30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کام ہونا ہے کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب تم قریب والی جانب تھے اور وہ کافر دور والی جانب تھے اور قافلہ تم سے نیچے والی طرف تھا اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور مدت کے بارے میں تمہارا اختلاف ہوجاتا لیکن کیونکہ اللہ نے اس کام کو پورا کرنا تھا جسے ہوکر ہی رہنا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ بھی واضح دلیل سے زندہ رہے اور بیشک اللہ ضرور سننے والا جاننے والا ہے۔
{اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا:جب تم قریب والی جانب تھے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر بدر کی ا س جانب تھا جو مدینہ طیبہ سے قریب تھی اور کفار کا لشکر وادیٔ بدر کی دوسری جانب تھا جو کہ مدینہ طیبہ سے دور تھی جبکہ ابوسفیان وغیرہ کاتجارتی قافلہ وادیٔ بدر کے نچلی جانب تین میل کے فاصلے پر ساحلِ سمند ر کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پہلے سے وقت مقرر کئے بغیر کفار کے مقابلے میں لا کھڑا کیا، اس میں حکمت یہ تھی کہ اگر مسلمان اور کفار جنگ کا کوئی وقت معین کر لیتے پھر مسلمان اپنی قلیل تعداد، بے سروسامانی، کفار کی کثیر تعداد اور ان کے سامان کی کثرت دیکھتے تو ہیبت و خوف کی وجہ سے ہمت ہار بیٹھتے اور میدانِ جنگ سے کترا کر نکل جاتے لیکن مدت مقرر کئے بغیر لڑائی اس لئے ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام و مسلمین کی مدد اور دشمنانِ دین کی ہلاکت کا کام پورا کرنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وقت مقرر کئے بغیر ہی جمع کردیا۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۲، ۲ / ۱۹۸)
{لِیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ:تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل سے ہلاک ہو۔}غزوۂ بدر کی ابتداء میں مسلمانوں کے لشکر کی حالت یہ تھی کہ مجاہدین اسباب کی کمی اور تیاری نہ ہونے کی وجہ سے خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا تھے، ان کی جائے قیام پانی سے دور تھی، زمین ریتلی ہونے کی وجہ سے اس میں پیر دھنس جاتے تھے، جبکہ لشکر ِکفار کا حال یہ تھا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، کھانے پینے کا سامان اور ہتھیار ان کے پاس وافر مقدار میں موجود تھے اور وہ پانی کے قریب ٹھہرے ہوئے تھے، ان کی زمین ریتلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے چلنا آسان تھا مزید یہ کہ ان کے پیچھے ابو سفیان کا قافلہ تھا جس سے بَوقتِ ضرورت انہیں مدد حاصل ہونے کی امید تھی یوں بظاہر حالات کافروں کے موافق اور مسلمانوںکے مخالف تھے۔ جب دونوں لشکروں کی آپس میں جنگ ہوئی تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے نقشہ ہی بدل دیا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو بہت بڑی فتح نصیب ہوئی اور کفار بد ترین شکست سے دوچار ہوئے۔ مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست تاجدارِ انبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عظیم معجزہ اور نبوت کے دعویٰ کی صداقت پر مضبوط دلیل ہے کیونکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں کو فتح کی بشارت دی اور فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز مسلمانوں کو نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فتح کی بشارت اس وقت دی تھی کہ جب ظاہری اور مادی طور پر مسلمانوں کی فتح کے کوئی آثار نہ تھے ،یوں بدر کی فتح سے نبیِّ آخر الزّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کی سچائی ظاہر ہو گئی اور اسلام کی صداقت پر مضبوط دلیل قائم ہو گئی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اب جو کفر اختیار کر کے ہلاکت میں پڑے گا تو دلیل قائم ہونے اور حجت پوری ہوجانے کے بعد ہلاکت میں پڑے گا اور جو اسلام قبول کر کے زندگی حاصل کرے گا تو وہ دلیل قائم ہونے کے بعد کرے گا۔(تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۲، ۵ / ۴۸۷)
اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًاؕ-وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ اے محبوب اللہ تمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھوڑا دکھاتا تھا اور اے مسلمانو اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے مگراللہ نے بچا لیا بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے اور اگر وہ ان کو زیادہ کرکے تمہیں دکھاتا تو اے مسلمانو! تم ضرور بزدل ہوجاتے اور تم ضرور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے سلامت رکھا، بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔
{اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا:(اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے۔} یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ نبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی تعداد تھوڑی دکھائی گئی اور آپ نے اپنا یہ خواب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے بیان کیا تواس سے ان کی ہمتیں بڑھیں اور اپنے ضعف و کمزوری کا اندیشہ نہ رہا اور انہیں دشمن پر جرأت پیدا ہوئی اور دل مضبوط ہوئے۔ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا خواب حق ہوتا ہے، آپ کو کفار تھوڑے دکھائے گئے تھے اور ایسے کفار جو دنیا سے بے ایمان جائیں اور کفر ہی پر ان کا خاتمہ ہو وہ تھوڑے ہی تھے کیونکہ جو لشکر مقابلے میں آیا تھا اس میں کثیر لوگ وہ تھے جنہیں اپنی زندگی میں ایمان نصیب ہوا اور خواب میں قِلَّت کی تعبیر ضُعف سے ہے ،چنانچہ اللہتعالیٰ نے مسلمانوں کو غالب فرما کر کفار کا ضعف ظاہر کردیا۔ (صاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳ / ۷۶۸)
وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًاؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠(۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان: او ر جب لڑتے وقت تمہیں کا فر تھوڑے کرکے دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب لڑتے وقت اللہ تمہیں وہ کافر تمہاری نگاہوں میں تھوڑے کرکے دکھا رہا تھا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھوڑا کردیا تاکہ اللہ اس کام کوپورا کرے جسے ہوکر ہی رہنا ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا رجوع ہے۔
{وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا: اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب لڑتے وقت اللہ نے تمہیں وہ کا فر تمہاری نگاہوں میں تھوڑے کرکے دکھائے۔} بدر کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کئی طرح کے انعامات فرمائے ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار بہت تھوڑے کر کے دکھائے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ وہ کافر ہماری نگاہوں میں اتنے کم لگے کہ میں نے اپنے برابر والے ایک شخص سے کہا کہ تمہارے گمان میں کافر ستر ہوں گے اس نے کہا کہ میرے خیال میں سو ہیں حالانکہ وہ ایک ہزار تھے۔ اور کافروں کی نظروں میں مسلمانوں کو بہت تھوڑا کر کے دکھایایہاں تک کہ ابوجہل نے کہا کہ’’ انہیں رسیوں میں باندھ لو،گویا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کو اتنا قلیل دیکھ رہا تھا کہ مقابلہ کرنے اور جنگ آزما ہونے کے لائق بھی خیال نہیں کرتا تھا ۔ مسلمانوں کو مشرکین تھوڑے دکھانے میں حکمت یہ تھی کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خواب کی صداقت ظاہر ہو جائے، مسلمانوں کے دل مضبوط ہو جائیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع