دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

{لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ:بیشک اللہ کی رحمت نبی پر متوجہ ہوئی۔} نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رحمۃ للعالمین ہیں اورآپ پر رحمتِ الہٰی کا رجوع یوں ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معصوم ہونے کے باوجود بکثرت توبہ و استغفار کی توفیق عطا فرمائی گئی جو آپ کی بلندیٔ درجات اور مسلمانوں کیلئے تعلیم کا ذریعہ تھی اور مسلمانوں کو بہت سے معاملات میں توبہ کی توفیق دی گئی اور اس توبہ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قبول بھی فرمایا۔

{اَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ:جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا۔} مشکل گھڑی سے مراد غزوہ ٔ تبوک ہے جسے غزوۂ عسرت بھی کہتے ہیں اس غزوہ میں عسرت یعنی تنگی کا یہ حال تھا کہ دس دس آدمیوں میں سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا باری باری اسی پر سوار ہولیتے تھے اور کھانے کی قِلَّت کا یہ حال تھا کہ ایک ایک کھجور پر کئی کئی آدمی اس طرح گزارہ کرتے تھے کہ ہر ایک نے تھوڑی تھوڑی چوس کر ایک گھونٹ پانی پی لیا۔ پانی کی بھی نہایت قلت تھی ، گرمی شدت کی تھی، پیاس کا غلبہ اور پانی ناپید ۔ اس حال میں صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماپنے صدق و یقین اور ایمان و اخلاص کے ساتھ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی جاں نثاری میں ثابت قدم رہے ۔حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے ۔ ارشاد فرمایا: کیا تمہیں یہ خواہش ہے؟ عرض کی: جی ہاں ، تو حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دستِ مبارک اُٹھا کر دعا فرمائی اور ابھی دستِ مبارک اٹھے ہی ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بادل بھیجا ،بارش ہوئی ،لشکر سیراب ہوا اور لشکر والوں نے اپنے برتن بھر لئے، اس کے بعد جب آگے چلے تو زمین خشک تھی، بادل نے لشکر کے باہر بارش ہی نہیں کی وہ خاص اسی لشکر کو سیراب کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۲ / ۲۸۹)

{مَا كَادَ:قریب تھا۔} یعنی قریب تھا کہ ان میں سے بعض لوگوں کے دل شدت اور سختی پہنچنے کی وجہ سے حق سے اِعراض کر جاتے اور وہ اس شدت و سختی میں رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے جدا ہونا گوارا کرلیتے لیکن انہوں نے صبر کیا اور وہ ثابت قدم رہے اور جو وسوسہ ان کے دل میں گزرا تھا اس پر نادم ہوئے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ا رشاد فرمایا ’’ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کا اخلاص اور توبہ کی سچائی جانتا ہے تو اس نے انہیں توبہ کرنے کی توفیق دی اور اس توبہ کو قبول فرمایا۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۲ / ۲۸۹)

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِؕ-ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠(۱۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی اور وہ اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان تین پر (بھی رحمت ہوئی)جن کا معاملہ موقوف کردیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور وہ اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کی ناراضگی سے (بچنے کیلئے) اس کے سوا کوئی پناہ نہیں تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی تا کہ وہ تائب رہیں۔ بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

{وَ عَلَى الثَّلٰثَةِ:اور تین پر۔}   یہ تین صحابۂ کرام حضرت کعب بن مالک، ہلال بن اُمیہ اور مرارہ بن ربیع  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں۔ ان کا ذکر آیت ’’وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ(توبہ:۱۰۶)(اور اللہ کے حکم کی وجہ سے کچھ دوسروں کو مؤخر کردیا گیا ہے) ‘‘ میں گزر چکا ہے ،یہ سب انصاری تھے، رسول کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے غزوۂ تبوک سے واپس ہو کر ان سے جہاد میں حاضر نہ ہونے کی وجہ دریافت فرمائی اور فرمایا: ٹھہرو، جب تک اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی فیصلہ فرمائے اور مسلمانوں کو اُن لوگوں سے ملنے جلنے کلام کرنے سے ممانعت فرما دی حتّٰی کہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں نے ان سے کلام ترک کردیا ،یہاں تک کہ ایسا معلو م ہوتا تھا کہ اُن کو کوئی پہچانتا ہی نہیں اور اُن کی کسی سے شناسائی ہی نہیں۔ اس حال پر انہیں پچاس روز گزرے یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور انہیں کوئی ایسی جگہ نہ مل سکی جہاں ایک لمحہ کے لئے انہیں قرار ہوتا ،ہر وقت پریشانی اور رنج وغم،  بے چینی و اِضطراب میں مُبتلا تھے اور وہ  رنج وغم کی شدت کی وجہ سے اپنی جانوں سے تنگ آگئے ،  نہ کوئی اَنیس ہے جس سے بات کریں ،نہ کوئی غم خوار جسے حالِ دل سنائیں ، وحشت و تنہائی ہے اور شب و روز کی گریہ و زاری۔ انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی سے بچنے کیلئے اس کے سوا کوئی پناہ نہیں تواللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرما لی تا کہ آئندہ توبہ کرنے والے ہی رہیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۲ / ۲۹۰-۲۹۱، ملخصاً)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

{وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ:اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔} یعنی ان لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ جو ایمان میں سچے ہیں ، مخلص ہیں ، رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اِخلاص کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں۔حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ صادقین سے حضرت ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامراد ہیں۔ ابنِ جریج کہتے ہیں کہ اس سے مہاجرین مراد ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی نیتیں سچی رہیں ، ان کے دل اور اَعمال سیدھے رہے اور وہ اخلاص کے ساتھ غزوۂ  تبو ک میں حاضر ہوئے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۲ / ۲۹۳)

سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی مذمت:

            اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سچوں کے ساتھ ہونے کا حکم ارشاد فرمایا،اس مناسبت سے یہاں ہم سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی مذمت پر دو اَحادیث ذکر کرتے ہیں۔

(1)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک سچائی بھلائی کی طرف ہدایت دیتی ہے اور بھلائی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق ہو جاتا ہے اور جھوٹ بدکاریوں کی طرف لے کر جاتا ہے اور بدکاریاں جہنم میں پہنچاتی ہیں اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن