30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کوہدایت نہیں دیتا۔
{سِقَایَةَ الْحَآجِّ:حا جیوں کو پانی پلانے (والے) کو۔} اس آیت سے مراد یہ ہے کہ کفار کو مؤمنین سےکچھ نسبت نہیں اور نہ اُن کے اعمال کو اِن کے اعمال سے کوئی نسبت ہے کیونکہ کافر کے اعمال رائیگاں ہیں خواہ وہ حاجیوں کے لئے سبیل لگائیں یا مسجدِ حرام کی خدمت کریں ،ان کے اعمال کو مومن کے اعمال کے برابر قرار دینا ظلم ہے۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۳۰، ملخصاً) شانِ نزول: روزِ بدر جب حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گرفتار ہو کر آئے تو انہوں نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے کہا کہ تم کو اسلام اور ہجرت و جہاد میں سبقت حاصل ہے تو ہم کو بھی مسجدِ حرام کی خدمت اور حاجیوں کے لئے سبیلیں لگانے کا شرف حاصل ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آگاہ کیا گیا کہ جو عمل ایمان کے ساتھ نہ ہوں وہ بے کار ہیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۲۲۳)
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْۙ-اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال جان سے اللہ کی راہ میں لڑے اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے اور وہی مراد کو پہنچے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
{وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ:اورجنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔} جہاد کی تین صورتیں ہیں : (1) فقط جان سے جہاد کرنا۔ جیسے مَساکین کرتے تھے۔ (2) فقط مال سے جہاد کرنا۔ جیسا کہ معذور مالدار مومن کا عمل کہ غازی کو گھوڑا وغیرہ دے دیتے تھے۔ (3) جان و مال دونوں سے جہاد کرنا۔ جیسا کہ غنی قادر مسلمان جو کہ دوسرے مسکین غازیوں کو سامان بھی دیتے اور خود بھی میدا ن میں جاتے تھے اور ان کے اپنے جانے پر بھی خرچہ ہوتا۔ یہ آیتِ کریمہ ان تینوں مجاہدوں کو شامل ہے۔ اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں اگرچہ دونوں اللہ تعالیٰ کے پیارے اور دونوں کامیاب ہیں۔
یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ(۲۱) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور باغوں کی بشارت دیتا ہے، ان کے لئے ان باغوں میں دائمی نعمتیں ہیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
{یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ:ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور باغوں کی بشارت دیتا ہے۔} علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : یہ اعلیٰ ترین بشارت ہے کیونکہ مالک کی رحمت و رضا بندے کا سب سے بڑا مقصد اور پیاری مراد ہے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۱، ۲ / ۲۲۴)
راہِ خدا میں جہا د کرنے والے مسلمانوں کے لئے بڑی پیاری تین بشارتیں :
اِس آیت میں ایمان قبول کرنے کے بعد ہجرت کرنے اور اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تین بڑی پیاری بشارتیں جمع کی گئی ہیں۔
(1،2)… انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رضا نصیب ہو گی۔حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرتا رہتا ہے، وہ اسی جُستجو میں رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام سے فرماتا ہے’’ میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے ، آگاہ رہو کہ اس پر میری رحمت ہے۔ تب حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام کہتے ہیں : فلاں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، یہ ہی بات عرش اٹھانے والے فرشتے کہتے ہیں ،یہ ہی ان کے اردگرد کے فرشتے کہتے ہیں حتّٰی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں ،پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے۔(مسند امام احمد، مسند الانصار، ومن حدیث ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ، ۸ / ۳۲۸، الحدیث: ۲۲۴۶۴)
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’ بے شک اللہ تعالیٰ اہلِ جنت سے ارشاد فرمائے گا ’’اے اہلِ جنت!وہ عرض کریں گے :اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہم حاضر اور مُستَعِد ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ’’کیا تم راضی ہو؟ جنتی عرض کریں گے :ہم کیوں نہ راضی ہوتے جبکہ تو نے ہمیں وہ عطا فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ’’میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز عطا فرمانے والا ہوں۔ جنتی عرض کریں گے: اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، کون سی چیز اس سے افضل ہے؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ میں نے اپنی رضامندی کو تمہارے لئے حلال کر دیا لہٰذا اس کے بعد تم پر کبھی ناراضگی نہیں ہو گی۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنّۃ والنار، ۴ / ۲۶۰، الحدیث: ۶۵۴۹)
(3)… وہ جنت میں ہمیشہ کے لئے قیام کریں گے۔ جہنم سے بچائے جانے اور جنت میں داخل کئے جانے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ‘‘ (اٰل عمران:۱۸۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔
{خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا:وہ ہمیشہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے ۔} یہ آیتِ کریمہ بَظاہر مہاجرین صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے لئے ہے، ان بزرگوں کا جنتی ہونا یقینی ہے۔ ان میں سے بعض کا تو نام لے کر جنتی ہونے کا اعلان فرما دیا گیا جیسے حضرات عَشرہ مُبَشَّرہ وغیرہم۔ معلوم ہوا کہ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی وہ عظمت ہے کہ ان کیلئے رحمت ، جنت ور رضائے الہٰی کی بشارتیں بطورِ خاص قرآنِ پاک میں دی گئی ہیں ، لہٰذا جو صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ایمان یا تقویٰ کا انکار کرے وہ اس آیت کا منکر ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع