30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الآیۃ: ۴۹، ۲ / ۲۰۰)
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے توکل کی تعریف :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی تعریف فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دئیے اور اس کی قضا پر راضی ہو گئے تا کہ دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ان کی حمایت فرمائے اور اس میں دیگر مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیم ہے کہ وہ بھی اپنے سب معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں اور اس کی قضا و تقدیر پر ہر دم راضی رہیں۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُواۙ-الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْۚ-وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ(۵۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر اور ان کی پیٹھ پر اور چکھو آ گ کا عذاب۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر آپ دیکھتے جب فرشتے کافروں کی ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے جان نکالتے ہیں اور (کہتے ہیں ) آگ کا عذاب چکھو۔
{وَ لَوْ تَرٰى:اوراگر آپ دیکھتے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اگر آپ کافروں کی وہ حالت دیکھیں کہ جب موت کے وقت فرشتے کافروں کی روحیں نکالتے ہیں تو بڑا خوفناک منظر دیکھیں گے۔ فرشتے آگ میں سرخ کئے ہوئے لوہے کے گُرز کافروں کے چہرے اور پیٹھوں پر مار تے ہوئے کہتے ہیں کہ آگ کا عذاب چکھو اور گرزوں کی ضرب و مار سے جو زخم لگتا ہے اس میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۰، ۲ / ۲۰۲-۲۰۳)
ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ(۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ بدلہ ہے ان اعمال کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
{ذٰلِكَ:یہ۔} یعنی یہ مصیبتیں اور عذاب تمہارے اپنے کئے ہوئے کفر اور گناہوں کا بدلہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی پر جرم کے بغیر عذاب نہیں کرتااور کافر پر عذاب کرنا عدل ہے۔آیت میں ’’بِظَلَّامٍ‘‘ سے مراد بہت ظلم کرنے والا نہیں بلکہ مُطْلَق ظلم کرنے والا مراد ہے اور معنی یہ ہوا کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان: جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور وہ اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے تو اللہنے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جیسا فرعونیوں اور ان سے پہلوں کا طریقہ وہ اللہکی آیات کے ساتھ کفر کرتے تھے تو اللہ نےان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیا، بیشک اللہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے۔
{ كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ:جیسا فرعونیوں کا طریقہ۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں کفار کی ذلت آمیز شکست اور آخرت میں ان کے لئے سخت عذاب تیار کرنے کا ذکر فرمایا جبکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ کفارِ قریش کو جو دنیا و آخرت میں عذاب دیا ہے وہ ان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ تما م کفار اور سب منکروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ ہے۔آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کافروں کی اپنے کفر وسرکشی میں عادت فرعون اور ان سے پہلوں کی طرح ہے تو جیسے فرعونیوں کو غرق کر کے ہلاک کیا اسی طرح یہ بھی غزوہ ٔ بدر کے دن قتل ا ور قید میں مبتلا کئے گئے۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۲، ۵ / ۴۹۵)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ آیت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح فرعونیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کو یقین کے ساتھ جان لیا پھر بھی ان کی تکذیب کی یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کو جان پہچان کر تکذیب کرتے ہیں۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲ / ۲۰۳)
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ(۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
{ذٰلِكَ:یہ۔} یعنی کافروں کو عذاب دینے کا سبب یہ ہے کہ اللہتعالیٰ نے کسی قوم کو جو نعمت عطا فرمائی ہے اسے ہر گز نہیں بدلتا جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں ا ور زیادہ بدتر حال میں مبتلا نہ ہوں جیسے اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو روزی دے کر بھوک کی تکلیف دور کی، امن دے کر خوف سے نجات دی اور ان کی طرف اپنے حبیب سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبی بنا کر مبعوث کیا ،انہوں نے ان نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے یہ سرکشی کی کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلایا اور ان کی خوں ریزی کے درپے ہوئے اور لوگوں کو راہِ حق سے روکا ۔ سُدِّی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت حضرت سیدانبیاء محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۳، ۲ / ۲۰۳)
قوموں کے عروج و زوال سے متعلق قانونِ الہٰی:
قدرت کا یہ قانون ہے کہ کسی قوم کو نعمت دے کر اس وقت تک اس نعمت کو عذاب سے تبدیل نہیں کیا جاتا جب تک وہ قوم خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو اس نعمت کا نااہل ثابت نہیں کرتی۔ گزری ہوئی اور موجودہ قوموں کے عروج و زوال کیلئے یہی اٹل قانون ہے کہ نعمت کا شکر اور حق ادا کرنے پر نعمت بڑھ جاتی ہے اور ناشکری کرنے پرسزا دی جاتی ہے ۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ قدرت کا یہ قانون صرف کافر قوموں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ مسلمان بھی اگر اُسی روش پر چلیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بھی اپنی دی ہوئی نعمتیں واپس لے لیتا ہے اور انہیں بھی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے جیسا کہ مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب کی معرفت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جب تک مسلمان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر اور ان کاحق ادا کرتے رہے تب تک عُروج کی ان مَنازل پر فائز رہے کہ دنیا کی بڑی بڑی سپر پاورز ان کے زیر نگیں رہیں اور کفار مسلمانوں کا نام سن کر لرزتے رہے اور جب سے مسلمانوں نے نعمت کے شکر اور ا س کے حق کی ادائیگی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع