دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

زائدعلم حاصل کرنا فرضِ کفایہ۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ا رشاد فرمایا: ’’ علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔( ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب فضل العلماء والحثّ علی طلب العلم، ۱ / ۱۴۶، الحدیث: ۲۲۴)

            امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’ علم سیکھنا نفل نماز سے افضل ہے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲ / ۲۹۷)

(2)… علم حاصل کرنے کے لئے سفر کی ضرورت پڑے تو سفر کیا جائے۔ طلبِ علم کے لئے سفر کا حکم حدیث شریف میں ہے، حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ا رشاد فرمایا’’ جو شخص طلبِ علم کے لئے را ہ چلے اللہ عَزَّوَجَلَّ  اس کے لئے جنت کی راہ آسان کرتا ہے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴ / ۲۹۴، الحدیث: ۲۶۵۵)

(3)…فقہ افضل ترین علوم میں سے ہے ۔حدیث شریف میں ہے، حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:  اللہ تعالیٰ جس کے لئے بہتری چاہتا ہے اس کو دین میں فقیہ بناتا ہے۔ میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ دینے والا ہے۔( بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرًا یفقّہہ فی الدین، ۱ / ۴۲، الحدیث: ۷۱، مسلم، کتاب الزکاۃ، باب النہی عن المسألۃ، ص۵۱۷، الحدیث: ۱۰۰(۱۰۳۷))  

            حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴ / ۳۱۱، الحدیث: ۲۶۹۰)

             فقہ اَحکامِ دین کے علم کو کہتے ہیں اور اِصطلاحی فقہ بھی اس کا عظیم مِصداق ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۱۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایما ن والو جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قریب ہیں اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایما ن والو! ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

{قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ:ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں۔} جہاد تمام کافروں سے واجب ہے قریب کے ہوں یا دُور کے لیکن قریب والے مُقَدَّم ہیں پھر جواُن سے مُتّصل ہوں ایسے ہی درجہ بدرجہ ۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ص۴۶۰)

کفار سے جنگ کرنے کے آداب:

            اس آیت میں کفار سے جنگ کے آداب سکھائے گئے ہیں کہ جنگ کی شرعی اجازت جب متحقق ہوجائے تو اس کی ابتدا قریب میں رہنے والے کفار سے کی جائے پھر ان کے بعد جو قریب ہوں حتّٰی کہ مسلمان مجاہدین دور کی آبادیوں میں رہنے والے کفار تک پہنچ جائیں۔ اسی طریقے سے تمام کفار سے جہاد ممکن ہے ورنہ ایک ہی بار سب سے جنگ کرنا مُتَصَوَّر نہیں ،یہی وجہ ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پہلے اپنی قوم سے جہاد فرمایا ،پھر پورے عرب سے ، پھر اہلِ کتاب سے اور ان کے بعد روم اور شام والوں سے جنگ کی۔ پھر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے وصال کے بعد صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عراق اور پھر تمام شہروں تک جنگ کا دائرہ وسیع کیا۔ (صاوی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۳ / ۸۴۹)

{وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً:اور وہ تم میں سختی پائیں۔}اس سختی میں جرأت و بہادری، قتال پر صبر اور قتل یا قید کرنے میں شدت وغیرہ ہر قسم کی مضبوطی و سختی داخل ہے۔ (روح المعانی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۶ / ۶۸) جو کفار اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنیں ان سے سختی کے ساتھ نمٹنے کا حکم ہے ، یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہر وقت سختی ہی کرتے رہیں کیونکہ ہمیں تو دورانِ جہاد بھی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور پادریوں وغیرہ کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

{وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ:اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔}اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا جہاد اور کفار کو قتل کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے ہو نہ کہ مال و دولت یا منصب ومرتبے کے حصول کی غرض سے ہو۔( تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۶ / ۱۷۴)

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًاۚ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ(۱۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو اس نے ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان (منافقین) میں سے کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے؟ تو جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان میں تو اس نے اضافہ کیا اور وہ خوشیاں منارہے ہیں۔

{وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ:اور جب کوئی سورت اترتی ہے۔} یعنی جب قرآنِ پاک کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو منافقین آپس میں مذاق اڑانے کے طور پرکہتے ہیں ’’ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان یعنی تصدیق ا ور یقین میں اضافہ کیا ہے؟ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جو ایمان والے ہیں ان کی تصدیق، یقین اور اللہ تعالیٰ سے قربت میں اس نے اضافہ کیا اور جب قرآن میں سے ایک کے بعد کوئی دوسری چیز اترتی ہے تو مومنین خوشیاں مناتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے آخرت میں ان کا ثواب اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۲ / ۲۹۷)

            اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا مذاق اڑانا منافقین کا کام ہے لہٰذا جو قرآن کی ایک آیت کا بھی مذاق اڑائے وہ کافر ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۱۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جن کے دلوں میں آزار ہے انہیں اور پلیدی پر پلیدی بڑھائی اور کفر ہی پر مر گئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جن کے دلوں میں مرض ہے تو ان کی ناپاکی پر مزید ناپاکی کا اضافہ کردیا اوروہ کفر کی حالت میں مرگئے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن