30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے، تم وضو اور استنجے کے وقت کیا عمل کرتے ہو؟ اُنہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم بڑا استنجا تین ڈھیلوں سے کرتے ہیں ،اس کے بعد پانی سے طہارت کرتے ہیں۔(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۴۵۵)
ہر صاحب ِذوق شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ امیری ہو یا فقیری ہر حال میں صفائی ، ستھرائی انسان کے وقار و شرف کی آئینہ دار ہے جبکہ گندگی انسان کی عزت وعظمت کی بد ترین دشمن ہے۔ دینِ اسلام نے جہاں انسان کو کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک کر کے عزت و رفعت عطا کی وہیں ظاہری طہارت، صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعے انسانیت کا وقار بلند کیا، بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی ستھرائی، ظاہری ہَیئت کی عمدگی ہو یا طور طریقے کی اچھائی ،مکان اور سازو سامان کی بہتری ہو یا سواری کی دھلائی الغرض ہر ہر چیز کو صاف ستھرا اور جاذبِ نظر رکھنے کی دینِ اسلام میں تعلیم اور ترغیب دی گئی ہے،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ‘‘(مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوئ، ص۱۴۰، الحدیث: ۱(۲۲۳))
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
حضرت ابو مالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ (البقرہ:۲۲۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاسے روایت ہے، سرور ِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ بے شک اسلام صاف ستھرا (دین) ہے تو تم بھی نظافت حاصل کیا کرو کیونکہ جنت میں صاف ستھرا رہنے والا ہی داخل ہو گا۔ (کنز العمال، حرف الطاء، کتاب الطہارۃ، قسم الاقوال، الباب الاول فی فضل الطہارۃ مطلقاً، ۵ / ۱۲۳، الحدیث: ۲۵۹۹۶، الجزء التاسع )
ایک روایت میں ہے کہ جو چیز تمہیں مُیَسّر ہو اس سے نظافت حاصل کرو، اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بنیاد صفائی پر رکھی ہے اور جنت میں صاف ستھرے رہنے والے ہی داخل ہوں گے۔ (جمع الجوامع، حرف التائ، التاء مع النون، ۴ / ۱۱۵، الحدیث: ۱۰۶۲۴)
حضرت سہل بن حنظلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا جو لباس تم پہنتے ہو اسے صاف ستھرا رکھو اور اپنی سواریوں کی دیکھ بھال کیا کرو اور تمہاری ظاہری ہیئت ایسی صاف ستھری ہو کہ جب لوگوں میں جاؤ تو وہ تمہاری عزت کریں۔ (جامع صغیر، حرف الہمزۃ،ص۲۲، الحدیث: ۲۵۷)
حضرت علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس حدیث میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر وہ چیز جس سے انسان نفرت و حقارت محسوس کرے اس سے بچا جائے خصوصاً حُکّام اور علماء کو ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔(فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۱ / ۲۴۹، تحت الحدیث: ۲۵۷)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے یہاں تشریف لائے، ایک شخص کو پَراگندہ سر دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں ، فرمایا: ’’کیا اس کو ایسی چیز نہیں ملتی جس سے بالوں کو اکٹھا کرلے اور دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے ایسی چیز نہیں ملتی، جس سے کپڑے دھولے۔ (ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی غسل الثوب وفی الخلقان، ۴ / ۷۲، الحدیث: ۴۰۶۲)
حضرت عطاء بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کی طرف اشارہ کیا، گویا بالوں کے درست کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ شخص درست کرکے واپس آیا تو نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الشعر، باب اصلاح الشعر، ۲ / ۴۳۵، الحدیث: ۱۸۱۹)
حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّطیِّب ہے۔ طِیْب یعنی خوشبو کو دوست رکھتا ہے، ستھرا ہے ستھرائی کو دوست رکھتا ہے، کریم ہے کرم کو دوست رکھتا ہے، جواد ہے جودو سخاوت کو دوست رکھتا ہے۔ لہٰذا اپنے صحن کو ستھرا رکھو، یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ کرو۔ (ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء فی النظافۃ، ۴ / ۳۶۵، الحدیث: ۲۸۰۸)
اسلا م میں صفائی کی اہمیت کے حوالے سے سرِ دست یہ چند روایتیں ذکر کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر وہ بھلایا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ گڑھے کے کنارے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں ڈھے پڑا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا جس نے اپنی عمارت کی بنیاداللہ سے ڈرنے اور اس کی رضا پررکھی وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے کنارے پر رکھی جو گرنے والی ہے پھر وہ عمارت اس (اپنے بانی) کو لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑے اور اللہ ظالموں کوہدایت نہیں دیتا۔
{اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ:تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے دین کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی کی مضبوط سطح پر رکھی وہ بہتر ہے نہ کہ وہ جس نے اپنے دین کی بنیاد باطل و نفاق کے ٹوٹے ہوئے کناروں والے گڑھے پر رکھی۔(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ص۴۵۵)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! کیسی پیاری تشبیہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسجدِ ضِرار اور منافقین کے سارے اعمال اس عمارت کی طرح ہیں جو دریا کے نیچے سے کاٹی یا گلی ہوئی زمین پر بنادی جائے اور پھر وہ زمین مع اس عمارت کے دریا میں گر جائے۔ ایسے ہی منافقین کی مسجدیں ہیں کہ ان کی مسجد بھی دوزخ میں ہے، اور وہ خود بھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر ایک کی میٹھی باتوں اور ظاہری نیکیوں کو دیکھ کر اس کے نیک ہونے کا یقین نہ کرلینا چاہیے، ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی۔ یہ آیت ِ مبارکہ اس بات کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے کہ مسجدوں کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر ہونی چاہیے ۔ لہٰذا صرف اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع