30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاصل نہیں کرتے اور دفاعی، تجارتی اور دیگر امور میں مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرنے کے مقابلے میں کفار کے ساتھ معاہدے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اس میں انہیں کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ -اِنَّهُمْ سَآءَمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کی آیتوں کے بدلے تھوڑے دام مول لیے تو اس کی راہ سے روکا بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لے لی اور اس کے راستے سے روکا۔ بے شک یہ بہت برے عمل کرتے ہیں۔
{اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا:انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لے لی۔} یعنی انہوں نے قرآنِ پاک کی آیات اور ان پر ایمان لانے کے بدلے دنیا کا تھوڑا سا مال لے لیا اور ان کے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مابین جو عہد تھا اسے ابو سفیان کے تھوڑے سے لالچ دینے سے توڑ دیا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین میں داخل ہونے سے روکا۔ بے شک یہ شرک، عہد شکنی اور لوگوں کو دینِ اسلام میں داخل ہونے سے روک کر بہت برے عمل کرتے ہیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۲ / ۲۱۹)
لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةًؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ(۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان: کسی مسلمان میں نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا اور وہی سرکش ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کسی مسلمان کے بارے میں نہ رشتے داری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی معاہدے کااور یہی لوگ سرکش ہیں۔
{لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ:کسی مسلمان کے بارے میں رشتے داری کا لحاظ نہیں کرتے ہیں۔} یعنی جن مشرکین نے معاہدے کی خلاف ورزی کی یہ کسی مسلمان کے بارے میں نہ رشتے داری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی معاہدے کا بلکہ جب موقع پائیں قتل کر ڈالتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ جب ان مشرکین پر دَسْترس پائیں تو ان سے درگزر نہ کریں اور یہی مشرک لوگ عہدشکنی میں حد سے بڑھنے والے ہیں۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۲ / ۲۱۹)
فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِؕ-وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دین میں بھائی ہیں اور ہم جاننے والوں کے لیے تفصیل سے آیتیں بیان کرتے ہیں۔
{ فَاِنْ تَابُوْا:پھر اگر وہ توبہ کرلیں۔} یعنی اگر وہ مشرکین شرک سے ایمان کی طرف اور عہد شکنی سے وفائے عہد کی طرف لوٹ آئیں اور جو نمازیں ان پر فرض ہوں انہیں تمام شرائط و اَرکان کے ساتھ ادا کریں اور جو زکوٰۃ ان پر فرض ہو اسے خوش ہوکر دیں تو وہ تمہارے اسلامی بھائی ہیں ان کے لئے بھی وہی احکام ہیں جو تمہارے لئے ہیں ، انہیں بھی وہی چیزیں منع ہیں جو تمہیں منع ہیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۲۱۹)
{وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ:اور ہم جاننے والوں کے لیے تفصیل سے آیتیں بیان کرتے ہیں۔} یعنی ہم عہد شکنی کرنے والے اور دیگر مشرکین کے احوال اور کفر و ایمان کی حالت میں ان کے احکام سے متعلق آیات ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو انہیں جانتے اور سمجھتے ہیں۔ (روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳ / ۳۹۲)
وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىٕمَّةَ الْكُفْرِۙ-اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگرمعاہدہ کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑو، بیشک ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں (ان سے لڑو) تا کہ یہ باز آئیں۔
{وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ:اور اگرمعاہدہ کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں۔ } یہاں حکم دیا گیا کہ اگر کفار معاہدہ توڑ دیں اور مسلمانوں کے دین میں طعن و تشنیع کریں تو پھر کوئی عہد باقی نہیں بلکہ اب ان کا فیصلہ میدانِ جنگ میں ہی ہوگا۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۲۲۰)
دین میں طعنہ زنی سے کیا مراد ہے؟
دین میں طعنہ زنی سے مراد یہ ہے کہ دینِ اسلام کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو دینِ اسلام کے شایانِ شان نہیں یا ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کو ہلکا جان کر اس پر اعتراض کرنا۔اسی طرح نماز اور حج پر طعنہ زنی کرنا، قرآن اور ذکرِ رسول پر طعنہ زنی کرنا یا رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ پاک میں گستاخی کرنا سب اس میں داخل ہے۔ (تفسیر قرطبی، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴ / ۱۷، الجزء الثامن، روح المعانی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵ / ۳۵۳، ملتقطاً)
آیت’’وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں :
(1)… جن مشرکین سے معاہدہ کیا گیا ہو تو اس معاہدے کے قائم رہنے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ہمارے دین پر اعلانیہ طعنہ زنی نہ کریں اور اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں یا قرآن سے متعلق کسیگستاخی کے مُرتَکِب ہوں تو ان کا معاہدہ ختم اور ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ (احکام القرآن للجصاص، سورۃ التوبۃ، ۳ / ۱۱۰، ملخصاً)
(2)… کفار کے ساتھ جنگ کرنے سے مسلمانوں کی غرض ان کے ذاتی مفادات نہیں بلکہ انہیں کفرو بداعمالی سے روکنا ہے اور یہی اسلامی جہاد کا سب سے اہم مقصد ہے۔
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍؕ-اَتَخْشَوْنَهُمْۚ-فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع