30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ایک جنتی شخص جھانک کر جہنمیوں کی طرف دیکھے گا تو ایک جہنمی اس سے کہے گا: آپ مجھے نہیں جانتے؟ وہ کہے گا ’’وَاللہ! میں تو تجھے نہیں پہچانتا، تم پر افسوس ہے، تو کون ہے؟ وہ کہے گا: میں وہ ہوں کہ آپ ایک دن میری طرف سے ہو کر گزرے اور مجھ سے پانی مانگا اور میں نے پلا دیا تھا ، اس کے صِلہ میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے حضور میری شفاعت کیجئے۔ وہ جنتی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے زائروں میں اس کے حضور حاضر ہو کر یہ حال بیان کر کے عرض کرے گا: اے میرے رب !عَزَّوَجَلَّ، تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ تو اللہ تعالیٰ اُس کے حق میں اِس کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ (مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک، ما اسندہ ثابت البنانی عن انس، ۳ / ۲۳۷، الحدیث: ۳۴۷۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقبول بندوں کی شفاعت سے حصہ عطا فرمائے،اٰمین۔
اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ بیشک وہ پہلی بار (بھی) پیدا کرتا ہے پھرفنا کرنے کے بعد دوبارہ بنائے گا تاکہ ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور کافروں کے لیے ان کے کفر کی وجہ سے شدید گرم پانی کا مشروب اور دردناک عذاب ہے۔
{اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ: بیشک وہ پہلی بار (بھی) پیدا کرتا ہے۔} اس آیت میں حشر و نشر، مَعاد یعنی لوٹنے کی جگہ کا بیان اور منکرین کا رد ہے اور اس پر نہایت لطیف پیرایہ میں دلیل قائم فرمائی گئی ہے کہ وہ پہلی بار زندگی دیتا ہے اور اَعضائِ مُرَکَّبَہ کو پیدا کرتا اور ترکیب دیتا ہے تو موت کے ساتھ اعضاء کے مُنتشر ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ ترکیب دینا اور بنے ہوئے انسان کو فنا ہوجانے کے بعد پھر دوبار ہ بنا دینا اور وہی جان جو اس بدن سے تعلق رکھتی تھی اس کو اس بدن کی درستی کے بعد پھر اسی بدن سے متعلق کردینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے اور اس دوبارہ پیدا کرنے کامقصود جزائے اعمال یعنی فرمانبردار کو ثواب اور گناہگار کو عذاب دینا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴، ۲ / ۳۰۱)
{بِالْقِسْطِ: انصاف کے ساتھ ۔} اس سے مراد یہ ہے کہ نیکوں کے ثواب میں کمی نہ کی جائے گی، یا اس سے یہ مراد ہے کہ نیکوں نے دنیا میں انصاف کیا کہ جن باتوں کا انہیں حکم دیا گیا ان پر عمل کیا اور جن سے روکا گیا اس سے باز رہے۔یہ عربی ترکیب کے اعتبار سے فرق ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴، ۲ / ۳۰۱، صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۸۵۴، ملتقطاً)
{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ:اور کافروں کے لیے شدید گرم پانی کا مشروب ہے۔} اس آیت میں جہنم کے اندر کفار کے جس مشروب کا بیان ہوا اس کی کیفیت ملاحظہ ہو ،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’شدید گرم پانی ان (جہنمیوں )کے سر پر ڈالا جائے گا تو وہ سَرایت کرتے ہوئے ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا اور جو کچھ پیٹ میں ہو گا اسے کاٹ کر قدموں سے نکل جائے گا اور یہی ’’صَہْر‘‘ یعنی گل جانا ہے، (ان کے ساتھ) بار بار اسی طرح کیا جائے گا۔ (ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، ۴ / ۲۶۲، الحدیث: ۲۵۹۱)
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ-مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّۚ- یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۵)
ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنا یا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لئے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کونور بنایا اور چاندکے لیے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو ۔ اللہ نے یہ سب حق کے ساتھ پیدا فرمایا۔ وہ علم والوں کے لئے تفصیل سے نشانیاں بیان کرتا ہے۔
{هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا:وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کونور بنایا۔} ضیاء سے مراد ذاتی روشنی اور نور سے مراد دوسرے سے حاصل کی ہوئی روشنی ہے۔ جب اس روشنی کاتعلق سورج سے ہو تو اسے ضیاء اور چاند سے ہو تو اسے نور کہتے ہیں۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۸۵۵)
{وَ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ:اور چاندکے لیے منزلیں مقرر کردیں۔} چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں اور یہ بارہ بُرجو ں میں تقسیم ہیں ، ہر برج کے لئے2_1 / 3 منزلیں ہیں ،چاند ہر رات ایک منزل میں رہتا ہے اور مہینہ تیس دن کا ہو تو دو راتیں ورنہ ایک رات چھپتا ہے۔ (بغوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵، ۲ / ۲۹۰-۲۹۱) ان منزلوں کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے تاکہ تم سالوں کی گنتی اور مہینوں ، دنوں اور ساعتوں کا حساب جان لو ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ سارا نظام عَبَث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تاکہ اس سے اُس کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے دلائل ظاہر ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ علم والوں کے لئے تفصیل سے نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ وہ ان میں غور کرکے نفع اٹھائیں۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵، ۲ / ۳۰۲، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۵، ص۴۶۳، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ علمِ ریاضی ، علمِ ہَیئت ، علمِ فلکیات وغیرہ بڑے مفید علم ہیں کہ ان سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت معلوم ہوتی ہے نیز حسنِ نیت کے ساتھ ان کا سیکھنا ثواب کا کام ہے۔
اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ(۶)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک رات اور دن کا بدلتا آنا اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر والوں کے لیے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک رات اور دن کی تبدیلی میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
{اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ:بیشک رات اور دن کی تبدیلی میں۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور وحدانیت پر زمین وآسمان کی تخلیق ،سورج اور چاند کے اَحوال سے دلائل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع