30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ:اور جن کے دلوں میں مرض ہے۔} یعنی جن کے دلوں میں شک اور نفاق کا مرض ہے تو قرآن کی سورت کے نزول سے ان کے کفر پر مزید کفر چڑھ گیا کہ انہوں نے جب کبھی کسی سورت کے نزول کا انکار کیا یا اس کا مذاق اڑایا تو ان کے پہلے کفر کے ساتھ مزید کفر بڑھ گیا ، وہ منافقین اپنے کفر پر قائم رہے یہاں تک کہ حالتِ کفر میں مر گئے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۲ / ۲۹۸، بیضاوی، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۳ / ۱۸۱، ملتقطاً)
اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۱۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمایا جاتا ہے پھر (بھی)نہ وہ توبہ کرتے ہیں اورنہ ہی نصیحت مانتے ہیں۔
{اَوَ لَا یَرَوْنَ:کیا وہ یہ نہیں دیکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ کیا منافقین دیکھتے نہیں کہ ہر سال انہیں ایک یا دو مرتبہ بیماریوں ، مصیبتوں اور قحط سالیوں وغیرہ سے آزمایا جاتا ہے پھر بھی وہ اپنے نفاق اور عہد شکنی سے توبہ کرتے ہیں نہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی سچائی دیکھ کر نصیحت مانتے ہیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۶، ۲ / ۲۹۸)
مومن ہر مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ مومن ہر مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے گناہ کا نتیجہ یا آزمائش سمجھتا ہے جبکہ کافر کی نگاہ صرف موسم کی خرابیوں اور دنیاوی اَسباب پر ہوتی ہے اور یہ منافقین والا حال آج کی بہت بڑی تعداد کا ہے کہ سیلاب، زلزلہ اور اس طرح کی کسی بھی آفت و مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ سائنسی تَوجیہات میں تولنا شروع کردیتے ہیں۔
وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍؕ-هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْاؕ-صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ(۱۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں پھر پلٹ جاتے ہیں اللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر پلٹ جاتے ہیں تواللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے ہیں کیونکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں۔
{وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ:اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی ایسی سورت نازل کی جاتی ہے کہ جس میں منافقین کو زَجر وتَوبیخ اور ان کے نفاق کا بیان ہو تو وہ وہاں سے بھاگنے کیلئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور آنکھوں سے نکل بھاگنے کے اشارے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تم اپنی نشست گاہ سے اٹھو تو اس وقت مومنوں میں سے کوئی تمہیں دیکھ تو نہیں رہا ،اگر دیکھ رہا ہو تو بیٹھ گئے ورنہ نکل جاتے ہیں۔ پھر اس نازل ہونے والی سورت کے سبب ایمان سے اپنے کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل ایمان سے پلٹ دیئے ہیں کیونکہ یہ قوم سمجھتی ہی نہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سوچتی۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲ / ۲۹۸، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ص۴۶۰، ملتقطاً)
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان:بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔
{لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ:بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے۔} یعنی اے اہلِ عرب! بیشک تمہارے پاس تم میں سے عظیم رسول، محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے جو کہ عربی، قرشی ہیں۔ جن کے حسب ونسب کو تم خوب پہچانتے ہو کہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم اُن کے صدق و امانت، زہد و تقویٰ، طہارت وتَقَدُّس اور اَخلا قِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے ہو۔ یہاں ایک قراء ۃ میں’’ اَنْفَسِكُمْ‘‘فا پر زبر کے ساتھ آیا ہے، اس کا معنی ہے کہ تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل ہیں ‘‘۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۲ / ۲۹۸)
حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فضل و شرف:
اس آیت میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَوصاف اور فضیلت و شرف کا ذکر ہوا، اس مناسبت سے ہم یہاں آپ کے فضائل اور اَخلاقِ حمیدہ کے بیان پر مشتمل دو روایات ذکر کرتے ہیں۔
(1)…حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں سے بہترین رکھا، پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے اچھے گروہ میں رکھا۔ پھر قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلے میں رکھا۔ پھر ان کے خاندان بنائے تو مجھے ان میں سے اچھے خاندان میں رکھا اور سب سے اچھی شخصیت بنایا۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبیّ صلی اللہ علیہ وسلم، ۵ / ۳۵۰، الحدیث: ۳۶۲۷)
(2)…حضرت جعفر بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نجاشی کے دربار میں فرمایا ’’اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے، بتوں کی عبادت کرتے ، مردار کھاتے، بے حیائی کے کام کرتے ، رشتے داریاں توڑتے اور پڑوسیوں سے بد سلوکی کیا کرتے تھے اور ہم میں سے جو طاقتور ہوتا وہ کمزور کا مال کھا جا یا کرتا تھا۔ ہمارا یہی حال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک رسول ہماری طرف بھیج دیا جن کے نسب ،صداقت، امانت اور پاک دامنی کو ہم پہچانتے تھے، انہوں نے ہمیں دعوت دی کہ ہماللہ تعالیٰ کو ایک مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں اور ہم اور ہمارے آباؤ اَجداد جن پتھروں اور بتوں کی پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ انہوں نے ہمیں سچ بولنے، امانت داری اور پاکیزگی اختیار کرنے، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرنے، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے، حرام کام اور خون ریزیاں چھوڑ دینے کا حکم دیا، ہمیں بے حیائی کے کام کرنے ، جھوٹ بولنے ، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانے سے منع کیا اور ہمیں حکم دیاکہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع