دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا مذاق اڑانا اللہ تعالیٰ اور اس کی تمام آیتوں کا مذاق اڑانا ہے۔ لہٰذا تاجدارِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تعظیم اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ-اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠(۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بہانے نہ بناؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر دیں تو دوسروں کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں۔

{لَا تَعْتَذِرُوْا :بہانے نہ بنا ؤ۔} اللہ تعالیٰ نے منافقین کی جانب سے پیش کردہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا اور ان کے لئے یہ فرمایا کہ بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۶، ۲ / ۲۵۷، ملخصاً)

 آیت’’لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایمان ایسی چیز نہیں کہ جو دنیا میں کبھی کسی سے ختم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا پھر ان کا ایمان ختم ہو جانے کا ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں مسلمان ہونے کے بعد کوئی کافر ہو سکتاہے ۔

             یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے لہٰذا کوئی دوسرا کسی کو کافر نہیں کہہ سکتا ، یہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ شرعی اصولوں کے مطابق جس کا کفر ثابت ہو جائے اسے کافر قرار دینے کاحکم خود شریعت کا حکم ہے اور حقیقی علماء اسی حکمِ شریعت پر عمل کرتے ہوئے ہی کسی کو کافر کہتے ہیں۔ اگر یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، اس کے حبیب رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بارے میں ، اس کی مقدس کتاب قرآنِ مجید کے بارے میں ، اس کے پسندیدہ دین اسلام کے بارے کیسے ہی توہین آمیز کلمات کہے یا کتنے ہی برے افعال کے ذریعے ان کی توہین کرے یا دیگر ضروریاتِ دین کا انکار کرے تو اسے کافر نہ کہا جائے کیونکہ اسے کافر قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو پھر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فیصلے سے راضی نہ ہونے والے جس منافق کاسر اڑا دیا تھا اور ا س کے بعد حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرما دیا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکسی مومن کو قتل نہیں کرسکتے اور ان کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ کریم میں آیت نازل فرما دی تو کیا یہاں اللہ تعالیٰ کا حق چھیننا پایا جا رہا ہے؟ اسی طرح صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں زکوٰۃ کا انکار کرنے والوں کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف جو جہاد ہوا اور مسلمان ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے خلاف صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے جو جہاد کیا وہ کیا تھا؟ کیا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو معلوم نہیں تھا کہ انہیں کافر قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہ انہیں کافر قرار دے کر ان کے خلاف جہاد نہیں کر سکتے۔ افسوس! فی زمانہ مسلمان ہونے کادعویٰ کرنے کے باوجود دین سے بیزار طبقے کی ایسی مت ماری جا چکی ہے کہ وہ ایسا نظریہ پیش کر رہے ہیں جسے اگر درست مان لیاجائے تو پھر قرآنِ مجید اوراحادیثِ مبارکہ میں مرتد ہونے والوں کے بارے جو احکام بیان  کئے گئے اور ان کی جوتفصیلات فقہاءِ کرام زمانے سے اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آ رہے ہیں یہ سب کالْعدم ہو کر رہ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم عطا فرمائے ۔ ہاں یہاں اس بات کا خیال رکھنا بہت ہی ضروری ہے کہ کسی فردِ معین کو کافر قرار دینا بہت ہی سنگین معاملہ ہے ، جب تک کسی شخص سے صادر ہونے والے قول و فعل کی بنا پر اسے کافر قرار دینے کے تمام تر تقاضے پورے نہ ہوجائیں تب تک کافر قرار دینے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں یہاں تک کہ علماء نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کے کلام میں ایک سو پہلو ہوں اور ان میں سے ننانوے پہلو کفر کے ہوں اور صرف ایک پہلو اسلام کا ہو تب بھی اس ایک پہلو کی رعایت کرتے ہوئے اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا جب تک وہ اپنی مراد خود متعین نہ کردے۔

سورہِ توبہ کی آیت نمبر66 سے معلوم ہونے والا ایک اہم مسئلہ:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں اِکراہ ِشرعی کے بغیر ایسے کلمات کہے جو عرف میں توہین اور گستاخی کے لئے متعین ہوں تو وہ نیت اور عدمِ نیت کے فرق کے بغیر قضاء ً اور دیانۃً دونوں طرح کافر ہے ۔

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس (مذکورہ بالا) آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے:

            اول: یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعویٰ رکھتا ہو، کلمہ گوئی اسے ہرگز کفرسے نہ بچائے گی۔

            دوم: یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تودل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے، جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں توہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں ، محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے، جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان (کا) بھی (دل سے تعلق ہے تو) زبان سے کلمہ پڑھنے پر (اسے) مسلمان کیسے کہا؟ (تو جس طرح زبان سے کلمہ پڑھنے پر اسے مسلمان کہا) یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا، اور جب (اس کا گستاخی کرنا) بغیر اکراہِ شرعی کے ہے تو اللہ کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا اگر چہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد (گستاخانہ کلمہ) کہنا ہزل وسُخْرِیَہْ ہے، اور اسی پر ربُّ العزت فرما چکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد۔

            سوم :کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں ، آیت فرما چکی کہ حیلہ نہ گھڑو تم کافر ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۷۲)

            ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’جو بلا اکراہ کلمۂ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقاً قطعا ًیقیناً اجماعاً کافر ہے ۔پھر اس پر فقہائے کرام کے جزئیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : فتاویٰ امام قاضی خاں وفتاویٰ عالمگیری میں ہے ’’رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافرا و لایکون عند اﷲ تعالٰی مؤمنا ‘‘ ایک شخص نے زبان سے حالت ِخوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن نہیں ہے۔(فتاوی عالمگیری،کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ۲ / ۲۸۳)

            حاوی میں ہے ’’من کفر باللسان و قلبہ مطمئن بالایمان فھوکافر و لیس بمؤمن عند اﷲ تعالٰی‘‘ جس نے زبان سے کفرکیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی مومن نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن