30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں یہ دیکھ کرایک بڑی تعدادمسلمان ہوگئی۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۴، ۲ / ۲۶۸-۲۶۹)
کافر، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر کوئی کافر مر جائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے مرنے پر نہ اس کے لئے دعا کرے اور نہ ہی ا س کی قبر پر کھڑا ہو۔ افسوس! فی زمانہ حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک میں کوئی بڑا کافر مر جاتا ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہارِ افسوس کرتے ہیں جیسے اِ ن کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے۔
آیت کی مناسبت سے ہم یہاں کافر،فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل ذکر کرتے ہیں
(1)… اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا ’’اور فسق ہی میں مرگئے‘‘یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنی کفر وارد ہوا ہے جیسے کہ آیت ’’ اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا‘‘ (السجدۃ :۳۲)(توکیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو نافرمان ہے)میں۔
(2)… فاسق کے جنازے کی نماز جائز بلکہ فرضِ کِفایہ ہے ،اس پر صحابہ اور تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اجماع ہے اور اس پر علماء و صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنت و جما عت کا مذہب ہے۔
(3)… جب کوئی کافر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیے کہ بطریق مَسنون غسل نہ دے بلکہ اس پر پانی بہا دے اور نہ کفن مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے اس کا ستر چھپ جائے اور نہ سنت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنت قبر بنائے ،صرف گڑھا کھود کر اندر رکھ دے ۔
وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۸۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے مال یا اولاد پر تعجب نہ کرنا اللہ یہی چاہتا ہے کہ اسے دنیا میں ان پر وبال کرے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے مال اور اولاد تمہیں تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور کفر کی حالت میں ان کی روح نکل جائے۔
{وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ:اور ان کے مال اوراولاد تمہیں تعجب میں نہ ڈالیں۔} اس آیت کی تفسیر آیت نمبر 55 کے تحت گزر چکی ہے اور یہاں منافقوں کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنے کو دوبارہ ذکر کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ لوگ اس بات کو بھول نہ جائیں اور اس سے غافل نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ اس پر عمل کرنا انتہائی اہم ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن میں مشغولیت کی وجہ سے دل بہت جلد دنیا کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور جو چیز دنیا کی طرف زیادہ راغب کرنے والی ہواس سے بار بار بچنے کا حکم دیاجاتاہے ا س لئے یہاں دوبارہ منافقوں کے مال اور اولاد پر تعجب نہ کرنے کافرما یاگیا ہے۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۲ / ۲۶۹، تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۶ / ۱۱۸، ملتقطاً)
وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ(۸۶) رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِـعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں۔انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُر کردی گئی تووہ کچھ نہیں سمجھتے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے قوت و طاقت رکھنے والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے تاکہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہوجائیں۔انہیں یہ پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُرلگادی گئی تو وہ کچھ سمجھتے نہیں۔
{اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهٖ:اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو۔}بعض علماء نے اس آیت کی بنا پر فرمایا کہ ایمان کے بعد جہاد کا درجہ ہے اور جہاد اعلیٰ درجے کی عبادت ہے کہ رب تعالیٰ نے اسے ایمان کے بعد ذکر فرمایا۔ مگر حق یہ ہے کہ نماز سب سے اعلیٰ درجے والی عبادت ہے کہ جہاد اس کے قائم کرنے کے لئے ہے ۔ یہ آیت اس خصوصی موقعہ کے لحاظ سے ہے جب جہاد کی سخت ضرورت تھی۔
قدرت کے باوجود دینِ اسلام کی مدد نہ کرنے کی مذمت:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قدرت کے باوجود دینِ اسلام کی مدد نہ کرنا منافقوں کاعمل ہے کہ فرمایا گیا : ان منافقوں میں سے جو قدرت والے ہیں وہ آپ سے جہاد میں نہ جانے کی رخصت مانگ رہے ہیں۔ اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو کفار کے ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کی مدد کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کرتے اور انہیں بے یار و مدد گار چھوڑے ہوئے ہیں ، اسی طرح ان لوگوں کو بھی نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اہلسنّت کے عقائد و معمولات کا دفاع کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود اس کا دفاع نہیں کرتے اور سنی عوام کو بد مذہبوں کے رحم و کرم پر چھوڑے ہوئے ہیں اور وہ لوگ بھی اس سے نصیحت حاصل کریں جو لوگوں کو گناہ سے روکنے کی قدرت رکھنے کے باوجود انہیں گناہ سے نہیں روکتے اور انہیں نفس و شیطان کے واروں کا شکار ہونے کے لئے چھوڑ رکھا ہے ، اسی وجہ سے علماء نے جمعہ کے دن پڑھے جانے والے خطبات میں یہ لکھا ہے کہ اے اللہ! اس کی مدد کر جو ہمارے سردار اور ہمارے مولیٰ محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے دین کی مدد کرے اور اسے بے یار و مددگار چھوڑ دے جو ہمارے سردار اور ہمارے آقا محمد ( مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے دین کو فراموش کردے۔
{وَ طُبِـعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:اور ان کے دلوں پر مہُرلگادی گئی۔} یعنی ان کے کفر و نفاق اختیار کرنے کے باعث ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی تو وہ کچھ سمجھتے نہیں کہ جہاد میں کیا کامیابی و سعادت اور بیٹھ رہنے میں کیسی ہلاکت و شقاوت ہے۔( مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۴۴۹)
لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸۸)اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠(۸۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع