30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ کا حکم آنے تک کچھ دوسروں کو مؤخر کردیا گیا ہے ۔یا تو اللہ انہیں عذاب دے گا اور یا ان کی توبہ قبول فرمالے گا اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔
{وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ: اور اللہ کا حکم آنے تک کچھ دوسروں کو مُؤخر کردیا گیا ہے ۔}یعنی غزوۂ تبوک سے رہ جانے والے کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں مَوقوف رکھا گیا ہے یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم ظا ہر ہو جائے، اگر وہ اپنے جرم پر قائم رہے اور توبہ نہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں عذاب دے گا اور اگر انہوں نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۴۵۳) غزوۂ تبوک سے رہ جانے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی تعداد دس تھی، ان میں سے سات صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ندامت و شرمندگی کی وجہ سے خود کو مسجد کے ستونوں سے بندھوا لیا تھا۔ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں ان سات صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اعترافِ جرم اور توبہ کی قبولیت کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں ہوا جبکہ بقیہ تین صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے چونکہ اُن کی طرح ستونوں سے بندھ کر اپنی توبہ اور ندامت کا اظہار نہ کیا تھا اس لئے ان کی توبہ کی قبولیت کو مؤخر کردیا گیا۔ اس آیت میں انہی تین صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ذکر ہے۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۴۵۳-۴۵۴، ملخصاً)ان کی توبہ کی قبولیت کا ذکراسی سورت کی آیت نمبر 118 میں ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُؕ-وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۱۰۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کو اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی چاہی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (کچھ منافق ) وہ (ہیں ) جنہوں نے نقصان پہنچانے کے لئے اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اور اس شخص کے انتظار کے لئے مسجد بنائی جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں۔
{وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا:اور وہ جنہوں نے نقصان پہنچانے کے لئے مسجد بنائی۔} شانِ نزول: یہ آیت منافقین کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مسجدِ قبا کو نقصان پہنچانے اور اس کی جماعت میں تفریق ڈالنے کیلئے اس کے قریب ایک مسجد بنائی تھی، اس میں ایک بڑی چال تھی وہ یہ کہ ابو عامر جو زمانہ ٔجاہلیت میں نصرانی راہب ہو گیا تھا، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مدینہ طیبہ تشریف لانے پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہنے لگا:یہ کون سا دین ہے جو آپ لائے ہیں؟ حضورپُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :میں ملتِ حَنِیْفِیّہ، دینِ ابراہیم لایا ہوں۔ابو عامر کہنے لگا :میں اسی دین پر ہوں۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ، نہیں۔ اس نے کہا کہ آپ نے اس میں کچھ اور ملا دیا ہے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا نہیں ،میں خالص صاف ملّت لایا ہوں۔ پھرابو عامر نے کہا: ہم میں سے جو جھوٹا ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو حالت ِسفر میں تنہا اور بیکس کرکے ہلاک کرے ۔ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے آمین فرمایا۔ لوگوں نے اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا۔ جنگِ اُحد کے دن ابو عامر فاسق نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کہا کہ جہاں کہیں کوئی قوم آپ سے جنگ کرنے والی ملے گی میں اس کے ساتھ ہو کر آپ سے جنگ کروں گا ۔ چنانچہ جنگِ حُنَین تک اس کا یہی معمول رہا اور وہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مصروفِ جنگ رہا ،جب ہوازن کو شکست ہوئی اور وہ مایوس ہو کر ملک شام کی طرف بھاگا تو اُس نے منافقین کو خبر بھیجی کہ تم سے قوت واسلحہ جو سامانِ جنگ ہوسکے سب جمع کرو اور میرے لئے ایک مسجد بناؤ ۔ میں شاہ ِروم کے پاس جاتا ہوں وہاں سے رومی لشکر لے کر آؤں گا اور (سیّد ِعالَم ) محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اور ان کے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو نکالوں گا ۔یہ خبر پا کر اُن لوگوں نے مسجدِ ضِرار بنائی تھی اور رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کیا تھا یہ مسجدہم نے آسانی کے لئے بنادی ہے کہ جو لوگ بوڑھے ضعیف کمزور ہیں وہ اس میں بہ فراغت نماز پڑھ لیا کریں ،آپ اس میں ایک نماز پڑھ دیجئے اور برکت کی دعا فرمادیجئے۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اب تو میں سفرِ تبوک کے لئے جارہا ہوں ،واپسی پر اللہ عَزَّوَجَلَّکی مرضی ہوگی تو وہاں نماز پڑھ لوں گا۔ جب نبی ٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غزوۂ تبوک سے واپس ہو کر مدینہ شریف کے قریب ایک علاقے میں ٹھہرے تو منافقین نے آپ سے درخواست کی کہ اُن کی مسجد میں تشریف لے چلیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اُن کے فاسد ارادوں کا اظہار فرمایا گیا، تب رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو حکم دیا کہ اس مسجد کو جا کر گرادیں اور جلا دیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ابو عامر راہب ملکِ شام میں بحالتِ سفر بے کسی و تنہائی میں ہلاک ہوا۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲ / ۲۸۱)
مسجد کے نام پر بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے:
اِس سے معلوم ہوا کہ مسجد کے نام پر بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچایاجاسکتااور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دشمنی کی جاسکتی ہے لہٰذا ایسی مسجدوں سے بھی دور رہا جائے جہاں اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نقص نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور جہاں مسلمانوں کو باطل تعلیم دے کر لڑایا جاتا ہے۔ آج بھی جو مسجد دین میں فساد اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کیلئے بنائی جائے وہ مسجد ِ ضرار ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کی کوشش کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔
لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًاؕ-لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے حبیب!) آپ اس مسجد میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔بیشک وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس کی حقدار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں وہ لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
{لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا:(اے حبیب!) آپ اس مسجد میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔} اس آیت میں تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مسجدِ ضرار میں نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی گئی۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۲ / ۲۸۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع