30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ:اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ۔}اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جن اَحکام کا پابند کیا ہے وہ بہت زیادہ ہیں ، یہ تمام احکام دو قسموں میں منحصر ہیں (1) عبادات ،جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ۔ (2) معاملات، جیسے خریدو فروخت ،نکاح اور طلاق وغیرہ۔ ان دونوں قسموں میں سے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے انہیں بجا لانا اور جن سے منع کیا گیا ہے ان سے رک جانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدوں کی حفاظت ہے۔ (تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۶ / ۱۵۵، قرطبی، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۴ / ۱۵۵، الجزء الثامن، ملتقطاً)
اسی بات کو عام الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقوقُ اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پورا کرنے والے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں دونوں چیزوں کی اہمیت ہے۔ یہ نہیں کہ حقوقُ اللہ میں مگن ہو کر حقوق العباد چھوڑ دیں اور حقوق العباد میں مصروف ہوکر حقوقُ اللہ سے غافل ہوجائیں۔ ہمارے ہاں یہ اِفراط و تفریط بکثرت پائی جاتی ہے اور یہ دین سے جہالت کی وجہ سے ہے۔
مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ(۱۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان کے لئے واضح ہوچکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔
{مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں۔} شانِ نزول: اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے استغفار کروں گا جب تک کہ مجھے ممانعت نہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ممانعت فرمادی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب ما کان للنبیّ والذین آمنوا۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۴۰، الحدیث: ۴۶۷۵)
بعض مفسرین نے یہ شانِ نزول بیان کیا کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے اپنی والدہ کی زیارت ِ قبر کی اجازت چاہی اس نے مجھے اجازت دی پھر میں نے ان کے لئے استغفار کی اجازت چاہی تو مجھے اجازت نہ دی اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ’’مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ‘‘(مستدرک، کتاب التفسیر، زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر امّہ آمنۃ، ۳ / ۷۱، الحدیث: ۳۳۴۵)
لیکن یہ ہرگز درست نہیں چنانچہ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ شانِنزول کی یہ وجہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث حاکم نے روایت کی اور اس کو صحیح بتایا اور ذہبی نے حاکم پر اعتماد کرکے میزان میں اس کی تصحیح کی لیکن مُخْتَصِرُ الْمُسْتَدْرَکْ میں ذہبی نے اس حدیث کی تضعیف کی اور کہا کہ ایوب بن ہانی کو ابنِ معین نے ضعیف بتایا ہے، علاوہ بریں یہ حدیث بخاری کی حدیث کے مخالف بھی ہے جس میں اس آیت کے نزول کا سبب آپ کا والدہ کے لئے استغفار کرنا نہیں بتایا گیا بلکہ بخاری کی حدیث سے یہی ثابت ہے کہ ابو طالب کے لئے استغفار کرنے سے متعلق یہ آیت وارد ہوئی، اس کے علاوہ اور حدیثیں جو اس مضمون کی ہیں جن کو طبرانی ، ابنِ سعد اور ابنِ شاہین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ وغیرہ نے روایت کیا ہے وہ سب ضعیف ہیں۔ابنِ سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے طبقات میں حدیث کی تخریج کے بعد اس کو غلط بتایا اور سند المحدثین امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے رسالہ ’’ اَلتَّعْظِیْمُ وَالْمَنَّۃُ‘‘ میں اس مضمون کی تمام اَحادیث کو مَعلول بتایا ،لہٰذا یہ وجہ شانِ نزول میں صحیح نہیں اور یہ بات ثابت ہے، اس پر بہت سے دلائل قائم ہیں کہ سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی والدہ ماجدہ مُوَحِّدہ (یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والی) اور دینِ ابراہیمی پرتھیں۔
{مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ:جبکہ ان کے لئے واضح ہوچکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔} یعنی جب ان کیلئے ظاہر ہو چکا کہ وہ شرک پر مرے ہیں۔(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ص۴۵۷)خیال رہے کہ کسی مشرک کا مرتے وقت تک مسلمان نہ ہونا ا س بات کی علامت ہے کہ وہ کافر مرا لہٰذا اس پر اسلام کے احکام جاری نہیں ہوتے اگرچہ حقیقتِ حال کی خبر اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ہے جیسے کسی کا مرتے وقت تک مسلمان رہنا اس کے اسلام پر مرنے کی علامت ہے اگرچہ ا س کے خاتمہ کا حال ہمیں معلوم نہیں ،یہی آیتِ کریمہ کا مقصد ہے۔
وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُۚ-فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُؕ-اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ(۱۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا بیشک ابراہیم ضرور بہت آہیں کرنے والا متحمل ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کرلیا تھا پھر جب ابراہیم کے لئے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے ۔ بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا تھا۔
{وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ: اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا ۔} اس سے یا تو وہ وعدہ مراد ہے جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے آزر سے کیا تھا کہ میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے تیری مغفرت کی دعا کروں گا یا وہ وعدہ مراد ہے جو آزر نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اسلام لانے کا کیا تھا۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ص۴۵۷) شانِ نزول: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ’’سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ‘‘(مریم: ۴۷)(عنقریب میں تیرے لئے اپنے رب سے معافی مانگوں گا)تو میں نے سنا کہ ایک شخص اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کررہا ہے حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے تو میں نے کہا :تو مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے؟ اس نے کہا :کیا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آزر کے لئے دُعا نہ کی تھی؟ وہ بھی تو مشرک تھا ۔ یہ واقعہ میں نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ذکرکیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اِستغفار اسلام قبول کرنے کی امید کے ساتھ تھا جس کا آزر آپ سے وعدہ کرچکا تھا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آزر سے استغفار کا وعدہ کرچکے تھے۔جب وہ اُمید مُنقطع ہوگئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس سے اپنا تعلق ختم کردیا۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ التوبۃ، ۵ / ۶۹، الحدیث: ۳۱۱۲، خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۲ / ۲۸۷، ملتقطاً)
{اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ: بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا تھا۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دو صفات بیان فرمائیں اس سے مقصود یہ ہے کہ جس میں یہ صفات پائی جائیں اس کا قلبی مَیلان اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنے میں بہت شدید ہوتا ہے گویا کہ فرمایا گیا بے شک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عظیم مرتبے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع