دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ترجمۂ کنزالایمان: لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے  انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد کو پہونچے۔ اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں بہشتیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے یہی بڑی مراد ملنی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں اورجانوں کے ساتھ جہاد کیا اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی کامیاب ہونے والے ہیں۔اور اللہ نے ان کے لئے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔یہی بڑی کامیابی ہے۔

{لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ:لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے۔} اس سے پہلی آیات میں جہاد سے راہِ فرار اختیار کرنے میں منافقوں کا حال بیان کیا گیا اور اس آیت سے نبیٔ  کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا جذبۂ جہاد بیان کیا گیا کہ انہوں نے اللہتعالیٰ کی رضا کی طلب میں اور اس کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کے لئے اپنے مال اور اپنی جانیں دونوں خرچ کر دیں۔ (تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۸، ۶ / ۱۱۹)

آیت ’’ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

             اس آیت سے دومسئلے معلوم ہوئے

(1)… جنت اور وہاں کی نعمتیں پیدا ہو چکی ہیں۔

(2)… جنتی اپنی اپنی جنت کے پورے پورے مالک ہوں گے۔ وہاں صرف مہمان کی طرح بغیر ملکیت کے نہ ہوں گے البتہ ان کی خاطِر تواضُع مہمانوں کی سی ہوگی۔

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بہانے بنانے والے گنوار آئے کہ انہیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ جنہوں نے اللہ و رسول سے جھوٹ بولا تھا جلد ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب پہونچے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور عذر پیش کرنے والے دیہاتی آئے تا کہ انہیں رخصت دیدی جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولنے والے بیٹھے رہے ۔ ان میں سے کافروں کو عنقریب دردناک عذاب پہنچے گا۔

{وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ:اور عذر پیش کرنے والے دیہاتی آئے۔} تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں جہاد سے رہ جانے کا عذر پیش کرنے کیلئے دیہاتی آئے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ عامر بن طفیل کی جماعت تھی انہوں نے سرورِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی: یا نَبِیَّ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم آپ کے ساتھ جہاد میں جائیں تو قبیلہ طے کے عرب ہمارے بیوی بچوں اور جانوروں کو لوٹ لیں گے۔ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال سے خبردار کیا ہے اور وہ مجھے تم سے بے نیاز کرے گا ۔عمرو بن علاء نے کہا کہ ان لوگوں نے باطل عذر بنا کر پیش کیا تھا۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۲۷۱)

{وَ قَعَدَ:اور بیٹھے رہے۔} یہ دوسرے گروہ کا حال ہے جو بغیر کسی عذر کے بیٹھ رہے یہ منافقین تھے انہوں نے ایمان کا دعویٰ جھوٹا کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے جھوٹ بولنا اللہ تعالیٰ سے جھوٹ بولنا ہے کیونکہ ان بد نصیبوں نے رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے جھوٹ بولا ، اِس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جھوٹ بولا۔

{سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ:ان میں سے کافروں کو عنقریب دردناک عذاب پہنچے گا۔} یعنی ان منافقوں میں سے جو کھلے کافر بن جائیں ، انہیں دنیا میں قتل و غارت کا عذاب ہو گا یا ان منافقوں میں سے جو آخر دم تک کفر پر قائم رہیں ،ا نہیں آخرت کا درد ناک عذاب ہو گا۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں ا ور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو جب کہ اللہ و رسول کے خیر خواہ رہیں نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کمزوروں پر اور بیماروں پر اورخرچ کرنے کی طاقت نہ رکھنے والوں پر کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ رہیں۔ نیکی کرنے والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ:کمزوروں پرکوئی حرج نہیں۔} باطل عذر والوں کا ذکر فرمانے کے بعد سچے عذر والوں کے متعلق فرمایا کہ ان پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے ۔یہ کون لوگ ہیں ؟ان کے چند طبقے بیان فرمائے

            پہلا طبقہ ضعیف جیسے کہ بوڑھے ،بچے ، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ضعیف ونحیف ہو۔

            دوسرا طبقہ بیمار، اس میں اندھے ،لنگڑے، اپاہج بھی داخل ہیں۔

             تیسرا طبقہ وہ لوگ جنہیں خرچ کرنے کی قدرت نہ ہو اور سامانِ جہاد نہ کرسکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔(تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۱، ۶ / ۱۲۱)

{اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ رہیں۔} یعنی ان کی اطاعت کریں اور مجاہدین کے گھر والوں کی خبر گیری رکھیں۔ (تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۱، ۶ / ۱۲۱، ملخصاً)

            اس سے معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خیر خواہی رب تعالیٰ کی خیر خواہی ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی نیکی نہ کر سکے مگر نیکیوں کا دل سے خیر خواہ رہے تب بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نیکوں میں شمار ہو گا۔ آیت کا مَنشا یہ ہے کہ مجبور مسلمان جو جہاد میں شریک نہ ہو سکیں وہ مدینہ میں رہ کر اللہ رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خیر خواہی میں مجاہدین کے بچوں کی خدمت کریں۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تم مدینہ منورہ میں ایسے لوگوں کو بھی چھوڑ آئے ہو کہ تم جو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن