30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔
{وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ:اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا۔} شانِ نزول: یہ آیت ان کفارِ قریش کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر میں بہت اتراتے اور تکبر کرتے ہوئے آئے تھے۔ جب یہ لوگ آئے توسر کارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا کی: یارب! عَزَّوَجَلَّ، یہ قریش آگئے ،تکبر و غرور میں سرشار اور جنگ کے لئے تیار ہیں ، تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں۔ یارب! عَزَّوَجَلَّ، اب وہ مدد عنایت ہو جس کا تو نے وعدہ کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ جب ابوسفیان نے دیکھا کہ قافلہ کو کوئی خطرہ نہیں رہا تو انہوں نے قریش کے پاس پیام بھیجا کہ تم قافلہ کی مدد کے لئے آئے تھے، اب اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے لہٰذا واپس چلے جاؤ۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ’’ خدا کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ ہم بدر میں اتریں ، تین دن قیام کریں ، اونٹ ذبح کریں ، بہت سے کھانے پکائیں ، شرابیں پئیں ، کنیزوں کا گانا بجانا سنیں ، عرب میں ہماری شہرت ہو اور ہماری ہیبت ہمیشہ باقی رہے۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا جب وہ بدر میں پہنچے تو شراب کے جام کی جگہ انہیں ساغرِموت پینا پڑا اور کنیزوں کے سازو نَوا کی جگہ رونے والیاں انہیں روئیں اور اونٹوں کے ذبح کی جگہ ان کی گردنیں کٹیں۔(صاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۷۷۰)
کافروں کی ریاکاری، فخر و غرور اور تکبر کے برے انجام سے مسلمان عبرت حاصل کریں :
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مؤمنین کو حکم فرمارہا ہے کہ وہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں اور سمجھ لیں کہ فخروریا اور غرورو تکبر کا انجام انتہائی خراب ہے بندے کو اخلاص اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اطاعت کرنی چاہئے۔
وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْۚ-فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَؕ-وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠(۴۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (یاد کرو) جب شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے اور شیطان نے کہا : آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور بیشک میں تمہارا مدد گار ہوں پھر جب دونوں لشکر آ منے سامنے ہوئے تو شیطان الٹے پاؤں بھاگا اور کہنے لگا: بیشک میں تم سے بیزار ہوں۔ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ۔بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
{وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ:اور (یاد کرو) جب شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے۔} اس آیت میں بیان کئے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان نے کفار کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس پر ان کی تعریفیں کیں اور انہیں خبیث اعمال پر قائم رہنے کی رغبت دلائی اور جب قریش نے بدر میں جانے پر اتفاق کرلیا تو انہیں یاد آیا کہ ان کے اور قبیلہ بنی بکر کے درمیان دشمنی ہے، ممکن تھا کہ وہ یہ خیال کرکے واپسی کا ارادہ کرتے اور یہ شیطان کو منظور نہ تھا، اس لئے اس نے یہ فریب کیا کہ وہ بنی کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک کی صورت میں نمودار ہوا اور ایک لشکر اور ایک جھنڈا ساتھ لے کرمشرکین سے آملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں جب مسلمانوں اور کافروں کے دونوں لشکر صف آراء ہوئے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک مشت خاک مشرکین کے منہ پر ماری تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ابلیس لعین کی طرف بڑھے جوسراقہ کی شکل میں حارث بن ہشام کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھا، ابلیس ہاتھ چھڑا کر اپنے گروہ کے ساتھ بھاگا۔ حارث پکارتا رہ گیا سراقہ !سراقہ! تم نے تو ہماری ضمانت لی تھی اب کہا ں جاتے ہو ؟ابلیس کہنے لگا : بیشک میں تم سے بیزار ہوں اور امن کی جو ذمہ داری لی تھی اس سے سبک دوش ہوتا ہوں۔ اس پر حار ث بن ہشام نے کہا کہ ہم تیرے بھروسے پر آئے تھے کیا تو اس حالت میں ہمیں رسوا کرے گا؟ کہنے لگا: میں وہ دیکھ رہاہوں جو تم نہیں دیکھ رہے،بیشک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کردے۔ جب کفار کو ہزیمت ہوئی اور وہ شکست کھا کر مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ہماری شکست و ہزیمت کی وجہ سراقہ بنا ہے۔ سراقہ کو جب یہ خبر پہنچی تو اسے بہت حیرت ہوئی اور اس نے کہا :یہ لوگ کیا کہتے ہیں۔نہ مجھے ان کے آنے کی خبر ، نہ جانے کی ،تو قریش نے کہا :’’ تو فلاں فلاں روز ہمارے پاس آیا تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ یہ غلط ہے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۸، ۲ / ۲۰۱-۲۰۲)
اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۴۹)
ترجمۂ کنزالایمان: جب کہتے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں آزار ہے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور جو اللہ پر توکل کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
{اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ:جب منافق کہنے لگے۔} منافقین سے مراد اوس اور خزرج قبیلے کے چند افراد ہیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے سے مراد مکہ مکرمہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلمۂ اسلام تو پڑھ لیا تھا مگر ابھی تک ان کے دلوں میں شک وتَرَدُّد باقی تھا۔ جب کفارِ قریش سید ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ بدر میں پہنچے۔ بدر میں جب انہوں نے مسلمانوں کی تعداد تھوڑی دیکھی تو ان کا شک مزید بڑھا اور وہ مرتد ہوگئے اور یہ کہنے گے کہ مسلمان اتنی کم تعداد کے باوجود اپنے سے تین گنا بڑے لشکر سے جنگ کرنے لگے ہیں ، انہیں ان کے دین اسلام نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور آخرت میں ثواب کی امید انہیں اپنی جانیں قربان کرنے پر ابھار رہی ہے۔ یہ تمام لوگ بدر میں مارے گئے تھے۔(تفسیرکبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۹، ۵ / ۴۹۳، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۹، ۲ / ۲۰۰، ملتقطاً)
{وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ:اور جو اللہ پر توکل کرے۔} ارشاد فرمایا کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرے اور اپنا کام اس کے سپرد کردے اور اس کے فضل و احسان پر مطمئن ہو تو بیشک اللہ تعالیٰ اس کا حافظ و ناصر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ حکمت والا ہے،وہ اپنے دشمنوں کو عذاب میں مبتلا کرتا اور اپنے اولیاء کو رحمت و ثواب عطا فرماتا ہے۔(خازن، الانفال، تحت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع