دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کمالِ تکریم ہے۔ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دنیا میں بھی رؤف و رحیم ہیں اور آخرت میں بھی۔

نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت سے متعلق دو اَحادیث:

             سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت و رافَت کے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ فرمائیں۔

(1)…حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قرآنِ پاک میں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اس قول کی تلاوت فرمائی

’’رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(ابراہیم:۳۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ مجھ سے (تعلق رکھنے والا) ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔

              اور وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ قول ہے

’’اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ‘‘(المائدہ:۱۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے۔

            تو حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر گریہ طاری ہو گیا اور اپنے دست ِاقدس اٹھا کر دعا کی ’’اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، میری امت ،میری امت۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا ’’اے جبریل ! عَلَیْہِ السَّلَام، میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں جاؤ اور ان سے پوچھو حالانکہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو کہ انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامحضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی عرض معروض کی خبر دی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا :تم میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ’’اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْ ءُ کَ‘‘ آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہ کریں گے ۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب دعوۃ النبیّ لامّتہ وبکائہ۔۔۔ الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲))

(2)…حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’میں نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قیامت کے دن اپنی شفاعت کا سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں کروں گا۔ میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ ارشاد فرمایا ’’سب سے پہلے مجھے پل صراط پر تلاش کرنا۔ میں نے عرض کی: اگر پل صراط پر نہ پاؤں (تو کہاں تلاش کروں ) ؟ ارشاد فرمایا: ’’پھر مجھے میزان کے پاس تلاش کر نا۔ میں نے عرض کی: اگر میزان کے پاس نہ پاؤں (تو کس جگہ تلاش کروں )؟ ارشاد فرمایا: ’’پھر مجھے حوضِ کوثر کے پاس ڈھونڈنا کیونکہ میں ان تین مقامات سے اِدھر اُدھر نہ ہوں گا۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء فی شأن الصراط، ۴ / ۱۹۵، الحدیث: ۲۴۴۱)

            اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں

دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفور ہیں            ہر منزل اپنے چاند کی منزل غفر کی ہے

            اور فرماتے ہیں :

مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو                سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ ﱙ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠(۱۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان:پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے  اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سواکوئی معبود نہیں ، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

{فَاِنْ تَوَلَّوْا:پھر اگر وہ منہ پھیریں۔} یعنی پھر اگر منافقین و کفار اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے اِعراض کریں اور آپ سے جنگ کا اعلان کریں تو اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم فرما دو کہ مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے اور وہ تمہارے خلاف میری مدد فرمائے گا۔ اس کے سواکوئی معبود نہیں ، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۲ / ۲۹۹)

اہم کاموں سے متعلق ایک وظیفہ:

             حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سرکار ِدو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس شخص نے صبح اور شام سات مرتبہ یہ پڑھا’’حَسْبِیَ اللّٰهُ ﱙ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ‘‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے اہم کاموں میں اسے کافی ہو گا۔ (ابوداؤد، کتاب الادب، باب ما یقول اذا اصبح، ۴ / ۴۱۶، الحدیث: ۵۰۸۱)

سورۂ یونس

سورۂ یونس کا تعارف

مقامِ نزول:

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’سورۂ یونس مکیہ ہے، البتہ اس کی تین آیتیں ’’فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ‘‘ سے لے کر’’ لَا یُؤْمِنُوْنَ ‘‘ تک مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ (البحر المحیط، یونس، تحت الآیۃ: ۱، ۵ / ۱۲۵)

رکوع اور آیات کی تعداد:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن