30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا یا بڑا اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو کچھ تھوڑا اور زیادہ وہ خرچ کرتے ہیں اور جو وادی وہ طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے بہتر کاموں کا انہیں بدلہ عطا فرمائے۔
{وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً:اور جو کچھ تھوڑا اور زیادہ وہ خرچ کرتے ہیں۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ تھوڑا مثلاً ایک کھجور یا زیادہ وہ خرچ کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غزوۂ تبوک میں خرچ کیا اور اپنے سفر میں آنے اور جانے کے دوران جو وادی وہ طے کرتے ہیں تو ان کا راہِ خدا میں خرچ کرنا اور وادیاں عبور کرنا سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے کاموں کا انہیں بدلہ عطا فرمائے۔ اس آیت سے جہاد کی فضیلت اور اس کابہترین عمل ہونا ثابت ہوا۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۲ / ۲۹۴، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ص۴۵۹، ملتقطاً)
راہِ خدا میں جہاد کرنے اور مال خرچ کرنے کے فضائل
جہاد میں مال خرچ کرنے اور جہاد میں شریک ہونے کے فضائل بکثرت اَحادیث میں مذکور ہیں ، ان میں سے 5 اَحادیث یہاں بیان کی جاتی ہیں۔
(1)…حضرت خریم بن فاتک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں کچھ خرچ کرے تو اس کیلئے سات سو گنا لکھا جاتا ہے۔ (ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل النفقۃ فی سبیل اللہ، ۳ / ۲۳۳، الحدیث: ۱۶۳۱)
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کو جانا یا شام کو جانا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۱، الحدیث: ۲۷۹۲)
(3)… حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہیں : (1 ) وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے حتّٰی کہ اسے موت آجائے تو جنت میں داخل فرمادے یا اَجر اور غنیمت کا مال لے کر واپس کرے۔ (2 ) وہ شخص جو مسجد کی طرف چلے وہ اللہتعالیٰ کی ذمہ دار ی میں ہے۔ (3) وہ شخص جو ا پنے گھر میں سلام کر کے داخل ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے ۔ (ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب فضل الغزو فی البحر، ۳ / ۱۲، الحدیث: ۲۴۹۴)
(4)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ داراور رات کو آیاتِ الہٰی کی تلاوت کرنے والا ہو، نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے ، حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ کا مجاہد لوٹ آئے۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللہ تعالٰی، ص۱۰۴۴، الحدیث: ۱۱۰( ۱۸۷۸))
(5)… حضرت ابو مالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں گھر سے نکلا پھر قتل کیا گیا یااسے اس کے گھوڑے یا اونٹ نے کچل دیا یا اسے زہریلے جانور نے ڈس لیا یا اپنے بستر پر کسی سبب سے مر گیا جیسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو وہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب فیمن مات غازیاً، ۳ / ۱۴، الحدیث: ۲۴۹۹)
وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ-فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠(۱۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکل جائیں تو ان میں ہر گروہ میں سے ایک جماعت کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اورجب اِن کی طرف واپس آئیں تووہ اِنہیں ڈرائیں تاکہ یہ ڈر جائیں۔
{وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ:اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا۔} یعنی علم حاصل کرنے کے لئے سب مسلمانوں کا اپنے وطن سے نکل جانا درست نہیں کہ اس طرح شدید حَرج ہوگا توجب سارے نہیں جاسکتے تو ہر بڑی جماعت سے ایک چھوٹی جماعت جس کا نکلنا انہیں کافی ہو کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کریں اورا س کے حصول میں مشقتیں جھیلیں اور اس سے ان کا مقصود واپس آ کر اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنا ہو تاکہ ان کی قوم کے لوگ اس چیز سے بچیں جس سے بچنا انہیں ضروری ہے۔(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ص۴۵۹)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ قبائلِ عرب میں سے ہر ہر قبیلہ سے جماعتیں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں اور وہ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دین کے مسائل سیکھتے اور فقاہت حاصل کرتے اور اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے احکام دریافت کرتے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی فرماں برداری کا حکم دیتے اور نماز زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں اُن کی قوم پر مامور فرماتے۔ جب وہ لوگ اپنی قوم میں پہنچتے تو اعلان کردیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو خدا عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے ۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲ / ۲۹۵)یہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا معجزۂ عظیمہ ہے کہ بالکل بے پڑھے لوگوں کو بہت تھوڑے عرصے میں دین کے اَحکام کا عالم اور قوم کا ہادی بنادیا ۔
آیت’’وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے 3مسائل معلوم ہوئے:
(1)… علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اس کے لئے ممنوع و حرام ہیں اور اسے درپیش ہیں ان کا سیکھنا فرضِ عین ہے اور اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع