30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔
{لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ:اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو۔} جب مسلمانوں کو مشرکین سے تَرک ِمُوالات کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے باپ بھائی وغیرہ قرابت داروں سے ترک ِتعلق کرے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار سے موالات یعنی قلبی محبت کا تعلق جائز نہیں چاہے ان سے کوئی بھی رشتہ ہو۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ۲ / ۲۲۴)
کافروں اور بد مذہبوں سے دور رہا جائے:
اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں یعنی کافروں ، بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ،رسم وراہ، مَوَدَّت ومحبت اُن کی ہاں میں ہاں ملانا اُن کی خوشامد میں رہنا سب ممنوع ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ‘‘ (ھود:۱۱۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ظالموں کی طرف نہ جھکوورنہ تمہیں آگ چھوئے گی ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے
’’وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ (انعام:۶۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اوراگر شیطان تمہیں بھلادے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ان سے الگ رہو، انہیں اپنے سے دور رکھو، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں ، وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ (مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحمّلہا، ص۹، الحدیث: ۷(۷))
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْہُمْ وَاِنْ مَاتُوْا فَلَا تَشْہَدُوْہُمْ‘‘ اگر یہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرنا اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شامل نہ ہونا۔(ابو داؤد، کتاب السنّۃ،۴ / ۲۹۴، الحدیث: ۴۶۹۱)
یہی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بھی مروی ہے، اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں ’’وَاِنْ لَقِیْتُمُوْہُمْ فَلَا تُسَلِّمُوْا عَلَیْہِمْ‘‘اور اگر تم ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو! (ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب فی القدر، ۱ / ۷۰، الحدیث: ۹۲)
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب فرمایا ہے ، انہیں میرا ساتھی اور قریبی عزیز بنایا ہے۔ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شان میں گستاخی کریں گے اور انہیں برا بھلاکہیں گے، اگر تم انہیں پاؤ تو ان کے ساتھ نکاح کرنا، نہ ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے ساتھ نماز پڑھنا اور نہ ان پر نماز پڑھنا۔( کنز العمال، کتاب الفضائل، ذکر الصحابۃ وفضلہم رضی اللہ عنہم اجمعین، ۶ / ۲۴۶، الحدیث: ۳۲۵۲۵، الجزء الحادی عشر)
ان آیات و اَحادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ بد مذہبوں کے سائے سے بھی کوسوں دور بھاگیں چہ جائیکہ ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں ، ان کی دعوتوں میں اور ان کی شادی غمی میں شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیاد ہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیاد ہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے محبوب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جنہوں نے رشتہ داروں سے ترک ِتعلق کے بارے میں کلام کیا آپ ان سے فرما دیں کہ اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں ، تمہارا خاندان ، تمہاری کمائی کے مال او ر وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیاد ہ محبوب ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لائے اور اللہ تعالیٰ مشرکین سے مُوالات کے معاملے میں نافرمانی کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۲۲۴، روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۴۰۳، ملتقطاً)
اللہ تعالٰی اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے زیادہ کسی کو عزیز نہ رکھا جائے:
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں کوئی معزز، کوئی عزیز، کوئی مال، کوئی چیز اللہو رسول سے زیادہ محبوب ہو، وہ بارگاہِ الہٰی سے مردود ہے ،اسے اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی طرف راہ نہ دے گا ،اسے عذابِ الہٰی کے انتظار میں رہنا چاہیے، وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی۔ تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :’’تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، او لاد اور سب آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوں۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب حبّ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان، ۱ / ۱۷، الحدیث: ۱۵، مسلم، باب وجوب محبّۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر من الاہل۔۔۔ الخ، ص۴۲، الحدیث: ۷۰(۴۴)))اس نے تو بات صاف فرما دی کہ جو حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے زیادہ کسی کوعزیز رکھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع