشر یعنی مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بعد حشر پر ایمان لانے والوں کا ذکر ہے ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ۶ / ۲۱۰، ملخصاً)اس آیت میں حشر پر ایمان نہ لانے والوں کی چار صِفات بیان فرمائی گئی ہیں :
(1)… وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ مفسرین نے اس آیت میں ’’امید‘‘ کے دومعنی بیان کئے ہیں۔ (۱) خوف۔ اس سورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو قیامت کے دن ہم سے ملنے کاخوف نہیں رکھتے تو وہ ثواب اور عذاب کو جھٹلا رہے ہیں۔ (۲) طمع۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا پر مطمئن ہو بیٹھے اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کی طمع نہیں رکھتے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۳۰۲)
(2)… دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں۔ یعنی انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا، اس تھوڑی سی اور فانی کو بہت زیادہ اور باقی رہنے والی پر ترجیح دی۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۶۴)
(3)… اس پر مطمئن ہوگئے ہیں۔ کفار کا یہ قلبی اطمینان دنیا اور اس کی لذتوں کی طرف میلان کی وجہ سے ہے، اسی لئے ان کے دلوں سے ڈر اور خوف نکل گیا اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے اور اس کے عذاب کا خوف دلانے والی باتیں سنتے ہیں تو ان کے دل اس طرف مائل ہی نہیں ہوتے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۳۰۲)
(4)… وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے غافل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ یہاں آیات سے تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ پاک اور قرآن شریف مراد ہے اور غفلت کرنے سے مراد اُن سے اِعراض کرنا ہے۔ (بغوی، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۲۹۱)
دنیا اور آخرت سے متعلق مسلمانوں کا حال :
یہاں آیتِ مبارکہ میں کفار کے اعتقاد کے اعتبار سے یہ احوال بیان فرمائے گئے ہیں لیکن عملی طور پر مسلمان بھی ان میں سے بہت سی چیزوں میں مُلَوّث ہیں جیسے دلوں سے قیامت کے حساب کتاب اورعذاب ِ الہٰی کا خوف نکل جانا، دنیا کی زندگی کو ہی پسند کرنا اور اسی کیلئے کوشش کرنا اور اسی پر مطمئن ہوکر بیٹھ جانا، قرآن اور احکاماتِ الہٰیہ سے غفلت، دلوں کا سخت ہونا، شدید وعیدیں سن کر بھی گناہوں سے باز نہ آنا یہ سب چیزیں ہمارے اندر اِس آیت کی روشنی میں افعالِ کفار کا عکس نہیں دِکھا رہیں تو اور کیا ہے؟
{اُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ:ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔} یعنی ان لوگوں کے کفر، تکذیب اور خبیث اعمال کے بدلے میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸، ۲ / ۳۰۲)
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْۚ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۹)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انہیں راہ دے گا ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ (وہ) نعمتوں کے باغوں میں ہوں گے۔
{یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ:ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ان کی رہنمائی فرمائے گا۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل خوب صورت شکل میں اس کے سامنے آئے گا یہ شخص کہے گا تو کون ہے ؟وہ کہے گا :میں تیرا عمل ہوں۔ اور اس کے لئے نور ہوگا اور جنت تک پہنچائے گا اور کافر کا معاملہ برعکس ہوگا کہ اس کا عمل بری شکل میں نمودار ہو کر اسے جہنم میں پہنچائے گا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹، ۲ / ۳۰۲-۳۰۳)
سُبْحَانَ اللہ، کتنی پیاری فضیلت ہے کہ مومنین کی جنت کی طرف رہنمائی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے ہوگی ۔ وہ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ کیلئے رہیں گے اور ان کے محلات کے نیچے دودھ ، شہد، شرابِ طہور اور خالص پانی کی نہریں جاری ہوں گی۔
دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌۚ-وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع